حامد پور کنورہ، 3بچوں کی ہلاکت کے بعد والد کی مبینہ خودکشی

حامد پور کنورہ، 3بچوں کی ہلاکت کے بعد والد کی مبینہ خودکشی

  

ملتان، بستی ملوک(خصوصی رپورٹر، نمائندہ پاکستان) ملتان کے نواحی علاقے حامد پور کنورہ کی بسم اللہ کالونی میں 3 بچوں کی ہلاکت کے بعد ان کے باپ خادم حسین کی (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

جانب سے مبینہ خودکشی نے اس کیس کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، پانچ دنوں میں غریب محنت کش سمیت چار افراد موت کے منہ میں چلے گئے پولیس کی جانب سے تفتیش میں تاخیری نے محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں خادم حسین کا پوسٹ مارٹم آج ہو گا، تفصیل کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز حامد پور کنورہ  کی بسم اللہ کالونی میں محنت کش خادم حسین کے گھر میں اس کے دو بچوں 11 سالہ طاہرہ، 9 سالہ دانش کی مبینہ طور پر ڈاکٹر کی دوائی کھانے سے موت واقع ہو گئی جبکہ اس کے چھوٹے بیٹے 5 سالہ مبین کو تشویشناک حالت میں نشتر داخل کرایا گیا محنت کش خادم حسین اور اسکی بیوی نے متعلقہ تھانے اور دیگر متعلقہ اداروں کو بیان دیا کہ تینوں بچوں کو کھانسی تھی جن کی علاقے کے مقامی ڈاکٹر سلیم سے دوائی لی ان دوائی کی پڑیاں کھانے سے دوبچوں کی موت واقع ہوئی اور تیسرا تشویشناک حالت میں نشتر داخل ہے پولیس اور دیگر اداروں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے اتائی ڈاکٹر سلیم کو گرفتارکر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا دو بچوں کا پوسٹ مارٹم مکمل نہ ہوا تھا کہ تیسرا بچہ 5 سالہ مبین بھی دم توڑ گیا بچوں کے اعضا کے نمونے پنجاب فرانزک لیب کو بھجوائے گئے بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا پولیس نے واقعے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیم کے ساتھ ساتھ  بچوں کے والدین کو بھی شامل تفتیش کیا گزشتہ روز بھی پولیس تھانہ مظفرآباد نے خادم حسین اور اس کی بیوی سمیرا بی بی کو بلا کر ان سے تفتیش کی اور ڈاکٹر سے لی جانے والی دوائی کی پڑیاں طلب کیں، پولیس کے مطابق دونوں میاں بیوی نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے وہ دوائی پھینک دی ہے جس پر پولیس نے ان کی بتائی ہوئی جگہ پر جا کر دوائی کی پڑیاں تلاش کیں لیکن کچھ نہ ملا ادھر بچوں کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کو ڈاکٹر نے پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ سے مشروط کیا تھا بدھ کے روز پولیس کو اور ریسکیو کو خادم حسین کے رشتے دار یوسف نے کال کر کے اطلاع دی کہ خادم حسین کی حالت خراب ہے لگتا ہے اس نے کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے ایس ایچ او تھانہ مظفرآباد راجہ اکبر کے مطابق خادم حسین کو تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا   پولیس کے مطابق تین بچوں کی ہلاکت کے بعد خادم حسین کی ہلاکت نے معاملہ کو پیچیدہ کر دیا ہے تاہم اصل حقائق تفتیش کے دوران سامنے آئیں گے خادم حسین کا  پوسٹ مارٹم آج جمعرات کو ہوگا جس کے بعد اس کے اعضا کے نمونے بھی پنجاب فرانزک لیب کو بھجوائے جائیں گے پولیس کی جانب سے اتنے بڑے سانحے کی اس قدر سست روی سے تفتیش کئی سوال پیدا کر رہی ہے ملتان میں تین بچوں کی پراسرارہلاکت کے بعد والد کی بھی پراسرارحالات میں مبینہ خود کشی، پولیس تفتیس نے نیا رخ اختیارکرلیا، جہاں پہلے تین معصوم بچے پانچ سالہ مبین، سات سالہ طاہرہ، نوسالہ دانش جنہوں نے پراسرارحالات میں دم توڑدیا جس پرضلعی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرکی جانب سے دی جانے والی دوائی کوموت کی وجہ قراردیا گیا بدھ کی صبح تین معصوم بچوں کے والد 45 سالہ خادم حسین نے بھی پراسرارحالات میں مبینہ طورپرزہریلی دوائی پی کرخود کشی کرلی جس سے پولیس تفتیش نے ایک نیا رخ اختیارکرلیا ہے،ملتان پولیس نے اس واقعہ میں پولیس نے ہومیوپیتھ ڈاکٹرکے ساتھ ساتھ والدین کوبھی شامل تفتیش کرلیا تھا، گزشتہ روز بھی پولیس نے کیس کی تفتیش کیلئے دونوں میاں بیوی کوتھانے بلاکرپوچھ گچھ کی تھی ادھرایک ہی گھرکے تین معصوم بچوں کے بعد والد کی موت کے باعث رشتہ دار اوراہل علاقہ سوگ میں ہیں، اورانصاف کے طلب گار ہیں تھانہ مظفر آباد کے علاقے مصطفی ٹاون کے رہائشی 43سالہ خادم حسین نے طبعیت ناساز ہونے پر زہریلی گولیاں کھالیں۔جسے تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا۔جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔متوفی کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی بیوی سمیرا نے ایک نامعلوم شخص کے ساتھ مل۔کر خادم حسین کو زہریلی گولیاں کھلائی ہیں۔جس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔تھانہ مظفر آباد پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کرانے کے لئے نشتر ہسپتال کے سرد خانہ منتقل کر کے متوفی خادم حسین کی بیوی سمیرا اور ساس کو شامل تفتیش کر لیا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل متوفی خادم حسین کے تین کمسن بچے نجی ہسپتال میں دوران علاج مبینہ طور پر ہسپتال عملہ کی طرف سے مبینہ طور پر زہریلا سیرپ پلانے سے جاں بحق ہو گئے تھے۔تھانہ مظفر آباد میں متوفی خادم حسین اور محکمہ صحت کی طرف سے ہسپتال کے مالک ڈاکٹر کے خلاف الگ الگ مقدمہ درج کرایا گیا تھا اور ڈاکٹر مظفر آباد پولیس کی حراست میں ہے۔

خودکشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -