اسلام آباد جیسے دارالخلافہ میں صحافی محفوظ نہیں: ثمر ہارون بلور

  اسلام آباد جیسے دارالخلافہ میں صحافی محفوظ نہیں: ثمر ہارون بلور

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں صحافی محفوظ نہیں تو ٹانک، پشاور اور وزیرستان میں کیسے محفوظ ہوں گے۔ صحافی اسد علی طور سمیت دیگر صحافیوں پر حالیہ حملے حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی اور بل لانے کے دعووں کی نفی ہے۔ اے این پی نا صرف صحافی اسد علی طور پر حملے اور تشدد کی بھرپور مذمت کرتی ہے بلکہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے جو صحافیوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مکمل تحقیقات کرے۔ موجودہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ پشاور پریس کلب میں اے این پی کی انفارمیشن کمیٹی اراکین رحمت علی خان، تیمورباز خان اور حامد طوفان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ضم اضلاع کئی دہائیوں تک محرومی کا شکار رہے ہیں، موجودہ حکومت ان ضلاع میں اے ڈی آر ایکٹ نافذ کر کے ان کو مزید محرومیوں سے دوچار کرنا چاہتی ہے۔ اے ڈی آر کا نفاذ موجودہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد اور ایک مساوی نظام لانے کے مترادف ہے۔  عوامی نیشنل پارٹی اے ڈی آر کو ایف سی آر کی ایک نئی شکل سمجھتی ہے اور اس میں موجود پیچیدگیاں ضم اضلاع کی مشکلات حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے ڈی آر کے رو سے عدالتوں میں زیر سماعت کوئی بھی فوجداری یا دیوانی مقدمہ کسی بھی وقت اے ڈی آر کمیٹی کے سپرد کیا جاسکتا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔ کمیٹی اراکین کو مستقبل میں سول اور کرمنل مقدموں سے استثنی ان کو ہر قسم کا جائز ناجائز فیصلے کرنے کی چھوٹ دیتی ہے جو کہ  انصاف کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اے ڈی آر ایکٹ کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے اور مطالبہ کرتی  ہے کہ ان اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو مضبوط کیا جائے اور تمام اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کئے جائیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان اضلاع میں ضلع انتظامیہ کے دفاتر اور دیگر انفراسٹرکچر کا قیام عمل میں لائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں احتساب کا دوہرا معیار چل رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے جن لوگوں نے اپنی جماعت کی کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی ان کو عہدوں سے ہٹادیا گیا۔جبکہ پنجاب میں چینی سکینڈل میں ملوث پی ٹی آئی کے عہدیداران اور اراکین اسمبلی کو این آر او دے دیا  اور برائے نام تحقیقات کے لئے ایک رکنی کمیشن بنادیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم بارے ثمرہارون بلور نے کہا کہ پی ڈی ایم میں دراڑ چند مخصوص لوگوں کے روئیوں اور فیصلوں کی وجہ سے پڑی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کا دوٹوک موقف ہے کہ جب تک  اے این پی سے شوکاز نوٹس پر معافی نہیں مانگی جاتی پی ڈی ایم میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ معیشت اور جی ڈی پی  بارے حکومت کے حالیہ اعداد وشمار لفظوں کے ہیر پھیر کے سوا کچھ نہیں۔ ملک میں جاری حالیہ مہنگائی اور بے روزگاری  تحریک انصاف کے دعووں کی نفی ہے۔ سارا پاکستان جانتا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ اعداد وشمار کے جادوگر ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی جی ڈی پی کو  تین اعشاریہ نودو پر لے جانے کی بات کررہی ہے تو دوسری جانب غریبوں کا چولہا بجھ رہا ہے اور لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ لوگوں کی حکومت میں پٹرول 80 روپے فی لیٹر تھا جو موجودہ صاف شفاف حکومت میں 110 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح چینی 55 سے 110 روپے، گھی 140 سے 280روپے، چاول 55 سے 150روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  2018 میں ملک کا مجموعی قرضہ 30 ہزار ارب تھا جو تحریک انصاف کے تین سالہ حکومت میں بڑھ کر 45 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔موجودہ حکومت نے تین سال میں سالانہ 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ2013 میں خیبر پختونخوا کا مجموعی قرضہ 88 ارب تھا جو اب 400 ارب تک پہنچ گیا۔ اے این پی نے اپنے دورحکومت میں نا صرف قرضہ واپس کیا بلکہ یونیورسٹیوں، کالجز اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی شکل میں صوبہ بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -