ایم ٹی آئی ایپلٹ ٹربیونل کے قیام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا 

ایم ٹی آئی ایپلٹ ٹربیونل کے قیام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا 

  

 پشاور(نیوز رپورٹر) میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) ایپلیٹ ٹربیونل کے قیام کو پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا جبکہ اس حوالے سے دائر رٹ میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری ہیلتھ، ایڈوکیٹ جنرل، چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر نوشیروان برکی اوردیگر کو فریق بنایاگیا ہے۔ ٹربیونل  کے قیام کیخلاف رٹ میاں محب اللہ کاکاخیل ایڈوکیٹ نے دائر کی ہے جس میں موقف اپنایاگیا ہے کہ ٹربیونل کو غیرقانونی اور غیرآئینی طور پر بنایاگیا ہے اور اسکے قیام سے قبل قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیاہے۔ اس مقصد کیلئے رولز میں ترامیم کی گئی ہیں جو کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہے جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسمبلی ایکٹ خودکفیل ہوناچاہیے اور اس میں متعلقہ اتھارٹی کے اختیارات کا تعین اورگائیڈلائنزبھی ہونی چاہیے۔تاہم ٹربیونل کو خفیہ طریقہ کارکے تحت قائم کیا گیا ہے جس کیلئے ایم ٹی آئی ایکٹ 2015میں سیکشن 16اے شامل کیا گیااوراس میں کئی اہم معاملات کو نظرانداز کیا گیاہے۔ رٹ میں سوال اٹھایاگیا ہے کہ کیا ٹربیونل  سے متعلق کابینہ کو اعتماد میں لیا گیاہے؟ اور کیا یہ ترامیم راتوں رات نہیں لائی گئیں اور کیااس کیلئے غیرقانونی رولزوضع نہیں کئے گئے؟ ٹربیونل  کے چیئرمین کی تقریری کیلئے عمر کی حد 66سال 4ماہ ہے جبکہ رولز کے مطابق 65سال سے کم عمر شخص کی تقرری کی جائیگی۔ درخواست گزارمیاں محب اللہ ایڈوکیٹ کے مطابق چیئرمین جسٹس (ر) ناصر حسین 2017میں ریٹائرڈ ہوئے تھے اور وہ زائد العمر ہیں، اس طرح الزام لگایا گیا ہے کہ ایم ٹی آئی ٹربیونل  قائم کیا گیا تاکہ اپنے مرضی کے چیئرمین اور ممبرز کی تعیناتی کی جاسکے۔ درخواست گزار وکیل نے پشاورہائیکورٹ سے ٹربیونل  کے قیام کو غیرآئینی قراردینے کی استدعا کی ہے۔ کیس پر سماعت 15جون کو مقرر کی گئی ہے۔   

مزید :

پشاورصفحہ آخر -