مخالفین پر حملے، فائرنگ، تشدد کچہریاں ”فیورٹ پوائنٹ“: ملزم منٹوں میں غائب 

مخالفین پر حملے، فائرنگ، تشدد کچہریاں ”فیورٹ پوائنٹ“: ملزم منٹوں میں غائب 

  

  ملتان (  خصو صی رپورٹر  ) جنوبی پنجاب کی کچہریوں میں پولیس کی کم نفری کے باعث سیکورٹی مسائل بڑھنے لگے۔آئے روز لڑائی جھگڑوں کے سنگین واقعات نے سیکورٹی انتظامات کا پول کھول دیا۔چند روز قبل ضلع کچہری میں پولیس اور زیر حراست ملزمان پر چار (بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

افراد نے تشدد کیا جبکہ پو لیس نے ایک کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ تین ملزمان فرار ہو گئے گزشتہ ماہ کے دوران ضلع کچہری ملتان میں مقدمہ کی پیروی پر آئی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تفصیل کے مطابق پنجاب بھر کی عدالتوں میں سیکورٹی کے انتظامات فل پروف بنانے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت اور لڑائی جھگڑے کے واقعے کو بروقت روکا جاسکے لیکن اس سب کے باوجود لڑائی جھگڑے کے سنگین واقعات رونما ہورہے ہیں دو ماہ قبل راجن پور کچہری میں مقدمہ کی سماعت کے دوران مدعی نے ملزم شاہد حسین کو گولی مارکر موت کے گھاٹ اتار کر کئی لوگوں کو زخمی کردیا تھا۔واک تھرو گیٹس کا غیر فعال ہونا واقعے کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے چونکہ اسلحہ سے لیس ملزمان کا کچہری داخل ہونا آسان ہدف سمجھا جانے لگا ہے۔ گزشتہ ماہ کے دوران ملتان کچہری میں بھی دو بار لڑائی کے واقعے پیش آئے جس میں ملزمان نے مقدمہ کی پیروی کے دوران تلخ کلامی پر ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ پسند کی شادی کرنیوالی خاتون کو سابقہ سسرالیوں نے سر عام ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے گھسیٹا تھا اور پولیس روایتی انداز میں دیر سے پہنچی تھی۔ بھاری رقم کے خرچ کرکے نصب کیے گئے کیمرے بھی غیر معمولی واقعات کی روک تھام نہیں کرسکے۔ اس بارے وکلا کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کئی بار کچہری میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی درخواست کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود سیکورٹی انتہائی کم ہے اور اسی وجہ سے عدالتوں میں فریقین کی لڑائیاں عام ہوچکی ہیں۔ راجن پور کا واقعہ بھی افسوس ناک ہے جس پر پنجاب بار کونسل نے وکلا کو ہڑتال کرنے کی کال دی ہے تاکہ ایسے دہشگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کراکے مطالبات تسلیم کرائے جاسکیں۔

وکلاء

مزید :

ملتان صفحہ آخر -