کرک پٹرولیم انسٹیٹیوٹ پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تا، تاج محمد خان ترند

کرک پٹرولیم انسٹیٹیوٹ پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تا، تاج محمد خان ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے جس کو بروئے کار لاکر صوبے کی معاشی ترقی ممکن بنائی جاسکتی ہے اور نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کئے جا سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے معاون خصوصی برائے توانائی و برقیات تاج محمد خان ترند نے خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی، چیف ایگزیکٹو آفیسر عثمان غنی خٹک ک سمیت متعدد افسران نے شرکت کی۔ معاون خصوصی برائے توانائی و برقیات تاج محمد ترند نے کہا کہ کرک پٹرولیم انسٹیٹیوٹ پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ کلاسز کا آغاز ممکن بنایا جاسکے۔ عثمان غنی خٹک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ پورے ملک کا 52 فیصد آئل، 12 فیصد گیس اور 38 فیصد ایل پی جی صوبہ خیبر پختونخوا کی پیداوار ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے پانچ بڑے تیل و گیس کے بلاکس میں سے چار میں خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کا حصہ ہے باراتھء بلاک سے ریونیو شروع ہوچکی ہے جس میں خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کا 2.5 فیصد حصہ ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی نے ایل پی جی مارکیٹنگ پر بھی کام کا آغاز کر دیا ہے جس کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں ایل پی جی کو ضلع سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سمیت ضم شدہ قبائلی اضلاع کو دینے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ تاکہ درختوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکا جا سکے۔ تاج محمد خان ترند کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی ایسے بلاکس میں محتاط سرمایہ کاری کریں جس میں کامیابی کے چانسز زیادہ ہوں تاکہ کمپنی صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -