وزیراعلٰی سندھ نے کچے کے علاقے میں گرینڈ آپریشن کا حکم دیدیا، عمران خان 5سال تن کے حکومت کرینگے: شیخ رشید 

وزیراعلٰی سندھ نے کچے کے علاقے میں گرینڈ آپریشن کا حکم دیدیا، عمران خان 5سال ...

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کراچی کسی مشن پر نہیں آیا،سندھ میں کوئی گورنر راج نہیں لگایا جا رہا، عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور عمران خان پانچ سال تن کے حکومت کرینگے۔امن و امان سندھ حکومت کا مسئلہ ہے، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اسے حل کریں گے۔بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی کے امن و امان کا جائزہ لینے آیا ہوں،رینجرزہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوگا،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کروں گا، امن و امان صوبے کا مسئلہ ہے، ملک میں اسے دکھایا جا رہا ہے جیسے سندھ جل رہا ہے، شکارپور تک جیکب آباد خون کی ہولی دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کسی مشن پر نہیں آیا،نادرا میں چور بازاری ہے، کرپشن کے ڈھیر لگے ہیں، نئے چیئرمین کے ساتھ مل کر اس کا صفایا کریں گے، بوگس شناختی کارڈز جاری کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی،سندھ میں کوئی گورنر راج نہیں لگایا جا رہا،گورنر سندھ اور حساس اداروں سے ملاقات صوبے میں امن و امان لانے کیلئے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی دوسرا گروپ نہیں، ٹی ایل پی اور رنگ روڈ پر کمیٹی بنا دی گئی ہے، جلد اچھی خبریں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے منشیات کا خاتمہ کروں گا،امن و امان سندھ حکومت کا مسئلہ ہے،ہم صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اسے حل کریں گے۔

شیخ رشید

کراچی،شکار پور (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)صوبائی حکومت نے اندرون سندھ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اہم معاملے پر پولیس حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو تفصیلی بریفنگ دیدی گئی ہے۔ پولیس حکام نے درخواست کی کہ انھیں اس گرینڈ آپریشن کیلئے ہیوی مشینری اور جدید اسلحہ بھی درکار ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کو آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس جوانوں کے فنڈز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ یہ آپریشن شکارپور، گھوٹکی، کشمور اور سکھر کے علاقے میں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سے گزارش کی گئی ہے کہ 3 نئی بکتر بند گاڑیاں اور جدید اسلحہ 24 گھنٹے میں فراہم کیا جائے جبکہ اہم جدید آلات بھی حکومت پولیس کو فراہم کرے۔زیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شکارپور اور کشمور کے اضلاع کے کچے علاقے میں ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک جامع اور بھرپور آپریشن کلین اپ شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پولیس کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے سے جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کریں اور مجھے اس کی رپورٹ پیش کریں۔ یہ بات انہوں نے بدھ کی صبح شکار پور میں ایس ایس پی کے دفتر میں کچے کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر، ریجنل پولیس آفیسر کامران فضل، کمشنر لاڑکانہ اورکمشنر سکھر شفیق میسر، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکار پور امیر سعود مگسی، ایس ایس پی کشمور امجد شیخ، ایس ایس پی لاڑکانہ عمران قریشی اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ پولیس آپریشن میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوٹو گرافر شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس علاقے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کرلی ہے اور پولیس کو ڈاکوں کے گروہوں کے خاتمے کے لئے ضروری ہدایت دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مراد علی  شاہ نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال  2008 میں خراب تھی اور صوبے میں کوئی شاہراہ محفوظ نہیں تھی۔ لوگ پولیس کے قافلوں میں سفر کرتے تھے۔ انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ میں ڈاکوں اور شاہراؤں  پر لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف متعدد کاروائیاں کی ہیں اور صوبے سے جرائم پیشہ افراد کا صفایا کردیاتھا۔ اب صوبے کی صورتحال بہت بہتر ہے لیکن کچے کے کچھ علاقوں میں پریشانیوں کا سامنا ہے جہاں ڈاکوں نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ان کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پچھلے آپریشنوں میں پولیس نے قابل ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پولیس اہلکار پروفیشنل ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ کچے کے علاقے میں ڈاکوں کے گروہوں کے خاتمے کے لئے کامیاب آپریشن کریں گے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کے مجوزہ دورے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں  وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ انہیں ان کے دورے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ مجھے میڈیا کے ذریعے اس بات کا علم ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ شکار پور کے کچے کے علاقے سمیت جہاں چاہیں دورے کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ کو امن و امان کے حوالے سے بتایا گیا کہ شکارپور ضلع کے کچے کے علاقے میں گڑھی ٹیگو اور بچل بھایو کے علاقے میں 149،000 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں جہاں 9 پولیس اسٹیشنز بشمول نیپر کوٹ، کوٹ شاہو، بچل بھایو، آباد ملانی، جھلی کلواڑی، تجو ڈیرو، جھبیر شیخ، 20 میل اور جمال پور فنکشنل تھے۔علاقے میں کچھ قبائلی جھگڑے جو بالآخر ختم ہوچکے ہیں مگر ایک دوسرے کے خلاف کشمکش پیدا کرنے  کے لیے  ڈکیتی، اغوا اور دیگر جرائم کرتے رہتے ہیں۔اس پر وزیر اعلی سندھ نے کمشنر لاڑکانہ کو ہدایت کی کہ کچے کے ان گاں کی نشاندہی کریں جہاں سڑکیں تعمیر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کی ترقی سے یہ علاقے خود بخود اوپن ہوجائیں گے۔ وزیر اعلی سندھ نے پولیس کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سے پہلے کی سرگرمیوں کے لیے  بیس کیمپس قائم کیے جانے چاہیے۔ مجرموں کو  ڈی ویپنائز کر کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے اور علاقے کو کلیئر کیا جائے۔ مسائل زدہ علاقوں میں خصوصی ٹیموں کے ذریعہ مناسب گشت شروع کیا جانا چاہئے۔ وزیراعلی سندھ نے انسپکٹر جنرل پولیس کو بہترین پولیس اہلکاروں کا انتخاب کرکے جنگی فورس تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ ڈاکوں کے خلاف آپریشن حتمی اور فیصلہ کن ثابت ہوسکے۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ بیلو تیغانی، خیر محمد خیرو، جھنگل تیغانی، مہر جتوئی جیسے ڈاکوؤں کے مختلف گروہ اغوا برائے تاوان، قتل و غارت، ڈکیتی اور بھتہ خوری میں ملوث تھے۔ مراد علی شاہ نے پولیس کو علاقے کو گھیرے میں لینے کی ہدایت کی تاکہ کوئی ڈاکو یا سہولت کار فرار نہ ہوسکے۔ آپریشن میں لڑاکا ٹیمیں اے پی سی کے ساتھ ساتھ اہداف کی طرف بڑھیں اور علاقے کو کلیئر کرنے کے بعد اگلے ہدف کی طرف بڑھیں۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوں کے خلاف آپریشن 23 مئی کی شام کو ڈاکوں کے قبضے سے چھ مغوی افراد کو بازیاب کروانے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں چھ اے پی سیز استعمال کی گئیں۔ اے پی سیز میں سے ایک اے پی سی کے چین/زنجیر سے راکٹ لانچر ٹکرانے کی وجہ سے وہ پھنس گئی۔ڈاکوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور ایک انسپکٹر سمیت آٹھ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے ڈاکوں سے نہ صرف چھ اغوا کاروں کو بحفاظت بازیاب کرایا بلکہ چھ ڈاکوں کو ہلاک اور اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرکیا، جس میں 12.7 ایم ایم بندوق، آر پی جی 7 راکٹ، ہینڈ گرنیڈ، متعدد G-3 تھری رائفلیں اور بڑی تعداد میں گولیاں شامل ہیں 

آپریشن کا حکم

مزید :

صفحہ اول -