وزیراعلٰی عوامی شخصیت، اداروں کو چوکسز رہنے کا پیغا م دیا ہے: کامران بنگش

وزیراعلٰی عوامی شخصیت، اداروں کو چوکسز رہنے کا پیغا م دیا ہے: کامران بنگش

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ وزیراعلی محمود خان عوامی شخصیت ہیں۔  انہوں نے اداروں کو چوکنہ رہنے کا پیغام دیدیا ہے وہ صوبے میں کسی بھی وقت کسی بھی ادارے اور افسر کو سرپرائز دے سکتے ہیں۔ وہ ہروقت عوام کے درمیان ان کی شکایات کے ازالے کیلئے موجود رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ پشاور میڈیکل کالج میں“تحقیق کی بنیاد پر بجٹ کی تخصیص میں محکمہ اعلی تعلیم کا کردار“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر پارلیمنٹری ویمن کاکس کی چئیرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کے علاوہ پشاور میڈیکل کالج کے فیکلٹی ممبران اور پرائم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت پرائم فاونڈیشن کے ممبران بھی موجود تھے۔ سوشل میڈیا پر انیس سو لیکچررز کی تقرری بارے میں چلنے والی خبروں سے متعلق معاون خصوصی نے بتایا کہ اگلے تعلیمی سال سے انیس سو لیکچررز کی تقرریاں کی جارہی ہیں۔  پبلک سروس کمیشن واک ان انٹرویو کررہا ہے، جس کیلئے انہیں اختیار حاصل ہے۔پبلک سروس کمیشن اپنے فیصلوں میں خودمختارہے، کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دونگا، میں درخواست کرونگا پبلک سروس کمیشن سے کہ طلباء کے تحفظات دورکرنے کیلئے ٹیسٹ لیا جائے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ صحت کارڈ عوامی فلاح اور خیرخواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میری درخواست پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کو بھی صحت کارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، اگلے بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن میں ریسرچ سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 2013 سے لیکر اب تک نئی چودہ جامعات قائم کی جاچکی ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت غریب پرور بجٹ پیش کریگی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی ہوگا، خیبر پختونخوا حکومت ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ پرائم فاونڈیشن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں۔ حکومت نجی شعبے کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔موجودہ حکومت سپیشلائزڈ اداروں کی ترویج اور قیام کی خواہاں ہیں۔ نجی یونیورسٹیاں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دی رہی ہیں۔ سائنٹیفک اور میڈیکل جامعات و کالجز کے قیام کو مقدم رکھتے ہیں۔ سائنس کی ترویج میں اکیڈیمیا اپنا فعال کردار ادا کریں۔ دنیا میں ترقی کیلئے تحقیق اور کمرشلائزیشن لازم و ملزوم ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ ہیپاٹائٹس سے بچاو کے ایچ بیگ ویکسینیشن کا معاملہ بھی کابینہ میں زیر بحث لایا جائے گا۔ سیمینار میں ہیپاٹائٹس بی کے پھیلاو، سدباب اور احتیاطی تدابیر بارے میں تحقیقی مقالے پر بحث ہوئی۔ چالیس فیصد خواتین اور والدین اپنے بچوں کیلئے ہیپاٹائٹس بی سے بچاو کی ویکسین نہیں خریدسکتے۔ ای پی آئی کی روٹین ویکسینیشن میں  ہیپاٹائٹس بی سے بچاو کی ایچ بیگ کی ویکسین کو بھی شامل کیا جائے 

مزید :

صفحہ اول -