اکادمی ادبیات کراچی کے زیراہتمام مشاعرے کا انعقاد 

   اکادمی ادبیات کراچی کے زیراہتمام مشاعرے کا انعقاد 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام”لیوتارکا نظریہء سبلائم مذاکرہ اور مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت اردو زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔مہمان خاص معروف شاعرہ پروین حیدر، ڈاکٹر لبنیٰ عکسی، ساغر ہاشمی فیصل آباد۔ڈاکٹر شاداب احسانی نے صداتی خطاب میں کہا کہ سبلائم کے حوالے سے ژاں فرانکوالیوتار کی آندر ے میلر اکس پر تحریر بعنوان’ساؤنڈپروف کمرہ:میلراکس کی ضد جمالیات‘اس وقت ہمارے پیش نظرہے۔ یہ لیوتار کی نہایت اہم تصنیف ہے۔اس میں لیوتانے میلراکس کے ادب کا سیاست اور جمالیات سے تعلق کو موضوع بحث بنایا ہے اور اس کی اپنے فکر کے منطقی تسلسل میں رکھ کر تفہیم کی ہے۔ میلر اکس کی سوانح کے حوالے سے اس نے وجودیاتی سولات کو خوبصورتی سے لہجے کی تیزی کے باوجود آرٹ کے اساسی اغراض کی عصریت سے آمیز کرکے واضح کیا ہے۔ میلر اکس کے انفرادی سیاسی یا جمالیاتی اشاروں کے گداز کی بھی نشاندہی کی ہے۔لیوتارکو اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ زبان نا قابل ابلاغ مواد کی ترسیل کے قابل نہیں۔ مابعدجدید کاظہور اس متبائین اور غیر متوازن صورت حال میں ہوا ہے۔ میلر اکس بھی اپنی زندگی کے معاملات اور تصانیف میں تکرار کے ساتھ اس قسم کے افتراقات سے نبردآزمانظر آتا ہے۔ یہ وہ افترافات ہیں جن کا اختتام بالآخر موت یا لایعنیت کے تجربے پر ہوتا ہے۔ میلر اکس اس تجربے کو تحفظ یا فرار کا واحد راستہ قراردیتا ہے۔لیوتار نے ’ساؤنڈپروف کمرے‘ میں میلراکس کی سوانح کو اس کے جمالیاتی قلب کے قریب رہ کر دیکھا ہے اور اس طرح تجربے کی حدود کی تلاش کے دوران سوانح کے واحد حاضر کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میلر اکس کی تصانیف کے حوالے سے رد جمالیات کا ذکر کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جمالیات ان چیزوں کا تجزیہ کرتی ہے جن کا ادراک ہم حواس کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہ چیزیں مادی صورتوں میں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ جمالیات کا تضمن وہ نفسیاتی رد عمل ہے جوآرٹ کے کام یا فطرت کے کسی مظہر سے دوچار ہوکر اُبھرتا ہے، جسے ذوق کا نام دیا گیا ہے۔ کانٹ نے اس تجربے کو Sensus comunisکہا ہے۔ اس کے برعکس لیوتار آرٹ کے مہیب ترفع کے تجربے کے ظہور میں آنے کی بات کرتا ہے۔ مہیب ترفع کا تجربہ جونا قابل استحضار سے ہم کنار ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر لبنیٰ عکس نے کہا کہ لیوتار کے فلسفہ مابعدجدیدیت اور محکوم دعوے دار(Differend)میں جو جمالیات کا تصور اُبھرتا ہے، وہ دوسرے مابعدجدید مفکرین کے آرٹ کے نظریات سے خاصا مختلف ہے۔ ان مابعد جدید مفکرین نے آرٹ، ادب اور آرکی ٹیکچر اور ثقافتی روایات کے دوسرے شعبوں میں متنوع نظریات پیش کیے ہیں لیکن لیوتار کا آرٹ کے بارے میں فہم، رنگ، سوچ کا انداز کچھ الگ طرح کا ہے اور دوسروں (مثلا ًبادر یلا)سے بالکل مختلف۔ وہ اسٹائل پسند رجحانات (مثلاًجدیدیت مخالف استحضاری حقیقت پسندی یا Simmulationوغیرہ) جن کو مابعد جدید آرٹ کی دنیا میں اہمیت حاصل ہے کا حامی نہیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -