تذکرہ شہدائے غزوہ اُحد۔۔۔۔!

تذکرہ شہدائے غزوہ اُحد۔۔۔۔!
تذکرہ شہدائے غزوہ اُحد۔۔۔۔!

  

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پیکرایثارو قربانی تھے،جانثاری وجانبازی ان کا وطیرہ تھی ،اللہ اور اس کےرسول ﷺ کی رضا ہی ان کا مقصد حیات تھی، یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیااور آہ نہ بھری۔ ان حضراتؓ  کے ایثار و قربانی کے واقعات کو تاریخ نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے جو آج بھی اسلامیان عالم کو دعوت ِ عمل دے رہے ہیں۔۔۔

تین ہجری پندرہ شوال المکرم میں پیش آنے والا حق و باطل کا دوسرا بڑا معرکہ غزوہ احد ہے۔جسمیں جانثارانِ اسلام نے اللہ اور اسکے آخری رسول ﷺ کیساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے جامِ شھادت نوش فرمایا۔غزوہ احد میں شھید ہونے والے چند نفوس قدسیہؓ  کے ایمان افروز واقعات قارئین کرام کیلئے پیشِ خدمت ہیں ۔

(1)سیدالشھداء سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ۔

سیدالشھداء سیدنا حمزہؓ بن عبدالمطلب،کنیت ابوعمارہ،لقب سیدالشھداء،اسداللہ واسد رسولہ۔ آپؓ حضور خاتم النبیین ﷺ کے چچا اور رضائے بھائی ہیں ۔۔۔آپؓ نے اعلانِ نبوت کے دوسرے سال اور بقول بعض چھٹے سال اسلام قبول فرمایاجبکہ حضور نبی کریمﷺ دارِ ارقم کو مرکزِ تبلیغ قرار دے چکے تھے۔آپؓ  والدہ کیطرف سے بھی حضور نبی کریم ﷺ کے رشتے دار تھے،آپؓ کی  والدہ ہالہ بنت اُہیب بن عبدمناف بن زہرہ حضور نبی کریم ﷺ کی والدہ ماجدہ کی چچازاد تھیں۔ مدائنی رقم طراز ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلا فوجی دستہ سیدنا حمزہؓ   کی سربراہی میں ماہِ ربیع الاوّل سن 2 ہجری میں سرزمین جہینہ کی طرف سیف البحر کی جانب روانہ فرمایا تھا۔سیدنا حمزہؓ  نے غزوہ بدر میں بھی جرات و بہادری کی جوہر دکھائے، بدر کے دن جب عتبہ بن ربیعہ نے مسلمانوں کو مقابلے کیلئے للکارا تو آپؓ  اس کے بالمقابل آئے اور اُسے قتل کر کے جہنم رسید کر دیا۔

آپؓ نے غزوہ بدر میں شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے طعیمہ بن عدی اور سباع خزاعی کو بھی قتل کیا۔بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ آپؓ  نے سباع خزاعی کو غزوہ بدر میں نہیں بلکہ غزوہ احد میں اپنی شہادت سے پہلے جہنم واصل کیا۔آپؓ ؓغزوہ احد میں جرات و بہادری کیساتھ لڑتے لڑتے جامِ شھادت نوش فرما گئے۔

آپؓ کو جبیر بن عدیؓ کے غلام وحشی بن حرب نے شھید کیا تھا،بوقت شھادت آپؓ  کی عمرِ مبارک انسٹھ سال تھی۔ آپؓ اور آپؓ  کے ہمشیرزادے سیدنا عبداللہ بن جحشؓ   کو ایک ہی قبر میں اکھٹے دفن کیا گیا۔ یاد رہے کہ حضرت جبیر بن عدیؓ اور حضرت وحشی بن حرب حبشیؓ  کو اللہ تعالی نے توفیق دی اور بعد میں ان حضرات نے اسلام قبول کر لیا۔حضرت وحشی بن حرب حبشیؓ  نے رحلت نبوی ﷺ کے بعد ایک جنگ میں مدعی نبوت مسلم کذاب کو جھنم رسید کیا اور کہا کرتے تھے کہ اگر میرے ہاتھوں قبولِ اسلام سے پہلے ایک عظیم المرتبت مسلمان کا خون ہوا تو انہی ہاتھوں کیساتھ قبول اسلام کے بعد ایک بڑے دشمن اسلام مسلمہ کذاب کا قتل ہوا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سید الشہداء (تمام شہیدوں کے سردار ) (سیدنا) حمزہؓ  ہونگے۔

ابن جریج کا بیان ہے کہ کفار مکہ نے غزوہ احد میں شھید ہونے والے تمام شھید مسلمانوں( رضی اللہ تعالی عنھم )کا مثلہ کیا گیا، سوائے حضرت حنظلہؓ  کے۔ غزوہ احد میں سیدالشھداء سیدنا حمزہؓ  دو تلواریں لئے آپﷺ کا دفاع کرتے ہوئے کفار پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے تو کسی کہنے والے نے کہا دیکھو! یہ کیسا شیر ہے آپ اسی جواں مردی کیساتھ کفار سے لڑ رہے تھے کہ آپؓ  پر نیزے سے وار کیا گیا۔ سیدنا ابوھریرہؓ  فرماتے ہیں کہ سیدنا حمزہؓ  کو شھید کرنے کے بعد انکا بدترین مثلہ کر دیا گیا تھا یہ منظر آپ ﷺ کیلئے حد درجہ المناک تھا آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا عم محترمؓ ! اللہ تعالی آپؓ  پر رحم فرمائیں آپؓ  حد درجہ صلہ رحمی کرتے تھے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ 

(2)سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی رضی اللہ تعالی عنہ۔

حضرت سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی ؓ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحشؓ  آپکی بہن تھیں۔ آپؓ ان خوش نصیب اولین مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے دو بار ہجرت فرمائی پہلی بار حبشہ اور دوسری بار مدینہ طیبہ کیطرف۔آپؓ  بدری صحابی ہیں۔ غزوہ احد میں شریک ہوکر جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے مرتبہ شھادت پر فائز ہوئے۔ سیرت کی کتابوں میں آپؓ  کو المجدّع فی اللہ کہا جاتا ہے یعنی وہ خوش نصیب جس کی ناک کو اللہ تعالی کی راہ میں کاٹ دی گئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحشؓ  نے یہ دعا مانگی اے اللہ ! کل کو جب میرا دشمن سے مقابلہ ہو تو وہ جری اور بہادر ہو،میں تیری رضا کیلئے اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑائی کرے اور مجھے قتل کر دے،پھر وہ میرے ناک کان کاٹ دے پھر جب میں تیرے ہاں حاضر ہوں اور تو مجھ سے پوچھے اے عبداللہؓ ! تیرے ناک کان کیوں کاٹے گئے؟ تو میں کہوں یا اللہ ! تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے ساتھ وفاداری کے نتیجے میں میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا اور تو پھر کہتا ہاں واقعی ایسا ہی ہے۔زبیر نے الموفقیات میں ذکر کیا ہے کہ لڑائی کے دوران انکی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور نبی کریم ﷺ نے ایک ٹیڑھی میڑھی سی شاخ انکو عطا فرمائی جو ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی سبحان اللہ! یہ آپﷺ کا معجزہ تھا۔اس تلوار کا نام العرجون (کھجور کی ٹیڑھی شاخ ) رکھ دیا گیا۔آپؓ  کو اور سیدنا حمزہؓ کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔

آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر جہاں سیدنا ابوبکر وعمر عثمان وعلی رضی اللہ عنھم سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا وہی پر حضرت عبداللہ بن جحشؓ  سے بھی مشورہ فرمایا کیونکہ آپ ﷺ کی نظروں میں آپؓ  ایک صاحب الرائے شخصیت تھے۔

(3)سیدنا عمارہ بن زیاد بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ۔

اسی طرح سیدنا عمارہ بن زیاد بن سکن انصاریؓ  نے بھی غزوہ احد میں جام شھادت نوش فرمایا ۔آپؓ  کے جسم پر شدید قسم کے چودہ زخم پائے گئے انکی زندگی کے آخری لمحات میں آپ ﷺ نے اپنے قدمین مبارک کو انکے لئے سرہانہ بنایا اور آپؓ  نے اسی حالت میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔جنگ کے دوران جب ایک موقع پر کفار نے آپ ﷺ کو اپنے نرغے میں لے لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرے دفاع کیلئے آگے آئے؟ تو حضرت عمارہؓ   دیگر پانچ انصاری اصحاب رضی اللہ عنھم کے ہمراہ آگے بڑھے اور آپ ﷺ کا دفاع کرنے لگے سب نے باری باری جانیں قربان کر دیں سب سے آخر میں حضرت عمارہ بن زیادؓ  جب زخموں سے چور ہو کر نڈھال ہو کر گر پڑے تو آپ ﷺ نے فرمایا انکو میرے قریب لاؤ۔انکو قریب لایا گیا اور انہیں اسی حالت میں موت آئی کہ انکا رخسار مبارک رسول اللہ ﷺ کے قدمِ اطہر پر تھا۔

؀نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے 

       یہی میری خواہش   یہی آرزو ہے 

(4)سیدنا عمرو بن ثابت اصیرم رضی اللہ تعالی عنہ ۔غزوہ احد میں شدید زخمی ہو کر شھید ہونے والے ایک صاحبِ اصیرم حضرت عمرو بن ثابتؓ   بھی تھے،غزوہ احد کے دن ہی میدانِ احد میں اسلام قبول کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ تم نے اس جنگ میں شرکت قوم کی محبت کی وجہ سے کی یا اسلام کی سربلندی کیلئے ؟ حضرت عمرو بن ثابتؓ  نے جواب دیا : اسلام کی رغبت مجھے میدانِ جنگ میں لائی۔میں اسلام کے غلبے کی خاطر چلا آیا،اب میں کلمہ پڑھ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہوں یہ کہہ کر انہوںؓ  نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ انؓ کے متعلق جب رسول اللہ ﷺ کو بتلایا گیا تو 

آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جنتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ  ؓ یہ واقعہ سناتے تو عش عش کر اٹھتے اور فرماتے ، واہ۔۔۔۔۔۔کیا خوش نصیبی ہے،ایک بھی نماز نہیں پڑھی،روزہ نہیں رکھا اور جنت میں چلے گئے۔

(5)سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ۔ 

حضرت سیدنا سعد بن ربیع انصاریؓ  نے بیعت عقبہ اولٰی،بیعت عقبہ ثانیہ میں اور اس کے بعد غزوہ بدر میں شرکت فرمائی اور غزوہ احد میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔حضرت ابی سعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن آپ ﷺ نے فرمایا :کوئی ہے جو سعد بن ربیعؓ  کے بارے میں مجھے معلومات دے۔میں نے ان پر نیزے لگتے دیکھے تھے تو حضرت ابی بن کعبؓ  نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ !میں جا کر انکے بارے میں معلومات لیکر آتا ہوں، جب حضرت ابی بن کعبؓ  حضرت سعدؓ  کے پاس پہنچے تو حضرت سعدؓ  نے ان سے کہا کہ تم میری قوم (انصار) کو میری طرف سے سلام عرض کرنا اور ان سے کہنا کہ سعدؓ کا تمہارے نام یہ پیغام ہے کہ تم بیعت عقبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ انکی حفاظت کے جو عہد وپیمان کر چکے ہو،اسے یاد رکھنا۔اللہ کی قسم!جب تک تم میں سے کوئی ایک فرد بھی زندہ ہے اگر حضور نبی کریم ﷺ تک کوئی دشمن جا پہنچا تو اللہ تعالی کے ہاں تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہو گا۔

حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں ابھی انکے پاس ہی موجود تھا کہ انکی روح پرواز کر گئی میں نے جا کر ساری بات آپ ﷺ کے گوش گزار کی تو آپ ﷺ نے فرمایا! سعدؓ  پر اللہ تعالی کی رحمت ہو اس نے زندگی بھر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کیساتھ وفا کی اور جاتے جاتے بھی اپنے عہد کو پورا کر گئے ۔ آپؓ  کو اور آپکے ؓچچازاد خارجہ بن زیدؓ  کو اکھٹے ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ 

(6)سیدنا حنظلہ بن ابی عامر غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہ ۔

حضرت حنظلہؓ نے غزوہ احد میں روانگی سے قبل اپنی بیوی سے مباشرت کی تھی کہ اچانک روانگی کا اعلان ہو گیا،آپ ﷺ کے ارشاد کی تعمیل اور شوقِ شھادت میں انہیں غسل تک کا خیال نہ رہا۔جب آپؓ  شھادت سے سرفراز ہو چکے تو اللہ تعالی کیطرف سے آپ ﷺ کو اطلاع دی گئی کہ حنظلہؓ  کو فرشتوں نے غسل دیا ہے ۔حضرت انسؓ  فرماتے ہیں کہ قبیلہ اوس کے لوگ اظہارِ تفاخر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم ایسے معزز لوگ ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک فرد کو فرشتوں نے غسل دیا اور ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد عاصم بن ثابتؓ  جنکی شہادت کے بعد اللہ تعالی نے انکے جسم مبارک کو کفار کے دست بُرد سے محفوظ رکھنے کی خاطر شھد کی مکھیوں کا یا بھڑوں کا پورا جھنڈ بھیج دیا تاکہ کفار انکے جسم کی بے حرمتی نہ کر سکیں اور ساتھ ہی اللہ تعالی نے اس قدر تیز بارش برسائی کہ بارش کا پانی انکے جسم مبارک کو بہا لے گیا اور وہ دشمن کے ہاتھ نہ آ سکا۔۔ رضی اللہ عنھم ورضو عنہ۔۔

‏؀اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی

     دیا خون صحابہؓ نے۔۔۔۔۔۔۔پھر اس میں بہار آئی

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -