اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

 اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
 اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

  

 بجلی کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ہر حکومت اپنی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ملک کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دور رکھا جائے مختلف ممالک میں مختلف طریقوں  سے بجلی کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ عرب ممالک میں تیل وافر ہے تو وہ ممالک بجلی کی پیداوار کا زیادہ تر حصہ تیل کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔قطر اپنی بجلی کی ضرورت ایل این جی سے  پوری کرتا ہے۔افریقہ کے بہت سے ممالک میں کوئلے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔چائنا آبادی اور انڈسٹری کے لحاظ سے دنیا کا سب سے  بڑا ملک ہے اس لحاظ سے اس کی بجلی کی ضرورت بھی سب سے زیادہ ہے۔ چائنا پن بجلی، ایٹمی بجلی،ونڈ مل،سولر انرجی، کوئلے اور کوڑے  سے بجلی پیدا کرکے ملکی ضرورت پوری کرتا ہے۔

پاکستان میں سال 2013ء کے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی ضرورت 18ہزار میگا واٹ تھی  جو اس وقت تقریبا 35 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے جب مسلم لیگ برسر اقتدار آئی تو اس وقت نیشنل گرڈ کو گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا تھا مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور حکومت میں مختلف ذرائع سے تیرہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرکے نیشنل گرڈ میں شامل کی حکومت نے پن بجلی کول پلانٹ، سولر انرجی اور فرنس آئل سے چلنے والے بجلی کے کارخانے لگا کر ملکی ضرورت سے  زیادہ  بجلی کی  پیدا وار حاصل کرلی ملک میں بند انڈسٹری  کا پہیہ چل نکلا یہ نواز شریف حکومت کا بلاشبہ ایک بڑا کارنامہ تھا  جس سے  وقتی طور پر ملک سے  لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا،بلکہ انہوں نے نیشنل گرڈ میں سرپلس بجلی چھوڑی یہ ان کی حکومت کا بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں پہلا مرحلہ تھا اگلے مرحلے میں ملک میں سستی بجلی حاصل کرنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر، سولر انرجی،اور ونڈ مل پروجیکٹ تھا اور اس سے اگلے مرحلے میں ملک میں ایٹمی بجلی گھر بنائے جانا تھے،لیکن سال 2018ء  میں پی ٹی آئی  کی حکومت آگئی ہے جنہوں نے اپنے چار سالہ دور میں ایک سنگل میگاواٹ بجلی نیشنل گرِڈ میں شامل نہیں کی اور ملک میں بجلی کی ضرورت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی گئی جس  سے طلب اور رسد  میں فرق بڑھتا گیا دوسری وجہ حکومتی عدم توجہ سے بجلی کے بہت سے کارخانے  بند ہوگئے جس سے ملک میں سترہ ہزار میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال پیدا ہو گیا اور ملک ایک بار پھر تاریکیوں میں ڈوب گیا۔

آسٹریلیا،جرمنی، کینیڈا،چین اور جاپان میں گرین انرجی کا تجربہ کامیاب رہا ہے  ہم سب پاکستانی حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ برائے کرم آپ بھی گرین انرجی کی طرف آجائیں مقامی سطح پر سولر پینل تیار کرنے والی فیکٹریوں کو ٹیکس فری کر دیں پاکستان کے بہت سے بینک سولر سسٹم چھ فیصد شرح کے حساب سے دے رہے ہیں  لیکن،گورنمنٹ اپنی زیر نگرانی مرحلہ وار گھریلو صارفین دفاتر،سکول،کالجز،تمام سرکاری عمارتوں،شاپنگ مالز،کو فورا سولر انرجی پر منتقل کرنا شروع کر دیں  بڑے شہروں میں ہر کسی کو سولر  لگانے کی ترغیب دیں اور انہیں آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دیں ویسے بھی اگر حساب لگائیں تو بجلی کا ایک کارخانہ چار پانچ سال کے عرصے میں تیار ہوتا ہے، جس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور پھر انہیں چلانے کے لئے لاکھوں ڈالر کا تیل امپورٹ کیا جاتا ہے جس سے ملک کا ایک بڑا زرمبادلہ باہر چلا جاتا ہے۔میری گزارش کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ملک میں ڈیموں کی تعمیر کو روک دیا جائے یا بڑے کارخانے نہ لگائے جائیں بلکہ پہلے مرحلے میں گھریلو صارفین کو فی الفور گرین انرجی پر منتقل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے اور اس گھر کے اوسط بل  کے حساب سے ان سے اقساط میں سولر سسٹم کی قیمت وصول کرلی جائے اور اس کام کو جتنی تیزی اور شفافیت سے ممکن ہو  سرانجام دیا جائے۔

فرض کریں کہ ایک بڑے گھر میں سولر تین لاکھ روپے میں لگتا ہے تو سوچیے ایک ڈیم یا کارخانے کی قیمت میں ہزاروں گھروں میں سولر لگایا جا سکتا ہے بڑے گھروں کو بڑے سسٹم دیے جائیں اور ساتھ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے ان کی چھتوں کا فائدہ اٹھا کر ان سے بجلی واپس نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے اس طرح سینکڑوں  میگاواٹ بجلی بچ  جائے گی  اسے فوری طور پر انڈسٹری کے لیے منتقل کردیا جائے اس طرح قلیل وقت میں لوڈشیڈنگ سے کافی حد تک چھٹکارا مل جائے گا دوسرے مرحلے میں ایٹمی بجلی گھروں پر کام شروع کر دیا جائے وہ بھی سستی بجلی کا ایک ذریعہ ہیں  اور اس کے ساتھ ساتھ ونڈ مل  پروجیکٹ پر بھی کام کیا جائے چائنہ نے اپنی سڑکوں پر چھوٹی ونڈ ملیں لگا کر بجلی حاصل کرنا شروع کر دی ہے تو ہم یہ کیوں نہیں کرسکتے فرض کریں ہماری سڑکیں  اگر بہت زیادہ بجلی پیدا نہ بھی کریں تو کم از کم اپنی ضرورت کے لیے تو  بجلی پیدا کر سکتی ہیں میں نے آج سے تین سال پہلے اپنے گھر کو سولر انرجی  پر منتقل کیا تھا یقین کریں تین سالوں میں سولر سسٹم نے اپنے پیسے پورے کر لیے ہیں اور ابھی اس کی با ئیس سال زندگی باقی ہے میں آپ سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ براہ کرم آپ بھی جلد از جلد اپنے گھروں کو سولر انرجی  پر منتقل کرنا شروع کر دیں ملک کو مشکلات سے  نکالنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں یہ ملک ہمارا ہے اسے بچانے کے لیے ہمیں بھی حکومت وقت کا ساتھ دینا ہوگا اگر ہم اپنے گھروں کو سولر  پر منتقل کر لیتے ہیں تو یقین کریں اربوں ڈالر جو تیل کی مد میں باہر جا رہے ہیں انہیں بچایا جا سکتا ہے  آئندہ چند  سالوں میں اگر ہم گرین انرجی پر منتقل ہو جاتے ہیں تو ملک کو سالانہ بیس سے تیس ارب ڈالر کا فائدہ پہنچے گا ہم  وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ اس وقت ہمارا ملک اور خزانہ سولر انرجی کے لیے سبسڈی دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا   لیکن اسے فورا ٹیکس فری تو کیا جا سکتا ہے اور سوشل میڈیا،اخبارات اور ٹیلی ویڑن کے ذریعے عوام میں سولر انرجی کے فوائد کی کمپین چلائی جا سکتی ہے اور اس کے ساتھ مختلف بینکوں کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے سولر سسٹم مہیا  کیے جا سکتے ہیں ہمیں یہ لازمی  کرنا ہوگا کیونکہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

ابھی بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے  

مزید :

رائے -کالم -