تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ شخصیات کی مداخلت پر از خود نوٹس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی 

تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ شخصیات کی مداخلت پر از خود نوٹس کیس کی سماعت غیر ...
تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ شخصیات کی مداخلت پر از خود نوٹس کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ میں  تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ شخصیات کی مداخلت پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،  وزیر اعظم اور وزیراعلی پنجاب کے کیس سے متعلق ایف آئی  اے رپورٹ پر بحث ہوئی ،  عدالت نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے تاثر ملا ہے کہ کافی معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سے کور کیا گیا ہے ، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی۔

خاتون رپورٹر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ  کیس کی سماعت اس وقت اچانک ختم ہو گئی جب وزیر اعظم کے وکیل عرفان قادر نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ملک میں دو جماعتوں کی لڑائی ہے اور بظاہر عدالت ایک جماعت کے پیچھے ہے ، بینچ ارکان کے چہرے کے زاویے پہلے عجیب و غریب ہوئے بعد ازاں وہ اٹھ کر ہی چلے گئے ۔

 دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیا کہ کیا آپ نے پراسیکیوٹرز کو یہ کہا آپ پیش ہوں نہ ہوں، آپ فارغ ہیں ، پرسیکیوٹرز کو تبدیل کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا، انوسٹی گیشن آفسیر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیاگیا، انوسٹی گیشن آفیسر تبدیل ہونے کے مہینہ بعد بیمار ہوا ، بظاہر پراسیکیوشن ٹیم مقدمے کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  آرٹیکل 248 وزراء کو  فوجداری کارروائی سے استثنیٰ نہیں دیتا، وفاقی وزراء کے خلاف فوجداری کارروائی چلتی  رہنی چاہئے ، فوجداری نظام سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے ۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نیب کا تمام مقدمات کا ریکارڈ مکمل محفوظ ہے  ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ  ایف آئی اے تفتیشی افسران کی تبدیلی کا ریکارڈ بھی مانگا تھا ، کیا ایف آئی اے مقدمات کا ریکارڈ محفوظ ہے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے کا تمام ریکارڈ محفوظ ہے ۔

عدالت نے حکم دیاکہ ریکارڈ محفوظ ہونے کا تحریری سرٹیفکیٹ ڈی جی کی جانب سے جمع کرائیں ، ریکارڈ میں کمی بیشی ہوئی تو ڈی جی ایف آئی اے ذمہ دار ہوں گے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ریکارڈ کی سافٹ کاپی بھی ہوتی ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ تحقیقاتی ادارے ابھی اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے ۔

وزیر اعظم کے وکیل عرفان قادر پیش ہوئے اور کہا کہ قانون اور ضمیر دونوں پر عدالت کو مطمئن کرونگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  سیاسی شخصیات کے حوالے  سے تفصیل میں نہیں جائینگے ، آپ نے کچھ کہنا ہے تو لکھ کر دیں ۔ عرفان قادر نے کہاکہ عدالت اپنے سوالات لکھ دے تو بہتر معاونت کر سکوں گا  جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کی معاونت کی ضرورت نہیں۔ عدالت کسی انفرادی کیس کو نہیں بلکہ سسٹم کو دیکھ رہی ہے ۔وکیل وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں دو سیاسی جماعتوں کے مابین کشیدگی چل رہی ہے ،  دو پارٹیوں کی کشیدگی کے درمیان میں عدالت ہے ۔

دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ای سی ایل رولز  میں ترمیم کے بعد نظر ثانی کا طریقہ ہی ختم کیا گیا ،   کابینہ ممبران کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) میں ہو اور رولز میں یہی ترمیم کریں کیا  یہ مفادات کا ٹکراو نہیں ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کہا کہ دیکھ لیتے ہیں کیا   وہ ممبران کمیٹی ا جلاس میں موجود تھے یا نہیں،وزیر قانون  اعظم نذیر تارڑ  نے ای سی ایل رولز میں  ترمیم  تجویز دی  ۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا گیا ،  کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی ؟،  چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے  کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کا رپر رپورٹ دیں ۔ 

عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -