عمران خان نے تیاری کیساتھ دوبارہ آنے کا اعلان کردیا

عمران خان نے تیاری کیساتھ دوبارہ آنے کا اعلان کردیا
عمران خان نے تیاری کیساتھ دوبارہ آنے کا اعلان کردیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ اگر 6 روز میں واضح طور پر اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو دوبارہ تیاری کے ساتھ آئیں گے ۔

چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ لانگ مارچ میں پولیس نےہمارے کارکنوں پر بہیمانہ تشدد کیا جس کیلئے ہم تیار نہیں تھے ، ہم تو سمجھے تھے کہ عدالت نے پر امن احتجاج کا حکم دے دیا ہے ، ہمارے راستے سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہوں گی اور  ہم پر امن احتجاج کر سکیں گے ، مگر انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود ہمارے کارکنوں پر بہیمانہ تشدد کیا ،  تشدد کے بعد میرے کارکن غصے  میں تھے ، مجھے پتہ تھا کہ رات کو خون خرابا ہونے لگا تھا ، سب لوگ لڑنے کو تیار ہو گئے تھے ،  اس شام کو میں دھرنے میں  بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہو جانا تھا ، پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں ۔

عمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران میرے دو کارکنوں کو شہید کر دیا گیا  جن میں ایک فیصل عباس ہے جسے راوی پل سے نیچے پھینکا گیا  دوسرا کارکن سید احمد جان ہے ۔  انہوں نے لاہور میں  بس میں جانے والے وکلاء تک کو بس سے نکال کر مارا ، یہ ظلم ساری قوم کے سامنے ہوا ہے ، ہم نے پنجاب میں سارے اچھی شہرت کے افسر لگائے تھے انہوں نے پولیس میں چن چن کر افسران کو بلایا ،  اسلا آباد پولیس کے افسر کو  لاہور سیف سٹی کے  کیس میں سز اہونے والی تھی ، انہوں نے اسے لاہور میں تعینات کر کے چن چن  کر  ظلم کرائے ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ڈی چوک میں جب شیلنگ کی گئی  جس کی تصاویر  سامنے آئی ہیں  یہ کن پر شیلنگ کر رہے ہیں ؟،  لبرٹی چوک لاہور میں  فیملیز موجود تھیں ، کراچی میں بھی بد ترین تشدد یا گیا ، کون سے ملک کی پولیس اس طرح اپنے عوام پر تشدد کرتی ہیں ۔ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو اگر ماڈل ٹاؤن واقعے پر  14  لوگ مارنے اور متعدد زخمی کرنے پر سزا مل جاتی تو شائد یہ ظلم نہ  ہوتا۔

 سابق وزیر اعظم نے کہا  کہ میرے کارکن مایوس ہیں   کہ  ہم وہاں  کیوں نہیں بیٹھے ، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ  میں نے  126 دن کا دھرنا دیا ہوا ہے ، اس بار بھی  دھرنا دے کر بیٹھ جاتا اور تب تک بیٹھ سکتا تھا جب تک یہ گٹھنے نہ ٹیک دیتے ، مگر میں وہاں ہونے والے حالات سے آگاہ  تھا، میں جاناتا تھا کہ حالات کس طرف جانے والے ہیں اور ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 عمران خان نے کہا کہ بیرون سازش کے تحت ایک امپورٹڈ حکومت مسلط کر دی گئی ہے ، سارے کرپٹ لوگ لا کر مسلط کر دیے گئے ہیں ،22 کروڑ کی منتخب عوام کی حکومت کو گرا  کر  30 سال سے پیسے کھانے والے لوگوں کو اس ملک پر مسلط کیا گیا ، اس کے خلاف فیصلے کی اجازت نہیں دی گئی  بلکہ تشدد کیا گیا جس پر قو م شدید غصے میں ہیں ۔ 

سابق وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ میں نےاپنی  زندگی قوم کی حقیقی آزادی کیلئے وقف کر رکھی ہے ،  چوروں کو مسلط  کیا جاتا ہے ، مغرب میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ  ضمانت پر رہا افراد وزیر اعظم اور زیر اعلی بن جائیں  ،  60 فیصد ضمانتی کابینہ میں بیٹھ جاتے ہیں ،  جمہوریت میں  ہر طرح کا پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے ، رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں میں گئے  ، وہاں انہوں نے نہ عورتوں کو دیکھا نہ بچوں کا لحاظ کیا ،  سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا انہوں نے ہدایت  کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے ، ہمیں لگا کہ اب رکاوٹیں ہٹا لی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی ۔  جو ہوا اس کی ہمیں  امید نہیں تھی  ،ہمیں لگا کہ عدالت کا فیصلہ آگیاہے ، اب ساری رکاؤٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔ یہ ہماری غلط فہمی تھی مگر اس بار  چھ روز کے بعد ہم تیاری کے ساتھ نکلیں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -Breaking News -