17سالہ لڑکے کے 32سالہ خاتون کیساتھ تعلقات، حاملہ ہونے پر شادی لیکن پھر انتظامیہ نے ایسا کام کردیا کہ کوئی توقع نہ کرسکتا تھا

17سالہ لڑکے کے 32سالہ خاتون کیساتھ تعلقات، حاملہ ہونے پر شادی لیکن پھر ...
17سالہ لڑکے کے 32سالہ خاتون کیساتھ تعلقات، حاملہ ہونے پر شادی لیکن پھر انتظامیہ نے ایسا کام کردیا کہ کوئی توقع نہ کرسکتا تھا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں 32سالہ خاتون نے ایک 17سالہ لڑکے کے ساتھ بیاہ رچا لیا،کم عمر لڑکے کی اس شادی کی خبر جب میڈیا پر چلی تو ریاست کے کمیشن برائے تحفظ حقوق بچگاں نے اس کا نوٹس لے لیا اور ضلع سنگراﺅلی کے کلیکٹر کو یہ شادی ختم کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ 

 بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ شادی ریاست مدھیا پردیش کے ضلع سنگراﺅلی میں واقع ایک گاﺅں میں خاتون کے مطالبے پر پنچایت نے زبردستی کرائی۔ اس خاتون نے پنچایت کو بتایا کہ لڑکے نے اس کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے تھے اور اب وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

خاتون نے پنچایت کو بتایا کہ جب اس نے لڑکے کو اپنے حاملہ ہونے کے بارے میں بتایا اور شادی کرنے کو کہا تو اس نے شادی سے انکار کرتے ہوئے تعلق ہی ختم کر ڈالا۔ لڑکے کے والدین کا کہنا ہے کہ خاتون کے مطالبے پر پنچایت نے زبردستی لڑکے کی اس عورت کے ساتھ شادی کرا دی۔ 

دوسری طرف گاﺅں کے سربراہ بالموکنڈ سنگھ کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل لڑکے کے والدین بھی اس شادی پر رضامند ہو گئے تھے کیونکہ خاتون نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ شادی کے لیے نہ مانے تو وہ لڑکے کے خلاف جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کرا دے گی۔ 

رپورٹ کے مطابق لڑکے کی شادی والدین نے کسی اور لڑکی کے ساتھ طے کر دی تھی اور عین شادی کے روز یہ خاتون لڑکے کے گھر پہنچ گئی اور اپنے حاملہ ہونے کا بتا کر اس کی شادی رکوا دی، جس کے بعد یہ معاملہ پنچایت میں پہنچ گیا۔ شادی کے بعد چند دن تک خاتون لڑکے کے گھر میں ہی مقیم رہی اور پھر اسے اپنے ساتھ لے کر چلی گئی۔

کم عمر لڑکے کی اس شادی کی خبر جب میڈیا پر چلی تو ریاست کے کمیشن برائے تحفظ حقوق بچگاں نے اس کا نوٹس لے لیا اور ضلع سنگراﺅلی کے کلیکٹر کو یہ شادی ختم کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ کمیشن کے رکن برجیش چوہان کا کہنا ہے کہ ”کم عمر لڑکے کی شادی ہی سرے سے غیرقانونی ہے۔ ہم نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی ہدایت کر دی ہے کہ وہ لڑکے کو بازیاب کرائیں کیونکہ لڑکے کے باپ کی طرف سے اس کے اغواءکا مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -