قرآن کریم کا اعجاز

 قرآن کریم کا اعجاز
 قرآن کریم کا اعجاز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 صدیوں سے دنیا میں لاکھوں کتب تحریر ہوکر انسانی مطالعہ کی نظر ہوئیں۔ ہر صاحب کتاب نے مقدور بھر کوشش کی ہوگی کہ اسکی کتاب کچھ منفرد نظر آئے،مگر کسی بھی مصنّف نے یہ دعویٰ نہ کیا نہ ہو سکتا تھا کہ جو کتاب اس نے لکھی ہے اس جیسی کوئی دوسری کتاب نہیں لکھی جا سکتی۔ یہ صرف اور صرف قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک سے زائد مرتبہ یہ اعلان فرما رہے ہیں بلکہ دعویٰ کر رہے ہیں اور مخاطب منکرین قرآن ہیں کہ اس قرآن کریم میں شامل کوئی ان جیسی ایک دو سورتیں  ہی بنا کر دکھا دو۔ یہ چیلنج ان کفار اور مشرکین کو دیا جارہا تھا جو قرآن کریم کے نازل ہونے پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے،اس کی حقانیت اور صداقت کا انکار کرتے، قرآن کا مذاق اڑاتے اور اس انکار کی اپنے تئیں کئی وجوہات بھی تراشتے۔اس ساری ہرزہ سرائی میں وہ یہ بات فراموش کر جاتے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی زبان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کے نہایت جلیل القدر اور برگزیدہ فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی وساطت سے براہ راست خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہو رہا ہے۔ 


حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلانِ نبوت سے قبل چالیس سال کا طویل عرصہ انہی کفار کے درمیان گزار چکے تھے اور سورہ یونس کی آیت نمبر 16 کے الفاظ میں یہ دعویٰ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے کیا برمحل آیا کہ ”میں تو عمر کا ایک حصہ تم میں گزار چکا ہوں، کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ میں کیسا تھا“۔ یہ دعویٰ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے صرف اس لئے کرایا کہ ان چالیس سالوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کبھی نبوت کا اعلان کیا نہ ہی اسطرح کا کوئی اشارہ دیا اور اگر وہ زندگی اتنی صاف ستھری اور قابلِ رشک تھی کہ وادی مکہ کا ہر مکین انہیں صادق اور امین سمجھتا اور پکارتا تھا۔ وہ مجسم اخلاق و کردار اور ہمارے ہادی و رہبر جن کا کوئی استاد نہ تھا، جو اْمّی تھے اور شاید یہی ایک پنہاں راز تھا کہ یہ قرآن اس نبی مکرم کی زبان سے سنوایا جا رہا تھا جو خود لکھ پڑھ نہ سکتے تھے۔  اللہ کا یہ کلام نہایت برگزیدہ فرشتے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کی وساطت سے وحی کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرف بحرف نازل ہو رہا تھا۔ قریش مکہ اِس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھے لہٰذا وہ قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت سے انکار کرتے ہوئے نئی نئی تا ویلیں گھڑ رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب ہے جس نے قیامت تک بغیر کسی تحریف کے زندہ رہنا ہے۔ قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے۔ یہ ہدایت و رہنمائی کا ایسا انمول خزینہ ہے جس کی مثال ممکن نہ ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کا وہ ابدی سرچشمہ ہے جس سے ہر کوئی فیض یاب ہوتا رہے گا۔ اس قرآن کریم میں ایمان بھی ہے، عقائد بھی اورعبادات بھی، معاملات بھی ہیں اور اخلاقیات بھی، اللہ تعالیٰ کی توحید بھی اور نبیء آخرزمان صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف، احترام اور پیروی کی ہدایت بھی،  سچ اور ایمانداری کا درس بھی،اس میں ارض و سما کی تخلیق کا عمل اور اس میں پنہاں کئی سائنسی راز بھی ہیں، بے شمار معاشرتی مسائل اور انکا شافی حل بھی ہے،  اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور غریب و مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی، والدین اور رشتے داروں کے حقوق کی نگہبانی بھی اور صلہ رحمی اور رشتوں کو جوڑ کر رکھنے کی تلقین بھی اور پھر اس میں آخرت اور یوم جزا پر پختہ ایمان اور جنت کے دلفریب اور خوش کن جبکہ دوزخ کے عذاب کے  ہولناک مناظر بھی ہیں۔ غرض ہر ہر زاویہ سے قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس دعویٰ کی تردید آج تک ممکن نہ ہوسکی کہ اگر سارے انسان اور جن مل کر بھی اس قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا لائیں۔  


یہ دعویٰ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے سامنے کیا جنہیں اپنی عربی زبان پر بڑا ناز تھا۔ وہ اپنے سوا باقی قوموں کو عجمی یعنی گونگے کہتے تھے۔ عربی کی فصاحت و بلاغت مسلمّہ تھی اور بڑے بڑے شاعر جنہیں اپنی زبان کی فصاحت و بلاغت کا بڑا گھمنڈ تھا  وہ اس قرآن کی فصاحت و بلاغت کا اقرار تو کرتے، مگر اسے الہامی کتاب ماننے سے انکار کرتے۔ یہ انکی خباثت اور بدنیتی اس قرآن کریم پر ایمان لانے سے روکتی مگر کوشش کے باوجود وہ اس جیسی ایک آیت بھی تیار نہ کرسکے۔  ایسا کرنا کیسے ممکن تھا، کیا یہ کسی انسان کا کلام تھا۔ ہر گز نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام بلکہ اللہ تعالیٰ کی اپنی گفتگو اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو رہی تھی۔اس کی نقل کیسے ممکن تھی۔ تاریخی طور پر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت تھی کہ جب بھی قریش مکہ کے کسی گروہ نے یا کسی فرد نے قرآن کی آیات کی تلاوت سنی وہ متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے۔ یہی قرآن کا اعجاز تھا کہ اس کے انکاری بھی اسے سن کر اس پر ایمان لانے پر مجبور تھے۔  موجودہ دور میں  Artificial intelligence  کی بڑی دھوم ہے اور اس نے انسان کی شکل و صورت ہی نہیں بدلی بلکہ حیرت انگیز طور پر انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو ناقابل یقین حد تک بدل کر رکھ دیا ہے، مگر کوشش کے باوجود قرآن کریم کی ایک آیت کا Replica بھی AI تیار نہ کر سکی۔ یہ سارے معجزے کس طرح ممکن ہوئے کہ چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود قرآن پاک کے ایک لفظ میں بھی تحریف نہ ہو سکی۔ بڑی سادہ وجہ ہے کہ اس کتاب کی حفاظت  خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ”بے شک یہ ذکر ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“۔ اتنا کھلا اور واشگاف اعلان سبحان اللہ اور پھر قرآن میں کسی تحریف اور ردّو بدل کا شائبہ بھی کیسے ممکن ہے۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہونے کے سبب حامل قرآن ہیں۔ یہ ہماری دنیوی زندگی میں بھی رہنما اور گائیڈ ہے اور آخرت کی نجات کا بھی ضامن ہے۔ انسان جن ذہنی، قلبی، جسمانی، روحانی اور اخلاقی بیماریوں سے دو چار ہوتا ہے،اس نسخہ کیمیا  میں ان تمام روگوں کیلئے شفاء اور علاج ہے۔ غفلت کی کدورت،شک و ارتیاب کی تاریکی،کفر و شرک کی نجاست سب اس کے فیض سے دھل جاتی ہیں۔اس کو دیانتداری سے اپنا خضر راہ بنانے کی ضرورت ہے، پھر اس کی رحمت کے چشمے علم و فضل کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور رشک صد ارم بنا دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -