ٹائیں ٹائیں فش

  ٹائیں ٹائیں فش
  ٹائیں ٹائیں فش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 جب آپ ٹیلی ویژن سکرین پر سلسلہ وار نشر ہونے والا کوئی کھڑکی توڑ ڈرامہ دیکھنے بیٹھیں تو تازہ قسط سے قبل ایک مختصر Recap دکھایا جاتا ہے تا کہ ناظرین کو یہ یاددہانی ہو جائے  کہ ڈرامے کی گزشتہ Episode میں کون کون سے قابل ذکر واقعات رونما ہوئے تھے۔ لہٰذا میری خواہش ہے کہ جو لوگ تازہ قسط کو پوری طرح ”انجوائے“ کرناچاہتے ہیں وہ ایک دفعہ ”ری کیپ“ ضرور ملاحظہ کریں۔
اوئے نواز شریف جیل میں تمہارا اے سی بند کرواؤں گا، اوئے رانا ثناء اللہ میں تمہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا، سب کان کھول کر سُن لو۔ میر صادق، میر جعفر، ڈرٹی ہیری، ہینڈلرز، سہولت کار وغیرہ وغیرہ۔جی ہاں، یہ الفاظ طاقت کے نشے سے چور ایک شخص کے ہیں جو اپنے دور اقتدار کے پونے چار برسوں میں انہیں تسلسل کے ساتھ دہراتا رہا،مذکورہ عرصے میں اس نے اپنے قول و فعل کے تضاد، علم اور عمل کے فرق اور ذاتی نا اہلی کے نتیجے میں نہ صرف معیشت اور معاشرت تباہ کی بلکہ ملکی اقتدار اور سیاسی رکھ رکھاؤ کوبھی تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ معاشرے میں بد تمیزی، بد کلامی اور بد زبانی کے چلن کو عام کیا، اپنی بات سے پھر جانے اور مُکر جانے کو ”یوٹرن“ کا نام دے کر فیشن بنا دیا۔ معاشرے میں آٹے دال کے بھاؤ کا علم رکھنے والے حقیقت پسند اورسوجھ بوجھ کے حامل افراد کی بجائے سکول کالج کے کھلنڈرے نوجوانوں کو خاص طور پر اپنا ہدف بنایا۔ٹویٹر، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر کے ان نا پختہ اذہان کی برین واشنگ کی۔ یہی وجہ ہے کہ2018 ء کے بعد اقتدارکے پونے چارسال اور اس سے قبل کے آٹھ، دس برسوں میں ایک ایسی نسل تیار کر لی گئی تھی، جس کا نتیجہ 9 مئی کے المناک واقعات کی صورت میں برآمد ہوا۔


 پاک فوج نے سیاسی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہ کرنے کا تہیہ کیا توانہیں مسلسل اکسایا جا تا رہا، پھر جس انداز میں قومی سلامتی کے اداروں کی بے توقیری کی جاتی رہی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔دوسری جانب فوج کی اعلیٰ قیادت نے برد باری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے آخری حد تک برداشت کیا۔ تاہم 9 مئی کے واقعات میں جس طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاک فوج کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی یادگاروں کو جلایا گیا اس سے ہر پاکستانی دل گرفتہ ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کاایک سیاہ ترین دن تھا جس روز پی ٹی آئی کے شر پسند جتھوں نے اپنی آخری حدبھی عبور کر لی۔ اب قومی سلامتی کے اداروں نے اس ”فتنے“ کو جڑ سے ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرا جب پی ٹی آئی قیادت، اراکین اور ٹکٹ ہولڈرز کی جانب سے پارٹی چھوڑنے یا پھر لا تعلقی کا اعلان نہ کیا گیا ہو۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا، سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اور فواد چودھری بھی خیر باد کہہ گئے، جبکہ مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سمیت اب تک بیسیوں اراکین نئی منزلوں کے راہی بن چکے ہیں۔ فواد چودھری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اور سیاست سے وقفہ لینے کا اعلان کر رہا ہوں، 9 مئی کے واقعات کی غیر مشروط مذمت کرتا ہوں، پارٹی عہدے اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے کر عمران خان سے راہیں جدا کر لی ہیں۔اس ٹویٹ پر ان کی اہلیہ حبا چودھری نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آخر کار سفر اختتام پذیر ہو گیا۔خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق رکن نادیہ شیر خان نے بھی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کے نام پر مزید کسی شر پسند جتھے کا حصہ نہیں بن سکتی، پی ٹی آئی سے مستعفی ہو رہی ہوں اور اب پی ٹی آئی سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ پی ٹی آئی انقلاب کے نام پر بنائی گئی لیکن اس سے جماعت کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ پارٹی میں عمران خان کے سوا کسی کی بات نہیں سنی جاتی۔ 9 مئی پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، قومی اداروں اور تنصیبات پر حملہ ہمیں کسی طور پر قبول نہیں۔ حکومت سے درخواست کرتی ہوں کہ جو لوگ اس واقعے میں شامل تھے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔


 اتنی تیزی کے ساتھ تو پت جھڑ کے موسم میں خزاں رسیدہ زرد پتے بھی شاخوں سے نہیں گرتے جس تیزی کے ساتھ پی ٹی آئی خالی ہو رہی ہے۔ عمران خان اپنے نئے یو ٹیوب چینل کے ذریعے آئے روز ویڈیو پیغام میں بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ سب عہدیدار پارٹی چھوڑ گئے ہیں اور مجھے پتہ ہی نہیں اب کس سے رابطہ کرنا ہے۔ پاکستان کے سیاسی افق پر نئے نئے نقش اُبھرتے بھی ہیں اور پھروقت کے ساتھ مٹ بھی جاتے ہیں، ماضی میں بڑے بڑے قد آور سیاست دانوں کی جانب سے تشکیل پانے والی اپنے دور کی نامور پارٹیوں کا آج وجود تک نہیں اور آج کے بیشتر نوجوان ووٹرز ان کا نام بھی نہیں جانتے۔ جبکہ اقتدار کا لالچ، سیاسی رسہ کشی اور تقریروں کی حد تک تنقید سیاست کا حصہ ہے۔ تاہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاک فوج کی حساس تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے واقعتا ملکی تاریخ کے نا قابل فراموش واقعات ہیں جس کے تانے بانے پاکستان دشمن قوتوں سے مل رہے ہیں۔ تحقیقات میں اس بات کے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ شر پسندی کا یہ منصوبہ 8مئی کو بنایا گیا۔پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والے بلوائیوں کے ساتھ رابطے میں تھی، جیو فینسنگ کے دوران 156 موبائل فون نمبرز سامنے آئے ہیں جن میں پی ٹی آئی کی  چھ اہم شخصیات کے شر پسندوں سے رابطے ثابت ہوئے ہیں۔دوسری جانب پاک فوج اپنے سپہ سالار کی قیادت میں ہر قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں اور شر پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے ایک پیج پر نظر آتی ہے۔جس سے لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اب آئیں بائیں شائیں کی بجائے ٹائیں ٹائیں فِش ہونے کے بالکل قریب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -