انفنٹری کا مستقبل      (4)

    انفنٹری کا مستقبل      (4)
    انفنٹری کا مستقبل      (4)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  عہدِ قدیم  اور عہدِ حاضر کی جنگوں میں دو پہلو مشترک تھے۔ ایک تو میدانِ جنگ کا شور و غل اور دوسرا  ہجوم در ہجوم سپاہیوں کی صفیں۔ میدان جنگ کا یہ شور انگریزی میں (Din of Battle) کہلاتا ہے اور جب یہ بڑھ جاتا ہے تو سارا منظر دھندلا جاتا ہے۔ اسے ”جنگ کی کہر یا دھند“ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی چیز حتمی طور پر واضح نہیں ہوتی اور صورتِ حال سیال رہتی ہے۔ انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہمہ یاراں دوزخ اور ہمہ یاراں بہشت کا قائل ہے۔ فارسی میں ایک ضرب المثل ہے۔ مرگِ انبوہ جشنے دارد…… یعنی اگر ہجوم در ہجوم موت بھی واقع ہو رہی ہو تو ایک جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔ اپنے دوستوں، ساتھیوں اور رفیقوں کی قربت کا احساس سپاہی کا بہت بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے گروہ در گروہ اور انبوہ در انبوہ ہو کر لڑنے کا عادی رہا ہے۔ لیکن مستقبل میں یہ منظر بدل جائے گا۔ مستقبل میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ لڑنے والے گروہ منتشر ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ میدانِ جنگ پر فائر کی شدت اور ہلاکت انگیزی، گروہوں کو بکھر جانے پر مجبور کر دے گی۔ تب شاید نفسا نفسی کا عالم ہو۔ ممکن ہے سیکشن کو بھی بکھر کر لڑنا پڑے۔ ایسے میں جب تک اس کی نفسیات تبدیل نہیں ہوں گی وہ اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا محسوس کرے گا۔ دشمن کے فائر کے تسلسل میں جب وقفے آئیں گے تو تنہائی کا یہی عذاب اور میدانِ جنگ کا یہی سناٹا لڑنے والے سپاہی کا دل دہلانے کو کافی ہوگا۔ اب دیکھئیے نا اس کی ساری ٹریننگ تو پریڈ گراؤنڈ میں کی جاتی ہے جہاں بہت سے لوگ ہوتے ہیں، ساری سکیمیں اور جنگی مشقیں اکٹھے کی جاتی ہیں اور زمانہء امن کے روز و شب کے معمولات قربت اور رفاقت کے لمحات ہی سے تو عبارت ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب یہ سپاہی جنگ میں کودتا ہے تو حملہ ہو یا دفاع کئی بار ایسے لمحات آتے ہیں جب تنہائی اور شدید تنہائی کا عالم پیدا ہوجاتا ہے۔ مستقبل میں یہ عالم مزید گھمبیر ہو سکتا ہے۔ اس لئے انفنٹری سولجر کو تنہا ہو کر لڑنے اور اکیلا ہو کر آپریٹ کرنے کی تربیت دینا ہوگی۔ اس کو اپنی ذات ہی میں ایک انجمن تلاش کرنی ہوگی اور اپنی خلوت کو جلوت بنانے کا گر سیکھنا ہوگا۔

ایک مشہور جنرل کا قول ہے: ”کسی انفنٹری سولجر کو اگر کوئی چیز میدانِ جنگ میں قائم رکھتی ہے تو وہ اس کا وہ احساس ہے کہ اس کا کوئی ساتھی، کوئی دوست اور کوئی پلٹنی کہیں اِدھر اُدھر اس کے آس پاس موجود ہے“…… رفاقت کا یہی احساس اس کے قدم اکھڑنے نہیں دیتا۔ لیکن مستقبل میں جب ہائی ٹیک ہتھیار استعمال ہوں گے تو دشمن تو اس کی نظر سے اوجھل ہوگا ہی، بسا اوقات وہ دوست اور وہ رفیق بھی نگاہوں سے اوجھل ہوگا جس کی قربت اس کی ڈھارس بندھائے رکھتی تھی۔ یوں دیکھا جائے تو اس کی ٹریننگ ایس ایس جی (سپیشل سروس گروپ) کے سپاہی کی طرز پر کرنی ہوگی۔ دوسری عالمی جنگ میں جو پروفیشنل نفسیاتی تجزیے مرتب کئے گئے ان کی روشنی میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ ”ہر انفنٹری سولجر کو رات کے وقت تنہا ہو کر آپریٹ کرنے کی انفرادی تربیت دینا از بس ضروری ہے“۔ اس قسم کی ٹریننگ کے لئے مسلسل اور لگاتار محنت، ڈرل اور پریکٹس کی ضرورت ہو گی۔ ان چھوٹے گروپوں کو آپس میں باہمی طور پر ربط و تعاون بڑھانے کی تربیت بھی دینا ہوگی۔ یہ ٹریننگ کا دوسرا مرحلہ شمار ہو سکتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں مختلف فارمیشنوں کے گروپوں کو آپس میں خلط ملط ہو کر لڑنے کی ٹریننگ دی جا سکتی ہے جس طرح کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں نے دی تھی۔ وہ دوران جنگ کسی ڈویژن کو (پورے کے پورے ڈویژن کو) محاذ سے واپس بلا لیتے تھے اور پھر ان کی بعض یونٹوں اور بعض افراد کو تبدیل کر دیتے تھے۔ کچھ دیر تک یہ نئے ممبران اور نئی یونٹیں آپس میں ربط و ضبط پیداکرتی تھیں اور اس کے بعد اس فارمیشن کو دوبارہ محاذ پر بھیج دیا جاتا تھا۔ جرمنوں کا یہ سسٹم جنگ کے اختتام تک چلتا رہا اور اس کے طفیل اتحادیوں کی واضح عددی اور اسلحی برتری کے باوجود جرمن آرمی کی کارکردگی قابلِ رشک رہی۔

انفرادی ٹریننگ

جہاں تک انفرادی ٹریننگ کا تعلق ہے تو مستقبل کے انفنٹری سولجر کو دو باتوں پر بطور خاص دھیان دینا ہوگا۔ ایک تو یہ کہ دشمن کی فضائی برتری کی صورت میں اس کو عزم و حوصلے سے کام لے کر اپنے ذاتی ہتھیاروں کا کارگر استعمال کرنا ہوگا اور دوسرے کیموفلاج ڈسپلن میں زبردست پریکٹس درکار ہوگی۔ مستقبل میں اگرچہ اس بات کا زیادہ امکان  ہوگا کہ انفنٹری سولجر کو ایک فاصلے سے دشمن کے خلاف وار کرنے کے زیادہ مواقع ہوں گے تاہم اسے دوبدو لڑائی میں بھی تربیت دینا ہوگی۔ عماراتی علاقوں اور جنگلات میں دور فاصلے سے لڑنے کی نہیں بلکہ دست بدست لڑائی کی ضرورت ہو گی اور اس دست بدست لڑائی کے مناظر جنگ عظیم دوم کے بعد کی بھی تمام جنگوں میں عام ملتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر اصل لڑائی کے یہ مناظر اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ اس پر مزید تفصیل سے لکھنا تحصیلِ حاصل ہوگا۔ بھاگتے ہوئے شہری، جلتے ہوئے عماراتی علاقے، سلگتے درخت اور گلیوں میں دوڑتے ٹینک اب ہرمقامی یا علاقائی لڑائی یا جنگ کا عام حصہ شمار ہوتے ہیں۔ پیادہ سپاہ کو دشمن کے عماراتی سٹرانگ پوائنتس کو برباد کرنے کی تربیت بھی دینا ہوگی۔ اسے نہ صرف انہدامی (Demolition)کارروائیوں کی ٹریننگ بھی دی جائے گی بلکہ کلوزرینج پر ٹینکوں کو تباہ کرنے کی بھی پریکٹس کروائی جائے۔ ممکن ہے وہ اپنی ان تمام ٹینک شکن مہارتوں کو استعمال کرنے کے مواقع نہ پا سکے پھر بھی ٹینک کا خوف تو اس کے دل سے نکل جائے گا۔ ٹینک کا خوف یا ”ٹینک فوبیا“ اور اس پر قابوپانے کے طریقے دوسری عالمی جنگ میں اتحادی اور محوری افواج کا ایک مستقبل دردِ سر بنے رہے۔ 

اعصابی تربیت

گزشتہ سطور میں ہم نے جنگ کے شوروغل کا ذکر کیا ہے۔ ہم نے بدن اور دماغ کی تربیت کا تذکرہ بھی کیا لیکن ان کے علاوہ اعصابی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ذہنی اور جسمانی تربیت کی۔ جنگ کی شدت میں گولوں اور گولیوں کی چنگھاڑ،فضائی حملے کے دوران چیختی آوازیں اور دھماکے،توپو ں کی گھن گرج، ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور مشین گنوں کی دندناہٹ لڑنے والے سپاہی کے اعصاب پر شدید دباؤ ڈالتی ہے۔ اس دباؤ کو برداشت کرنے کے لئے اس کے اعصاب کو اس قسم کے ماحول کا خوگر بنانا ہوگا۔ اگرچہ بیٹل اناکولیشن کا سسٹم اس تربیت کا ایک جزو شمار کیاجاتا ہے لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ یہ اصل مناظر یا حقیقی جنگ کو سمو لیٹ نہیں کر سکتا۔ آج کل جدید افواج میں اگرچہ سمولیٹر یہ کام انجام دے رہے ہیں لیکن اس ضمن میں بھی انفنٹری سولجر کو مزید تفصیلی تربیت کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ کہ مختلف ہتھیاروں کے فائر کی آوازوں کو پہچاننا، دھماکوں کی آواز سے توپخانے کی گولہ باری یا فضائی بمباری کا فرق معلوم کرنا اور ان کی لوکیشن کا اندازہ لگانا اور سنسناتی گولیوں میں یہ امتیاز کرنا کہ یہ آپ سے دوگز دور ہو کر نکل گئی یا دو انچ دور رہ گئی۔ یہ اعصابی تربیت پیادہ سپاہی کو دشمن کے فائر کا جواب دینے کا اہل بنانے میں بہت معاون ثابت ہوگی۔            (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -