جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہم کئی دن تک چہچہاتے چڑے کی طرح سینہ پھلائے ملکی اور غیر ملکی دوستوں سے  مبارک بادیں وصول کرتے پھر ے

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہم کئی دن تک چہچہاتے چڑے کی طرح سینہ پھلائے ...
جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہم کئی دن تک چہچہاتے چڑے کی طرح سینہ پھلائے ملکی اور غیر ملکی دوستوں سے  مبارک بادیں وصول کرتے پھر ے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:283
جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہم کئی دن تک چہچہاتے چڑے کی طرح سینہ پھلائے اپنے ملکی اور غیر ملکی دوستوں سے اس طرح مبارک بادیں وصول کرتے پھر ے جیسے ایٹمی دھماکے کا بٹن ڈاکٹر قدیر نے نہیں دبایا تھا بلکہ یہ کام ہمارے ہاتھوں ہی سرانجام پایا تھا۔بہت ہی مسرور رہتے تھے ہم سب، اور مغرور بھی۔
دوسری طرف یہاں دنیا جہان سے اخبارات، رسالوں اور ٹی وی پر وہ سب کچھ آ جاتا تھا جو عام حالات میں ہماری حکومت ہم تک پہنچنے نہیں دیتی تھی۔ اور قدرتی بات ہے وہ ہمارے وطن کے حوالے سے کوئی اتنا خوش کن نقشہ نہیں کھینچتے تھے کہ جس کو سن کر ہمیں کچھ سکون آ جاتا۔ایک بے نام اذیت اور بے یقینی کی سی کیفیت رہتی تھی جس میں اپنے اور وطن کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات اٹھتے تھے اور پھر جھوٹی یا سچی امیدیں ذہن میں بسائے ان کے جوابات ہم اپنی مرضی کے مطابق گھڑ لیا کرتے تھے۔ جب بھی کبھی عمرے پر جانا ہوتا تو اپنے گناہوں کی معافی  اور والدین کی مغفرت کے بعد پہلی دعا میں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کے بارے میں ہی مانگا کرتا تھا۔ اور مجھے یقین ہے کہ سب اہل دل ایسا ہی کرتے ہوں گے، کیونکہ یہ دکھ تو سب کا سانجھا ہی تھا۔
یہاں جب بھی کبھی یوم آزادی کے حولے سے پاکستانی سفارت خانے والے کوئی تقریب کرتے تھے تو ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ اچھے سے اچھا لباس پہن کر اور دل میں جوش و جذبہ لیے اس میں شرکت کرے۔ وہاں لوگ کی تقریریں اور ملی نغمے سن کر دل باغ باغ ہو جاتا لیکن اس وقت سارا فخر اور غرور خاک میں مل جاتا جب کھانے کے لیے بلایا جاتا اور جس روائتی انداز میں ہمارے لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑتے تھے اس کو دیکھ کر ہی گھن آنے لگتی اور درد مند لوگوں کے سر شرمندگی سے جھک جاتے۔ غم تو اس بات کا تھا کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور بظاہر مہذب لوگ بھی وہ کچھ کرگزرتے تھے جو ان کے وقار اور شخصیت سے قطعاً لگا نہیں کھاتا تھا۔ اپنے گھروں میں وہ اس سے بہتر کھانا کھاتے تھے، پھر نجانے کیوں ایسے مواقع پر وہ بے قابو ہوجاتے تھے۔ 
دوسری طرف عالم یہ تھا کہ پاکستان کے ناقابل فخر سیاست دانوں کی طرح یہاں بھی لوگ فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اور خوب دل بھر کے آپس کی دشمنیاں نکالتے، کسی کا بھی جلسہ یا میٹنگ خراب کرنے کے لیے مخالفین اس حد تک آگے نکل جاتے تھے کہ جھوٹی سچی شکایات کر کے وہاں کی مقامی پولیس اور دوسرے محکموں کو بھی ملوث کر لیتے، ایسی گھٹیا سیاست کی وجہ سے کچھ لوگوں کو جیل اور کچھ کو مستقل طور پر پاکستان واپس جانا پڑتا تھا۔ سعودی پولیس اس سلسلے میں ذرا بھی مروت یا رعایت نہیں کرتی تھی اور فوراً ہی متعلقہ افراد کو پکڑ کر سیدھا ایئر پورٹ لے جاتی تھی، گھر سے سامان اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہاں کوئی کسی پر ترس نہیں کھاتا تھا۔
میں اس بات پر حیران تھا کہ ہم اس ملک سے تعلق رکھتے تھے جہاں صدیوں سے تعلیم کا چرچا تھا۔ سعودی عرب کے بدو تو اتنی تیزی سے تبدیل ہو گئے کہ انھوں نے خالص بدوانہ طرز زندگی کو بھی خیر آباد کہہ کر تقریباً ہر اچھی عادت کو اپنا لیا تھا۔ جب کہ ہم لوگ اپنے مرکز سے اتنے ہی دور ہوتے چلے گئے۔ ہماری ہر حرکت میں کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوتا تھا، اور اکثر ہم قانون توڑ کر خوشی محسوس کرتے۔ جس کی مثالیں بازار میں بھی دیکھنے کو مل جاتیں۔مثلاً یہاں غیر ملکی ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے پینٹ شرٹ اور ٹائی کا پہننا لازم تھا۔ مگر کچھ پاکستانیوں کو پتلون پہننے سے اللہ واسطے کا بیر اور جنون کی حد تک نفرت تھی۔ ایک دفعہ جب میں ریاض کے بطحہ بازار سے گزرا تو وہاں پولیس والے نے ایک پاکستانی ڈرائیور کو ٹیکسی سے باہر نکال کر سڑک پر کھڑا کیا ہوا تھا۔ جس نے اوپر قمیض اور ٹائی لگائی ہوئی تھی جبکہ نیچے شلوار پہن رکھی تھی۔اس کا مذاق اڑانے،بلکہ ذلیل کرنے کے لیے اس کو سر بازار رسوا کیا جا رہا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر محظوظ ہوتے اور قہقہے لگاتے ہوئے گزر جاتے۔ ایک پاکستانی کو اس حلیئے میں دکھانے کایہ ایک انتہائی گھناؤنا اور گھٹیا فعل تھا لیکن سوچا جائے کہ بڑا مجرم تو وہ خود پاکستانی ڈرائیور تھا جس نے واضح طور پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اور اب جگ ہنسائی کا سامان بنا ہوا سر جھکائے کھڑا تھا۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -