پرکشش معاوضے، ملازمین میں وفاداری پیدا نہیں کرتے، لیکن ہر ملازم کیلیے عزت و احترام پر مبنی رویہ ملازمین کو ادارے کا وفادار بنا دیتا ہے 

 پرکشش معاوضے، ملازمین میں وفاداری پیدا نہیں کرتے، لیکن ہر ملازم کیلیے عزت و ...
 پرکشش معاوضے، ملازمین میں وفاداری پیدا نہیں کرتے، لیکن ہر ملازم کیلیے عزت و احترام پر مبنی رویہ ملازمین کو ادارے کا وفادار بنا دیتا ہے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:101
”اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں اس قصبے میں واپس آگیا اور انتظامیہ میں اپنے پاؤں جمانے کے لیے ایک معمولی عہدہ حاصل کر لیا اور پھر میں انپے طریقہ کار کے مطابق کام کرتا گیا۔ میں نے انتظامیہ میں کچھ زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لیا اور کمپنی کی بہتری کے لیے کچھ اقدامات اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پانچ سال قبل، انتظامیہ نے مجھے منتظم اعلیٰ بنا دیا لیکن میں اب بھی خود کو ان ملازمین جیسا ہی ایک ملازم سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں اپنی کمپنی کے پیداواری شعبے میں سب سے زیادہ تنخواہ وصول کرنے والا شخص ہوں، لیکن پھر بھی ان ملازمین کے لیے میں قابل قبول ہوں۔ وہ مجھے اس لیے پسند کرتے ہیں کہ میں ان پر اپنی برتری جتانے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں واقعی سمجھتا ہوں کہ ”ہم سب انسان خدا کی نظر میں برابر ہیں۔“
سام نے اپنی داستان جاری رکھی: تمہیں معلوم ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کمپنی کے لیے سب سے مفید کام میں نے جو کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس کمپنی کے عام موجود ہ ملازمین یہ جانتے ہیں کہ میرا باپ انہی میں سے تھا۔ او رمیں بھی اپنے باپ کی مانند ہوں، لیکن میری انجینئرنگ کی تعلیم نے مجھ میں یہ غرور ہرگز پیدا نہیں کیا کہ میں ان سے بہتر ہوں۔“
”میں کمپنی کے ہر ملازم کی عزت کرتا ہوں کیونکہ ہر ملازم ہماری ٹیم کا ایک حصہ ہے۔ اور چونکہ میں ان کی تحقیر نہیں کرتا، بلکہ ان کی عزت کرتا ہوں، اس لیے جب بعض اوقات انہیں دوگنے وقت کے لیے کام کرنا پڑتا ہے یا انہیں کوئی ناخوشگوار کام سونپ دیا جاتا ہے تو وہ ہرگز شکوہ و شکایت نہیں کرتے۔“
سام نے اپنی داستان ختم کرتے ہوئے کہا: ”پرکشش معاوضے، ملازمین میں وفاداری پیدا نہیں کرتے، لیکن ہر ملازم کے لیے عزت و احترام پر مبنی رویہ، ملازمین کو ادارے کا وفادار بنا دیتا ہے۔“
دوسروں کے لیے ایثار اپنا معمول بنائیے، دراصل یہ بھی ایک سرمایہ کاری ہے:
اکثر لوگوں کے نزدیک لفظ ”ایثار قربانی“ کے معنی منفی نوعیت کے ہیں کیونکہ وہ اس لفظ کی آدھی تعریف جانتے ہیں، یعنی وہ الفاظ جس کے مطابق ”اپنی سب سے پسندیدہ شئے قربان کر دینی چاہیے۔“ مزید برآں لوگ یہ نہیں جانتے کہ اس لفظ کے دوسرے حصے کی تعریف کیا ہے، یعنی  ایک اعلیٰ مقصد حاصل کیا جاسکے یا بہت ہی قابل قدر اور قیمتی شے حاصل کی جائے۔“
جب ہم لفظ ”ایثار/قربانی“ کی مکمل تعریف سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور اس کا اطلاق بھی اس کی مکمل تعریف کے اعتبار سے کرتے ہیں تو پھر ہم اپنے لیے عظیم خوشی، مسرت، اپنی ذات کی قدر و قیمت اور دولت حاصل کر لیتے ہیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -