ڈی 8 کانفرنس.... بے وقت کی راگنی

ڈی 8 کانفرنس.... بے وقت کی راگنی
ڈی 8 کانفرنس.... بے وقت کی راگنی

  

وزیر داخلہ رحمان ملک نے محرم الحرام کے آغاز میں ہی ملک میں ہونے والی ممکنہ دہشت گردی سے خبردار کر دیا تھا۔ ان کا کہا حرف بحرف درست ثابت ہوا۔ وطن عزیز میں محرم کبھی امن کے ساتھ نہیں گزرا۔ یہی کچھ اس محرم میں بھی ہوا۔ چھ محرم بدھ کو تو لگا کہ پورا ملک دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اگلے روز سات محرم، 22 نومبر کے تمام اخبارات دہشت گردی کی ایسی خوفناک اور دل سوز خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ ”راولپنڈی میں امام بارگاہ قصر شبیر سے نکلنے والے محرم الحرام کے جلوس میں خود کش دھماکہ ہوا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد جاں بحق جبکہ 3 اہلکاروں، خواتین اور بچوں سمیت 70 افراد زخمی ہو گئے۔ کراچی میں امام بارگاہ کے قریب خودکش دھماکہ اور ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹاﺅن میں موٹر سائیکل میں نصب بم دھماکے میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد جبکہ بنوں اور شانگلہ میں بارودی سرنگ کے دھماکے اور فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ گھوٹکی میں امام بارگاہ کے قریب نا معلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد مارے گئے۔“

دل دہلا دینے والی دہشتگردی کی یہ وارداتیں چاروں صوبوں میں ہوئیں۔ جس دن اخبارات کا پیٹ ایسی منحوس خبروں سے بھرا ہوا تھا، اس روز آٹھ ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے لئے ان ممالک کے سربراہان نے پاکستان آنا تھا۔ ان کی آمد پر جشنِ نو بہار کی بجائے ملک میں اجتماعی جنازے اٹھ رہے تھے۔ ہر چہرہ سوگوار، ہر آنکھ اشکبار اور میڈیا میں موت کا رقص جاری تھا۔ ماہ محرم ہنگامی طور پر آیا نہ ڈی ایٹ کانفرنس ایمرجنسی میں بلائی گئی۔ محرم میں کانفرنس کا انعقاد ہماری خارجہ پالیسی ترتیب دینے والوں کی اہلیت کا منہ چڑا رہا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کی ماضی میں ہونے والی سات کانفرنسیں ثمر بار ہوئیں نہ پاکستان میں ہونے والی صدر زرداری کی سربراہی میں ہونے والی اس کانفرس سے کوئی دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کی سبیل نکلے گی۔ ترکی، انڈونیشیا، ایران، مصر، نائیجیریا ، ملائیشیا اور بنگلہ دیش کے رہنماﺅں نے بوجھل دل کے ساتھ اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔ اعلامیہ پر دستخط کئے اور پاکستان سے دہشتگردی فرقہ واریت اور قتل و غارت گری کی یادیں لے کر چلے گئے۔ دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کی دنیا میں پہلے بھی بدنامی کوئی کم نہ تھی، اب اس میں مزید اضافہ ہو گیا، محض حکام اور متعلقہ وزارت کی نالائقی کی وجہ سے۔ ایک ڈاکٹر کا اسسٹنٹ بھی مریض کو اپوائینٹ منٹ دیتے ہوئے دنوں اور چھٹیوں اور دیگر معاملات کو مد نظر رکھتا ہے اور یہ ملک چلانے والے اتنے غافل کہ سات محرم کو ایک عالمی ایونٹ رکھ لیا۔

عرب لیگ، او آئی سی اور سارک کی طرح ڈی ایٹ بھی ایک غیر فعال فورم ہے۔ جن مقاصد کے لئے 1997ءمیں اس کا قیام عمل میں آیا ان میں سے ایک بھی نہ صرف حاصل نہیں ہو سکا بلکہ حصول کی طرف پیشرفت بھی نہیں ہوئی۔ ترقی پذیر 8 مسلم ممالک اقتصادی ترقی کے لئے متحد ہوئے تھے۔ 1997ءمیں اپنے قیام کے وقت یہ ممالک مشترکہ طور پر دنیا کی کل آبادی کا 13.5 فیصد تھے۔ یہ اتحاد 15 جون 1997ءکو ترکی کے شہر استنبول میں ایک اعلان کے بعد قائم ہوا۔ اس اتحاد کے قیام کی بنیادی وجہ ترکی کے سابق اسلام پسند وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی مسلم ممالک سے قربت کی خواہش تھی۔ ڈی 8 کے مطابق اس گروپ کے قیام کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو عالمی اقتصادیات میں نمایاں مقام عطا کرنا، تجارتی تعلقات کو متنوع کرنا اور ان میں نئے مواقع تخلیق کرنا بین الاقوامی سطح پر فیصلہ سازی میں کردار کو بہتر بنانا، اور بہتر معیار زندگی فراہم کرنا شامل تھے۔ رکن ممالک کے درمیان تعاون کے مرکزی شعبے مالیات، بینکاری، دیہی ترقی، سائنس اور طرزیات (ٹیکنالوجی)، انسانی ترقی، زراعت، توانائی، ماحولیات اور صحت تھے.... بتایئے ان میں سے کونسا مقصد حاصل ہوا؟

22 نومبر کی کانفرنس کے 35 نکاتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ ڈی 8 ممالک تجارت، صنعت، مواصلات، اطلاعات فنانس، مشترکہ سرمایہ کاری، کسٹم، انشورنس، زراعت، دیہی ترقی، توانائی، معدنیات، نقل و حمل، صحت، ماحولیات، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کریں گے۔ فیصلہ سازی، خارجہ تعلقات، تنازعات کے حل، بجٹ، رضا کارانہ مالی تعاون، مراعات، قانونی شقوں سمیت تنظیم کی مختلف سرگرمیوں، اصولوں اور مقاصد کا نہایت تفصیل کے ساتھ احاطہ کیا گیا۔ کانفرنس میں گلوبل ویژن 2030- 2012ءمیں اچھے نظم و نسق، قانون کی حکمرانی مستحکم، اقتصادی پالیسیوں اور سیاسی استحکام کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ڈی ایٹ کے اعلامیہ کا اہم نکتہ تھا کہ ڈی ایٹ ممالک اسلامی بنکاری سے بھرپور استفادہ کریں گے........ کانفرنس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک ان ممالک نے ایک دوسرے کے لئے 15 سال میں کیا کیا ہے، پورا زور اسی پر رہا کہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ یہ سب کرنے سے پہلے کس نے روکا تھا؟ ڈی ایٹ کے اعلامیہ کا اہم نکتہ تھا کہ ڈی ایٹ ممالک اسلامی بنکاری سے بھرپور استفادہ کریں گے۔ اسلامی بینکاری کے حوالے سے رکن ممالک سے استفادہ کریں گے؟ ممبر ممالک میں کسی ایک کے بھی ہاں اسلامی بینکاری نہیں۔

آٹھ چوٹی کے اسلامی ممالک اکٹھے ہوئے ،لیکن فلسطینیوں پر اسرائیل کے ڈھائے جانے والے مظالم کو دہشتگردی قرار دے کر اس کی مذمت کر دی۔ اسرائیل کے خلاف کوئی مضبوط لائحہ عمل ترتیب اور تشکیل نہیں دیا گیا۔ کیا آٹھ اسلامی ممالک کی اس مجلس کو نشستند، گفتندو برخاستند قرار نہ دیا جائے؟     ٭

مزید :

کالم -