بہت خوب انڈیا

بہت خوب انڈیا
 بہت خوب انڈیا

  

 بھارتی نظام کا سیکولر افتخار بہت جلد مٹی میں ملنے والا ہے۔ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی نے اب سیکولر جماعتوں کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنا نقاب اُتار دیں ۔آہستہ آہستہ بھارت کے سیاسی نظام کی طاقت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ دُنیا کی اِس سب سے بڑی جمہوریت کے پاس اب جمہوریت پر نازاں ہونے کی موجود علامتیں ایک ایک کر کے ختم ہورہی ہیں۔ جمہوریت ،انتہا پسند بھارت کو نہیں ،بلکہ انتہا پسندی ،بھارتی جمہوریت کو چلا رہی ہے۔آج کے بھارت میں رونما ہونے والے واقعات چیخ چیخ کر اِس کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔

 بھارتی منظر نامے پر بہت سے واقعات تیزی سے اُبھر رہے ہیں۔اجمل قصاب کو 21نومبر کی صبح انتہائی عُجلت اور رازداری سے پھانسی دے دی گئی ۔پھانسی سے پہلے اجمل قصاب نے نماز ادا کی اور صرف یہ پوچھا کہ کیا اُس کی ماں کو آگاہ کر دیا گیا ہے؟ اُ س کے بعد اجمل قصاب نے پھانسی تک خاموشی اختیار کئے رکھی....پھانسی سے پہلے اجمل قصاب خاموش رہا اور پھانسی کے بعد پاکستان....مگر بھارت خاموش نہیں تھا، بھارت میں اجمل قصاب کو پھانسی داخلی کشمکش کے غُل غپاڑے اور تضادات کے شور شرابے میں دی گئی۔آخر کیوں خود بھارت میں اجمل قصاب کی پھانسی کو دہشت گردی کے ایک خوف ناک واقعے کے جرم کی سزا کے طور پر نہیں سمجھا گیا؟ اجمل قصاب کو پھانسی ممبئی حملوں کی چوتھی برسی سے چار روز قبل اور بال ٹھاکرے کی موت کے دو روز بعد دی گئی۔بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے اجمل قصاب کے لئے رحم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے مِسِل(فائل)5نومبر کو وزارتِ داخلہ بھیج دی،جس پر وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے 7نومبر کو دستخط کر دئیے اور ٹھیک اُسی روز یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اجمل کو پونا کی بڑودا جیل میں 21نومبر کو پھانسی دے دی جائے گی۔

 وزیر داخلہ نے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے مِسِل 8نومبر کو ہی مہاراشٹر حکومت کو بھیج دی تھی۔ یہ سارا عمل انتہائی رازداری اور برق رفتاری سے ہوا ۔ اگر یہ سب کچھ جلدی میں نہ ہوتا تو پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کا دورہ ¿بھارت ملتوی نہ کیا جاتا اور اگر یہ بہت پہلے سے طے ہوتا تو اُن کا دورہ¿ بھارت اِن تاریخوں میں رکھا ہی نہ جاتا جو اجمل کی پھانسی کی تاریخ کے آس پاس ہوتیں ۔ آزادی کے بعد اجمل قصاب 52 واں قیدی تھا ،جسے بھارت میں پھانسی دی گئی۔البتہ اجمل سے پہلے بھارت میں دھننجے چیٹر جی نامی ایک شخص کو2004ئمیں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ایسا بھی نہیں تھا کہ اجمل کے علاوہ بھارت میں سزائے موت کا منتظر کوئی قیدی ہی نہیں تھا۔سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی فہرست میں اجمل کا شمار 309 ویں قیدی کے طور پر کیا جاتا تھا۔ یہ وہ تناظر تھا جس میں اجمل کی پھانسی پر یہ سوال اُٹھا کہ بھارت نے آخر اتنی جلدی کیوں کی؟

 بھارت نے اجمل کی پھانسی کے ساتھ ہی بعض سنہری مواقع گنوادیئے ۔ممبئی میں 26نومبر 2008 ءکو ہونے والے حملوں کے حوالے سے پہلی مرتبہ پاکستان میں گہری حساسیت کا مظاہرہ ہوا ۔اور پاکستان نے بارہا مطالبہ کیا کہ اُسے اجمل کے خلاف ہونے والے تحقیقاتی عمل کا حصّہ بنا یا جائے ۔یہ خود بھارت کے لئے دو طرح سے سود مند ہوتا....اولاً: پاکستان کو خود دہشت گردی کی جڑوں تک پہنچنے کے لئے ٹھوس اور قابلِ اعتماد رسائی ملتی ،جس سے بھارت کو اپنے موقف کی” سچائی“ پر یقین دلانے کا مشکل عمل آسان ہو جاتا.... ثانیاً:پاکستان کے اندر ایک طبقے کا موقف تھا کہ اجمل کے حوالے سے پورا تحقیقاتی عمل یکطرفہ ہے، اور درست معلومات کو جانچنے کا کوئی مستند ذریعہ میسر نہیں۔اگر پاکستان کو تحقیقات تک براہِ راست رسائی ملتی تو یہ موقف بے وقعت ہو جاتا۔

اگر بھارت نمائشی طور پر بھی یہ اقدام اُٹھالیتا تو ایسا پہلی مرتبہ ہوتا کہ اُسے اپنے موقف پر پاکستان کے اندر سے ہمدردی حاصل ہوجاتی۔بھارت نے ایسا نہیں کیا اور نہایت عُجلت میں اجمل کی پھانسی کا بندوبست کیا،جس سے نہ تو بھارت کی مضبوطی کا کوئی تاثر اُبھر سکا اور نہ ہی بھارتی نظام کی شفّافیت کا مظاہرہ ہو سکا۔اُن کی بات چھوڑیئے جو واقعات کا سرسری جائزہ لے کر امن کی آشا کا ڈھول پیٹتے ہیں،بھارت نے اجمل کی پھانسی کے ذریعے اپنے نظام کی کمزوریوں کو پوری طرح عُریاں کر دیا ۔بھارت میں تین تاملوں کو 1991 ءمیں راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی،لیکن اِس سزا پر عمل درآمد روکنا پڑا کیونکہ بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں اس پر انتہائی سخت احتجاج کا خطرہ رہتا ہے۔یہی کچھ معاملہ افضل گُرو کا بھی ہے جسے 2001 ءمیں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے،مگر اِس سزا پر عمل درآمد کی صورت میں بھی مقبوضہ کشمیر میں سخت احتجاج کا خطرہ ہے۔ ظاہر ہے کہ 1991ءاور2001ءکے واقعات کے قیدیوں کو چھوڑ کر بھارت نے 2008 ءکے قیدی کو سزائے موت اِس لئے بھی جلدی میں دے دی ہے کہ اجمل کی سزا کے خلاف بھارت میں کسی ردِعمل کا بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یہ تاثر خود بھارتی ریاست کے اندرونی دائرے میں نہایت خطرناک ہے۔بھارت تادیر اِس کی قیمت چُکاتا رہے گا۔

اِ س معاملے کا ایک اور پہلو بھی نہایت عجیب و غریب ہے۔بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ ایک سے زائد مرتبہ پاکستان آنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔اُن کی پاکستان آمد کو دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے لئے مفید بنانا چاہتی ہیں، کیونکہ دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے ملکوں میں تقریباً ایک ہی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔بد عنوانیوں کے الزامات نے دونوں طرف کی اتحادی حکومتوں کو عوام میں انتہائی ناپسندیدہ بنا دیا ہے۔ اب دونوں طرف کی حکومتیں مختلف چالبازیوں سے اپنے اپنے عوام کو دھوکا دینے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہیں۔طرفین کی حکومتیں من موہن سنگھ کے دورے سے یکساں ثمرات سمیٹنا چاہتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت من موہن سنگھ کے دورے کو اٹل بہاری واجپائی کے دورہ¿ پاکستان کی طرح اپنے لئے استعمال کرناچاہتی تھی، جس کا ذکر آج بھی میاں نواز شریف اپنی تقریروں میں کرتے ہیں، جبکہ من موہن سنگھ کی حکومت نہایت خاموشی سے پاکستانی حکومت کو قائل کررہی تھی کہ وہ سربجیت سنگھ کی سزائے موت کو معاف کرنے پر غور کرے۔اسی تناظر میں ایک سے زائد مرتبہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے من موہن سنگھ کے دورہ ¿پاکستا ن کے حوالے سے یہ واضح کیا کہ اس سے قبل فضاءکو سازگار بنانا ضروری ہے۔پاکستان کے سفارتی ذرائع اِس کی تشریح سربجیت سنگھ کی سزائے موت کی معافی کے اعلان سے ہی کرتے ہیں۔ من موہن حکومت نے اجمل کی پھانسی میں عجلت کا مظاہرہ کرکے دراصل پاکستانی حکومت کے لئے سربجیت سنگھ کے معاملے میں کسی ہمدردانہ فیصلے پر غور کو نہایت مشکل بنادیا ہے۔دراصل دونوں ملکوں کے لئے سربجیت سنگھ اور اجمل ایک ہی مسئلے کے دو منہ ہیں ۔پھر پاکستان ،بھارت سے مختلف طرزِ عمل کیوں کر اختیار کر سکتا ہے؟عملاًمن موہن سنگھ کے دورہ¿ پاکستان کے امکانات ہی کم ہوتے جارہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ بھارت نے اجمل کی پھانسی میں اس قدر عجلت کا مظاہرہ کرکے اِن تمام پہلوو¿ں کو کیوں نظر انداز کیا؟بھارت میں یک جماعتی حکومت کا دور اب لد چکا ہے ۔یہاں پر اب ایک طویل عرصے سے چند جماعتوں کا اتحاد حکومت کرتا آرہا ہے،جسے اپنی کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث حکومت کرنے میں بہت دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔ کانگریس کی موجودہ اتحادی حکومت اِن دنوں ایسی ہی دشواریوں سے دوچار ہے،جسے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے والی ترنمول کانگریس کی طرف سے اب تحریک ِ عدم اعتماد پیش ہونے کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔اکثر پارلیمانی جماعتیں تھوک فروشی کے کاروبار میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت پر حکومت کے خلاف کھڑی ہیں ، جن میں خود کانگریس کی اتحادی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ بد عنوان اور کمزور نظم ونسق نے بھارتی جمہوریت کو ایک شرمناک تماشے میں بدلنا شروع کر دیا ہے، جس میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی کی اپنی الگ وحشیا نہ دھمال بھی جاری ہے۔

پچھلے دنوں سماجی ذرائع ابلاغ میں بال ٹھاکرے کی موت پر دو روز کی ہڑتال پر سوال اُٹھانے والوں کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے لئے گاندھی کا عدم تشدد کا فلسفہ ،شیوسینا کے بال ٹھاکرے نے عملاً غیر موثر بنا دیا ہے۔شیو سینا کا نام ہی شیواجی(19فروری 1627 تا 3اپریل1680ئ) پر رکھا گیا ہے ۔شیوا جی بھوسلے نے مغل سلطنت سے بغاوت کر کے 1674ءمیں ایک آزاد مرہٹہ سلطنت کی بنیاد رکھی تھی اور ہندو انتہا پسندی کو فروغ دیا تھا۔بال ٹھاکرے نے گاندھی کے فلسفے کو غیر موثر بناتے ہوئے شیواجی کے انتہا پسندانہ طرزِ فکر و عمل کو بھارت کا سکہ رائج الوقت بنا دیا ہے۔ کانگریس بھی عملاً اب اِسی جھولے میں جُھول رہی ہے۔اجمل کے معاملے میں کانگریس نے اپنی داخلی کشمکش کے اِنہی سیاسی مقاصد کو سامنے رکھا ہے،کیونکہ اب یہ وہ بھارت ہے جہاں شیواجی ،بال ٹھاکرے ،ایل کے ایڈوانی اور نریندر مودی ایسے لوگ تیزی سے مقبولیت پا رہے ہیں۔کانگریس اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی میں خود کو متعلق رکھنا چاہتی ہے،چنانچہ اُس نے اجمل کے معاملے میں سبقت کا مظاہرہ کر کے ہندو انتہا پسندوں کو عین اُس وقت اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے، جب بال ٹھاکرے کی موت کو ابھی دو ہی دن گزرے تھے۔ ہندو انتہا پسندی کی یہی آگ تو دہشت گردی کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے ،جس میں خود بھارت کی جمہوریت بھی جل رہی ہے اور اِس کا سیکولر فخربھی۔کسی اور نے نہیں ،بھارتی اداکارہ سلینا جیٹھلی نے اجمل قصاب کی پھانسی پر سب سے بہتر تبصرہ کیا:” بہت خوب بھارتی حکومت!مگر افسوس جس نظریے نے اجمل قصاب کو دہشت گرد بنایا....وہ آج بھی زندہ ہے.... بہت خوب ! سلینا جیٹھلی بہت خوب....!  ٭

مزید :

کالم -