طالبان کے قہقہے

طالبان کے قہقہے
طالبان کے قہقہے

  

پہلی بار یہ خبر منظر عام پر آئی ہے کہ طالبان کے ترجمان نے قہقہہ لگایا ہے۔ یہ غالباً پہلا قہقہہ ہے، ورنہ اِس سے پہلے تو ڈرون مسلسل قہقہے لگاتے تھے۔ طالبان کے قہقہہ لگانے کی وجہ ڈیوڈ پیٹریاس کا سیکس سکینڈل ہے، جس نے امریکیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان نے پیٹریاس کے سکینڈل کی روشنی میں سارے امریکیوں کو بدکردار قرار دیا ہے،جو سرا سر زیادتی ہے۔ ایک شخص کی غلطی کسی قوم کی اجتماعی غلطی نہیں ہو سکتی۔ جرم انفرادی طور پر کیا جاتا ہے۔ طالبان نے ڈیوڈ پیٹریاس کے سسرال والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے داماد کو سخت سزا دیں، اِس کے لئے اسلامی،بلکہ طالبان قوانین پر عمل کرتے ہوئے گولی مار دیں۔

 اِس سارے معاملے میں ایک بات ضرور ہوئی کہ ڈیوڈ پیٹریاس کی وجہ سے طالبان کے ترجمان نے قہقہے لگائے.... یوں ایک امریکی اُنہیں ہنسانے اور خوش کرنے میں کامیاب ہوا، طالبان کو اُس کا ممنون ہونا چاہئے کہ جہاں امریکی اُنہیں خون کے آنسو رُلاتے ہیں، وہاں ایک نے قہقہے بھی لگوائے۔ ڈیوڈ پیٹریاس سیکس سکینڈل والا معاملہ خاصہ سنجیدہ ہے.... ایک اہم عہدے پر ہو کر کسی غیر ذمہ داری کا ثبوت دینا قابل گرفت جرم ہے، اِس کی یقینا چھان بین کے بعد سزا دی جائے گی۔

امریکہ کے صدر باراک حسین اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس سیکس سکینڈل سے قومی سلامتی کو کسی قسم کے خطرے کے شواہد نہیں ملتے۔ دوسری طرف منظر عام پر آنے والی ”پاﺅلا“ کا سیکیورٹی کلیرنس، جبکہ جیل کیری کا فلوریڈا کے ایئر بیس میں داخلے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سیکس سکینڈل کا باقاعدہ معائنہ کیا جا رہا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ خیال ہے جلد ہی تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

امریکی قوم ابھی سینڈی سے نبرد آزما تھی کہ اُسے ایک اور صدمے سے دوچار ہونا پڑا، جس نے ملکی اور عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ میں نظام زندگی کے پہیے کو زیادہ تر خواتین چلاتی ہیں۔ معیشت، صنعت، تجارت اور سیاست میں بھی اُن کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر سکینڈل منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور جب کسی بڑے کی بات ہو تو زیادہ پھیلتی ہے۔ بدنامی بھی بڑی سطح پر ہوتی ہے، اِسی لئے ڈیوڈ پیٹریاس کے سکینڈل نے قومی اہمیت حاصل کر لی ہے۔

دُنیا امریکہ کو ہر وقت اپنے سامنے رکھتی ہے، وہ اُسے ایک معیار سمجھتی ہے اور جب معیار گر جائے، تو بہت بڑا المیہ ہوتا ہے، اِس وقت بھی امریکہ کے ساتھ ایک بڑے عہدےدار کے سیکس سکینڈل نے پوری امریکی قوم کا سر جھکا دیا ہے۔ امریکہ میں میڈیا بڑی حد تک آزاد ہے ، اِس لئے کوئی خبر مل جائے، تو اُس کی تشہیر خوب ہوتی ہے اور تیسری دُنیا کی طرح اُسے دبایا یا روکا نہیں جا سکتا۔ ڈیوڈ پیٹریاس کے سیکس سکینڈل کو بھی میڈیا کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت ملی، یہاں تک کہ طالبان بھی قہقہے لگانے لگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس میں خوش ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے، کسی کی بے عزتی، ذلت، ندامت خود اُس کے لئے باعث شرم ہوتی ہے، اُس پر قہقہہ لگانا ایک نامناسب فعل ہے، جو قوم جیسی ہوتی ہے، اُس سے سب واقف ہوتے ہیں۔

یہ بات سچ ہے، جس طرح ایک دہشت گرد کی ذمہ داری پوری قوم نہیں لیتی، اِسی طرح ڈیوڈ پیٹریاس کے فعل کی ذمہ دار امریکی قوم نہیںہے، اچھے بُرے، بھلے ، نیک ، بد، ایماندار، بے ایمان ہر معاشرے اور قوم میں ہوتے ہیں، اُن سے کسی ملک ، قوم یا معاشرے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ڈیوڈ پیٹریاس کے کردار سے کسی امریکی کا کوئی تعلق نہیں.... یہ اُس کا انفرادی فعل ہے، جس کی اُسے جرم ثابت ہونے پر یقینا سزا ملے گی اور یہ باب بند ہو جائے گا۔ تیسری دُنیا میں سیاسی رہنماﺅں کے نت نئے سکینڈل ہر روز منظر عام پر آتے ہیں، پھر لوگ بھول جاتے ہیں،کچھ عرصے کے بعدوہ رہنما دوبارہ نئے سرے سے سامنے آ جاتے ہیں اور پھر وہی سب کچھ دہراتے ہیں.... یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، امریکہ میں کم از کم ایسا نہیںہوتا،غلطی درگزر نہیںکرتے۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ امریکی قوم چاہے کتنی ہی کردار کی خراب ہو، لیکن اپنا رہنما سب سے زیادہ باکردار منتخب کرتی ہے اور لمحے بھر کو دائیں بائیں نہیں ہونے دیتی اور کبھی ایسا ہو تو اُسے معاف نہیں کرتی۔    ٭

مزید :

کالم -