25کھرب روپے ٹیکس اداکرنیوالی قوم ہرچیز کیلئے بھکاری ہے

25کھرب روپے ٹیکس اداکرنیوالی قوم ہرچیز کیلئے بھکاری ہے

لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین ایگری فورم پاکستان ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ 2500 ارب روپے سالانہ ٹیکس دینے والی پاکستانی قوم بجلی، روٹی، سبزی، گیس، تعلیم و صحت کےلئے بھکاری بنی پھرتی ہے۔اگر ملک میں حکومتی اخراجات میں 30فیصد کمی، بجلی کی چوری بند اور سابقہ بقایاجات 440 ارب روپے و گیس کی چوری ختم کردی جائے تو پاکستان میں کسی بھی ضرورت زندگی کی کمی نہیں ہے دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیںجہاں اتنا بڑا سالانہ ٹیکس اکھٹا ہوتا ہو اور وہاں کے رہنے والے بنیادی ضروریات کےلئے ترستے پھریں۔وقت آگیا ہے کہ حکومت عوام سے جو ٹیکس اکھٹا کرتی ہے اسے شفاف انداز سے خرچ کرے اور اس خرچ کی تفصیلات قوم کو بتائے اس عمل سے جہاں نئے ٹیکس گزار پیدا ہونگے وہاں دوسرے ٹیکس دینے والے بھی رغبت سے ٹیکس ادا کریں گے اور ملک کی معاشی حالت ابتری سے نکل کر بہتری کی طرف آ جائے گی اگر ملک میں دیانتداری اور میرٹ کی بنیاد پر ٹیکس اکھٹا کیا جائے اور اکھٹی کی جانے والی رقم عوام اور ملک پر خرچ ہو اس سے بابو اور حکومتی افسر عیاشی نہ کریں تو آج بھی ملک میں 50لاکھ ٹیکس دینے والے ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔ جو سالانہ 4000 ارب روپے ٹیکس ادا کرسکتے ہیں ٹیکس کی کولیکشن میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ محکمہ ٹیکس اور ٹیکس اکھٹاکرنے والی مشینری ہے۔ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا کہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بناکر ہم ملک کے تمام قرضوں سے جان چھڑا کر اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔

 اور خوراک ، روزگار، بجلی، گیس، تعلیم، صحت و امن عامہ جیسے معاملات ایک سال میں ٹھیک کر سکتے ہیں موجودہ حکمرانوںکو اپنی صفوں میں دیانتداری کا رواج دینا ہوگا نا اہل افراد کو اہل افراد کے زریعے تبدیل کرنا ہوگا اور ذات برادری سے بالا تر ہوکرپاکستان کا سوچنا اور سخت فیصلے کرنا ہونگے نئے ڈیم جن میں کالاباغ ، داسو، بھاشا، اکھوڑی و بونجی شامل ہیں غیر ملکی پاکستانیوں کی 10 ارب ڈالر کی کمپنی بنا کر انہیں ان ڈیموں کی تعمیر اور ان سے بجلی پیدا کرنے کا ہدف دیا جائے اور صارفین اس کمپنی سے بجلی خریدے اور اس طرح بجلی کے بلوں میں سالانہ 400 سے 500 ارب روپے کی چھوٹ بھی مل سکتی ہے۔

مزید : کامرس