وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے نیشنل سیکورٹی وار کورس کے شرکاءسے خطاب

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے ...

   

                                                                                            خواتین و حضرات! السلام علیکم !

آپ کو یہاں پر خوش آمدید کہنا میرے لئے ایک باعثِ مُسرت امر ہے ۔ میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ریفریشر کورس کے لئے آنے والے تمام شرکاءکو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اس کورس کے بعد آپ ناصرف ہمارے سسٹم کی گہرائی سے واقف ہوئے ہوں گے بلکہ اس کی خامیوں اورکوتاہیوںکو سمجھ کران کا تدارک کرکے اسے بہتر بنانے کیلئے بھی مﺅثر کردار ادا کریں گے۔ تاہم گفتگو کا دائرہ وسیع کرنے سے قبل میں حالیہ واقعات کے متعلق چند الفاظ آپ کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں ‘ سیاست دانوں‘ پولیس کے افسران اور جوانوں و دیگر سرکاری مشینری کی ان تھک کاوشوں سے‘ اب کے برس محرم الحرام کے دوران مجموعی طور پر امن و امان رہا ۔ تاہم راول پنڈی میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ رونما ہوا‘اور ستم ظریفی یہ رہی کہ ایک بھائی کے ہاتھوں دوسرے کی جان گئی۔ متحارب گروہ ایک خدا‘ ایک پیغمبرﷺاور ایک کتاب یعنی قرآن کریم پر یقین رکھنے والے ہیں مگر افسوس کہ یہ سب کچھ دین کے نام پر کیا گیا۔ میرا مقصد انتظامیہ اور پولیس کی خامیوں پر پردہ ڈالنا ہرگز نہیں۔ یہ بات طے ہے کہ انتظامیہ کو اس کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ہائی کورٹ کے ایک معززجج کواس سانحہ کی آزادانہ تحقیقات کے لئے مقرر کیا گیا ہے‘ مزید برآں ایک انتظامی کمیٹی بھی فرقہ واریت کی اس تازہ لہر کا سبب معلوم کرنے پر مامور ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایک معاشرہ جو محمد علی جناح جیسے عظیم قائد کی بے مثل قیادت اور ہمارے آباﺅ اجداد کی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا‘ ایک ایسا معاشرہ جس کا خمیر برداشت‘ تحمل اور بردباری ایسے اوصاف سے اُٹھا تھا‘ آج عدم برداشت کی تصویر کیوں کر بن گیا ہے۔ 1947ءمیں لاکھوں افراد نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی اور ایک عدیم النظیرمعاشرہ تشکیل دیا جو بہترین قیادت ‘ اتحاد اور بے مثال قربانیوں کا مظہر تھا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی معاشرہ حالیہ دس محرم کو اس واقعہ کی بناءپر پوری دنیا کے سامنے ایک برداشت سے عاری سماج کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ایک ایسا سماج جو اپنے مختلف مکتبہ ہائے فکر کے مابین عدم برداشت اور تشدد کے رویے رکھتا ہے۔

خواتین و حضرات !

اس صورت حال کی کڑیاں 80ءکی دہائی کے پسِ منظر سے ملتی ہیں۔ تاہم میں اس پر بعد میں اظہار رائے کروں گا۔ راولپنڈی واقعہ کی مذمت پوری قوم نے کی۔ گو کہ اس واقعہ نے ہمارے قومی چہرے کوداغ دار کیا ہے مگر ہماری پوری کوشش ہو گی کہ کسی جانب داری کو خاطر میں لائے بغیر ‘ بلا تاخیر پورا پورا انصاف کیا جائے۔ ایک جنگ جو ہماری نہیں تھی ‘ آج ہماری بن چکی ہے اور ہمارے سماج کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس جنگ میں 40 ہزار پاکستانی اپنی جانوں کی بھینٹ دے چکے ہیں ‘ اس کے ساتھ ساتھ نا صرف ہمارے جوانوں بلکہ افسران اور ان کے گھرانوں نے بھی جانیں قربان کی ہیں۔راول پنڈی کی مسجد میں جو ہوا وہ ناقابل فراموش اور تکلیف دہ ہے ‘ تاہم سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا آئندہ ایسے ناخو ش گوار واقعات سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس مناسب تعداد میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور آلات موجود ہیں؟ کیا ہماری ایجنسیوں کے پاس ایسے واقعات بارے قبل از وقت معلومات فراہم کرنے کے لئے مطلوبہ صلاحیت موجود ہے یا ہمیں اِن کی استعدادِ کار بڑھانے کی ضرورت ہے؟ مجھے اجازت دیجیے کہ میں لگی لپٹی بغیر واشگاف الفاظ میں یہ کہہ سکوں کہ اس ناسور کا مقابلہ کئے اور اس کو شکست دیے بغیر پاکستان کی معاشی ترقی نا ممکن ہے۔آخر ِ کارہمیں سَر اُٹھا کر عزت‘ وقاراور پورے قد کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اور ایک ترقی یافتہ مضبوط سماجی ڈھانچے کی تشکیل کرنا ہے۔ یہی آج کی بحث کا مرکز و محور اورنچوڑ ہے۔

خواتین و حضرات !

اب میں اپنی گفتگو کے اہم حصے کی طرف آتا ہوں۔ حال ہی میں ہمارے ہاں باوقار اور پُر امن طریقے سے انتقالِ اقتدار کی ایک مثال قائم ہوئی ہے۔ بیش تر اذہان میں یہ سوال اُٹھ سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس بات کا بطور خاص کیوں ذکرکر رہے ہیں‘ جمہوری اَدوار میں تو یہ معمول کی بات ہے ۔ ہاں .. برطانیہ میں یہ معمول کی بات ہے‘ یورپ اور شمالی امریکہ ‘ یہاں تک کہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ معمول کی بات ہے مگر ہمارے ہاں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک بڑی کام یابی ہے ۔ اب ہمیں جمہوریت کی چھتری تلے معاشی استحکام کو یقینی بنا کر ترقی اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا ہے ۔ یہی اس ساری تگ و دو کا مقصد ہے اور جمہوریت دراصل اچھی حکمرانی (گڈگورننس) ہی کا دوسرا نام ہے۔

ہمیں عوام کو اچھی حکمرانی فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور ان کے ضیاع کو روکنا ہے ۔ لوگوں کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات اُٹھائے گئے ‘ اور یہ بھی کہ کیا پنجاب سمیت پاکستان کے دُور افتادہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کو کچھ کیا جارہا ہے یا نہیں۔ کیا یہ صرف طبقہئِ اشراف ہی کا حق ہے کہ وہ بوتلوں میں بند شفاف پانی پئیں جب کہ لاکھوں افراد کو صاف پانی کی بوند تک میسر نہیں؟ کیا کبھی پنجاب کے دور دراز علاقوں کے مکینوں کی رسائی صاف پانی ‘ بہتر خوراک‘ روزگار اور خوش حالی تک ہو پائے گی؟ میں پُر امید ہوں کہ انشاءاللہ ہماری اجتماعی کوششوں سے یہ سب کچھ ممکن ہو گا اور پاکستان اقوامِ عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام پا لے گا۔

جغرافیائی اعتبار سے ہم جہاں موجود ہیں وہاں ہمارے شمال میں چین ‘ مغرب میں افغانستان و ایران اور مشرق میں بھارت کے ملک ہمارے پڑوسی ہیں جن کی مجموعی آبادی ‘ ہمارے سمیت ‘ تین ارب ہے اور یہاں بے پایاںقدرتی وسائل موجود ہیں ۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان قدرتی وسائل کو عوام کی فلاح کے لئے کیسے استعمال کریں۔ میں سمجھتا ہوں یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے اور ہم سب کو اس پر سوچ بچار کرنی چاہیے ۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ آیا بھارت کے حوالے سے ہمارا وژن دفاعی نوعیت کا ہے یا اقتصادی؟ ہم کشمیر اور پانی جیسے توجہ طلب معاملات کو حل کریں یا بھارت کے ساتھ تجارت اور کاروبار کریں؟ ہمیں یہ بھی غور کرنا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف عوامی مسائل کا حل تلاش کریں یا پھر مذکورہ بالا معاملات کو طے کرنے کے لئے جنگ آزما ءرہیں۔ کیا جنگ ہی مسائل کا حل ہے؟ کیا فوجی تصادم کا راستہ ہماری ترجیح ہو سکتی ہے ؟ میرے خیال میں یہ بہت سخت اور چبھتے ہوئے مگر حقیقی سوالات ہیں ۔

خواتین و حضرات !

ہمیں ان تمام سوالات کے ایسے جواب تلاش کرنا ہیں جو فریقین کے لئے قابلِ قبول ہوں اور جن پر ہماری آئندہ نسلیں فخریہ انداز میں کہہ سکیں کہ ہمارے اَجداددانش مند تھے ‘ مکالمہ کرتے تھے‘ بحث کرتے تھے اور مسائل کا ایسا حل سامنے لاتے تھے جو ٹھوس اور دیر پا ہوتا تھا۔ اوّل الذکر سوال کے حوالے سے میں کچھ چبھتے ہوئے معاملات کی طرف اس گذارش کے ساتھ بڑھنا چاہتا ہوںکہ میرے اندازِ بیاںکو گرانی ئِ خاطر کا سبب مت بنائیے گا کیوں کہ میں یہ باتیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے کر رہا ہوں اور میری نظر میں آپ سب بھی بے حد لائقِ احترام پاکستانی ہیں۔ آئیے ! راولپنڈی کے حالیہ واقعہ پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستانی افواج ملک کے طول و عرض میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر ہمیں ناز ہے چناں چہ مجھے فخر کے ساتھ یہ کہنے دیجیے کہ راول پنڈی میں جب ہماری پولیس حوصلہ ہار چکنے کے قریب تھی تو پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے حالات پر قابو پایا اور معاملہ کو ناقابلِ تلافی بگاڑ سے بچا لیا۔ میں دل کی گہرائیوں سے پاک فوج کی شاندار خدمات کا اعتراف کرتا ہوں اور میرے پاس ان کے لئے حروفِ توصیف و سپاس ہیں کہ جب بھی سیلاب ‘ زلزلے یا کسی دیگر بنا ءپر ہنگامی صورت حال در پیش ہو تی ہے تو فوجی جوان سول انتظامیہ کے کندھے سے کندھا جوڑ کر حالات کو سنبھالتے ہیں اور مشترکہ جدوجہد کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہاں میں بارِ دگر یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اجتماعی سوچ و دانش کو انفرادی سوچ اور رائے پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ جب تک ہم اجتماعی سوچ نہیں اپنائیں گے‘ مسائل کے قابلِ قبول حل تک نہیں پہنچ سکتے خواہ یہ مسائل ہماری سیکورٹی سے تعلق رکھتے ہوں‘ معاشی و سماجی ہوں یا کوئی دیگر مسئلہ۔

میں 80ءکی دہائی کا ذکر کر رہا تھاجب ہمیں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد پہلی افغان جنگ درپیش ہوئی۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنے مدارس سے رضا کار فراہم کریں۔ ان رضا کاروں کو ایم آئی 6 اور سی آئی اے نے تربیت دی‘ ہتھیار فراہم کئے گئے اور بعض ملکوں نے بڑے پیمانے پر فنڈز مہیا کئے ۔ یوں ہمیں دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کا ملک (فرنٹ لائن سٹیٹ)بنا دیا گیا۔ پھر جب روس شکست خوردہ ہو کر افغانستان سے نکلا تو ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیااور کسی نے خبر تک نہ لی کہ ہم کس حال میں ہیں۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اُس وقت رضاکاروں کی صورت میں جو جہادی تھے‘ انہیں آج دہشت گرد قرار دیاجاتا ہے۔ گویا یہ سب وقت کی ضرورت تھی‘ اس میں حقیقت پسندی کا کوئی دخل نہ تھا بلکہ اُن کے ذاتی مفادات تھے۔ آج بھی یہی کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی معصوم شہریوں کے بے گناہ خون سے وہ اپنے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ یہ تضاد مدِ نظر رہے کہ 80ءکی دہائی کے جہادی ‘ جن کے ساتھ ان کادانت کاٹے کی روٹی کا رشتہ تھا، حوصلہ افزائی کے کلمات کہ تم بہترین مجاہد ہو‘ جن کی نذر کئے جاتے تھے ‘ آج اُن کی نظر میں وہ دہشت گرد ہیں ۔ اُن کے ہتھیاروں کا رُخ آج کشمیر یا کسی اور طرف یا پھر ہمارے ہی ملک کے اندر کر دیا گیا ہے۔ اسی پالیسی نے کلاشن کوف کلچر اور منشیات کو پروان چڑھایا اور آج یہ مُلک کا سب سے منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

خواتین و حضرات !

ہمارا ملک زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ ہمارے چالیس ہزار لوگ اس جنگ کو اپنی جانیں بھینٹ کر چکے ہیں اور خدا جانے دہشت گردی کے خاتمے تک کتنی مزید قیمتی جانوں کا خراج دینا ہو گا۔ اس عفریت سے کب ہماری جان چھوٹے گی۔ یہ صورتِ حال آسانی سے پیدا ہوئی ہے اور نا ہی آسانی سے ختم ہو گی‘ اپنی بھینٹ لے کر ہی ٹلے گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں حقیقت پسندی کا لبادہ اوڑھناہو گا۔ تمام تر توانائیاں اور وسائل یک جا کرنے ہوں گے ۔ کاﺅنٹر ٹیررازم فورس‘ جو پنجاب میں بن رہی ہے ‘ اس کو تربیت دے کر پورے ملک میں پھیلانا ہو گا ۔ میں اُن حقائق کو دہرا کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا جو چیئرمین پی این ڈی سامنے لا چکے ہیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کو تعلیم دینا ہو گی ‘ اُنہیں صحت کی سہولتیں پہنچانا ہوں گی۔ ہم پر یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ جنگ صرف بندوق کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی بلکہ تمام صوبوں اور وفاق کو یک جاں ہو کر اِن غیر ریاستی قوتوں کے خلاف برسرِ پیکار ہونا ہے جو نوجوانوں کو گم راہ کرتی ہیں۔یہ نوجوان بازاروں‘ دفاتر سمیت دیگر مقامات پر خود کو بارود سے اُڑا کر معصوم لوگوں کا خون کرتے ہوئے لمحے بھر کا تردد نہیں کرتے کیوں کہ انہیں بھٹکانے والوں کی طرف سے یہ سبق دیا جاتا ہے کہ اگر فلاں فلاں کو مارو گے تو اپنے پروردگار سے ملنے کا موقع اورجنت کا فرسٹ کلاس ٹکٹ ملے گا۔ ذرا غور کیجیے کیا اس طرح کی حوصلہ افزائی صرف رقم کے ذریعے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں‘ اس سارے عمل میں حملہ آوروں کے غیر پختہ نوخیز جذبات سے کھیلا جاتا ہے اور قرآن کریم کی بعض آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد ایک قوت بن چکے ہیں اور صبح شام ہمارے معاشرے میں تباہی پھیلا رہے ہیں۔

خواتین و حضرات !

یہ ہے وہ صلہ جو اس جنگ سے ہمیں ملا ہے ‘ جس نے ہمارے سماج کو زہر آلود کر دیا ہے ۔ اس کی وجہ سے معاشرے کا امن و امان داﺅ پر لگا ہے اور ہمیں عدمِ برداشت ‘دہشت گردی‘ بدنظمی کا سامنا ہے۔اس صورت حال کا ایک پہلو اور بھی ہے جو پچھلی دو دہائیوں کی بدنظمی کا نتیجہ ہے ۔ اس دوران آمرانہ اور سیاسی ہر دو طرح کی حکومتیں رہیں مگر پاکستان کے لوگوں کی توقعات پر پورا نہ اُترنے ‘ روز افزوں بدعنوانی‘ ملکی دولت کی بیرون ملک منتقلی اور اقرباءپروری جیسے مسائل بڑھتے رہے۔ یہ تمام عناصر اس بدترین صورت حال کے ذمہ دار ہیں جس کا آج ہمیں سامنا ہے ۔ چناں چہ آئیے ! تصویر کے صرف ایک ہی رُخ کا جائزہ نہ لیں بلکہ پورے منظر نامے کو سامنے رکھیں۔ جب تک ہم ایسے تمام عناصر سے نمٹ نہیں لیتے ‘ اچھی حکمرانی کے ذریعے تمام چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر لیتے عوام کی ایک ایک پائی کو امانت سمجھ کر شفاف طریقے سے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کرتے ‘ سادگی اور اپنے وسائل پیدا کرنے کے عملی اقدامات نہیں اُٹھا لیتے‘ اس چیلنج سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔

خواتین و حضرات !

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس چیلنج کے علاوہ جس کا آج ہمیں سامنا ہے‘ پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے اس امر پر تفصیلی غورو خوض کیا کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ایک ایسا ہول ناک عفریت ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہمیں لاءاینڈ آرڈر کا بڑا مضبوط ڈھانچہ درکار ہے۔ہم نے اس حوالے سے بہت سا ہوم ورک کر لیا ہے اور اس کو روبہ عمل لانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ چیلنجز بہت بڑے ہیں اور ان کو سمجھ کر اِن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ماضی میں حکومت کی طرف سے توجہ کی کمی کے باعث توانائی کا مسئلہ آج کا سب سے پہلا چیلنج بن چکا ہے ۔ ہم بھاشا ڈیم کی وقت پر تعمیر مکمل نہیں کروا سکے۔ عملی پیش رفت صفر ہے‘ نہ تو فنانشل منصوبے پر عمل ہوا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی دیگر پیش رفت ہوئی۔ میں آپ کی خدمت میں فقط دو مثالیں پیش کرتا ہوں جوتوانائی کے شعبے کی جانب ماضی کی حکومت کی عدم توجہی اور لا پرواہی آپ کے سامنے لائیں گی۔ماضی کی حکومت نے نندی پور پاور پراجیکٹ اور 425 میگا واٹ تھرمل پاور پراجیکٹ کے ٹھیکے داروں کو غیر مُلکی زر مبادلہ میں ادائیگی کر دی تھی ۔ چین کی ڈونگ فنگ کمپنی ٹھیکے دار تھی ۔ اڑھائی برس تک پلانٹ کی مشینری کراچی بندرگاہ پرپڑی زنگ آلود ہوتی رہی اور چینی ماہرین کی ٹیم نندی پور میں بے کار بیٹھی رہی۔ بندر گاہ کو کروڑوں روپے ہر جانے کے طور پر ادا کرنے پڑے اور کچھ مشینری بھی چوری ہوئی۔ اِس دوران صنعتوں کو توانائی کی کمی کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہوا۔اب یہ تمام مشینری نندی پور پہنچ چکی ہے اور چینی ماہرین کی ٹیم کو بڑی کوششوں کے بعد واپس لایا گیا ہے۔ مشینری کی تنصیب کر دی گئی ہے تاہم پاکستان کو یہ منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے 30 بلین روپے مزید ادا کرنے پڑے ہیں۔ اگر غفلت نہ برتی جاتی تو یہ منصوبہ محض 27 بلین روپے میں مکمل کر کے شروع کیا جا سکتا تھا۔ ذرا دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ‘کیا یہ غریب ملک اس طرح کی غفلت کا متحمل ہو سکتا ہے؟ امداد حاصل کرنے کے لئے دنیا کے سامنے کشکول پھیلایا جا رہا ہے مگر اس کے باوجود قابلِ عمل معاشی پلان بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ 6 ہزار میگا واٹ توانائی کی کمی کو پورا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔

آخر نندی پور پراجیکٹ پر اڑھائی سال پہلے کام شروع کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ بدعنوان عناصر کِک بیکس اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے قومی مفاد کو داﺅ پر لگا رہے تھے۔ اگر ہم چند ماہ میں مشینری کو بندرگاہ سے سائیٹ پر منتقل کر سکتے ہیں تو انہیں کس نے ایسا کرنے سے روکا تھا؟ ماسوائے اُن کی لالچ ‘ طمع اور بدعنوانی پر مبنی افتاد طبع نے۔ ان لوگوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نظر میں بھی پاکستان کی امیج کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔

میرا خیال ہے اب ہمیں کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینا ہو گی کیوں کہ درآمد شدہ تیل کی نسبت کوئلہ بہت سستا ہے ۔ ہم پاکستان میں تیل درآمد کرنے پر دس ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ چناں چہ وقت ضائع کئے بغیر یہ دس ارب ڈالر خرچ کرنے کے بجائے ہمیں کوئلے کے اپنے ذخائر سے مستفید ہونا چاہیے۔ حکومت ِ پاکستان توانائی کا بحران حل کرنے کے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کم از کم تین سال صرف ہوں گے۔ یعنی منصوبے کی فزیبلٹی ‘ انفراسٹرکچر اور کوئلہ پاور پلانٹ درآمد و نصب کرنے کے لیے تین برس کا عرصہ درکار ہو گا۔ ہمارے پاس قدرتی گیس موجود ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آ رہی ہے ہمیں درآمد شدہ قدرتی گیس یا مائع گیس پر انحصار کرنا ہو گا۔ مگر افسوس کہ نندی پور کی طرح یہ بھی ایک تکلیف دہ کہانی ہے۔ ہم پاکستان میں کم از کم دو سال قبل 7 ایل این جی لا سکتے تھے مگر یہ کرپشن کی ایک اور دل شکن داستان ہے کیوں کہ چند پسندیدہ افراد کی وجہ سے ایل این جی پاکستان نہیں پہنچ سکی۔ اس ذیل میں موجودہ وفاقی حکومت اپنی بہترین کوششیں کر رہی ہے۔ منصوبے کے ٹینڈر کھل چکے ہیں‘ اور ایل این جی لانے میں 7 سے 14 ماہ لگ سکتے ہیں ۔ اس کے بغیر ہم گیس کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ ہم ملک میں گنے کے پھوگ ‘ چاول کے چھلکے/ بھوسی ‘ کپاس کی چھڑیوں‘ گندم‘ مکئی اور سبزیوں کی باقیات کے 10 ملین ٹن سے بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کے کونے کونے میں پانچ سے دس میگا واٹ کے پلانٹ لگا کر بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں چین اور جرمنی کی مثال اپنانا ہو گی۔ جرمنی اپنے سالانہ فاضل مادوں سے 3500 میگا واٹ بجلی حاصل کر رہا ہے جبکہ پاکستان اسے ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح لائیو سٹاک کے حوالے سے پاکستان دُنیا کا چھٹا یا ساتواں بڑا ملک ہے مگر ہم اس سے توانائی کے شعبے میں فائدہ نہیں اُٹھاتے۔جرمنی جدید ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی کے ذریعے 3500 میگا واٹ حاصل کر رہا ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جرمن ماہرین اب لاہور میں ہیں اور میں ان سے ملاقات کرکے پاور پلانٹ لگانے کے لئے بات چیت کر رہا ہوں۔

جہاں تک شمسی توانائی کا تعلق ہے تو صرف پنجاب اور چولستان کے ریگ زاروں میں ہمارے پاس وافر دھوپ موجود ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے وسائل ایران یا قطر کے گیس کے وسائل کے برابر ہیں لیکن پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر شمسی توانائی سے ایک یونٹ پیدا کرنے کی بھی کوشش نہیں کی گئی۔تاہم اب بہاولپور میں قائد اعظم سولر انرجی پارک پر کام جاری ہے ۔ وہاں سڑکیں ‘ پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام ہو رہا ہے ۔ چین کی کمپنیوں سے اس منصوبے کے ذریعے ایک ہزار میگا واٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ ہم نے پنجاب میں 500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے سولر پاور پلانٹس کے لئے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے معاہدے کئے ہیں جن سے ارزاں نرخوں پر بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی۔ ہم نے آغاز کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں توانائی کا حالیہ منظر نامہ بدل دیں گے۔پہلے 100 میگا واٹ آئندہ چند مہینوں میں پنجاب کے قومی گرڈ میں شامل کر دئیے جائیں گے۔ سندھ میں جام پیر کے علاقہ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی خاصی گنجائش ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب اس سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اسی طرح تھرکول سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات سے فائدہ نہیں اُٹھایا گیا ‘ اب ہمیں ان سے فائدہ اُٹھانا ہے۔

خواتین و حضرات !

یہ اٹھارہ کروڑ لوگوں کا ملک ہے جس نے نام وَر سائنس دان ‘ ریاضی دان‘ بینکرز‘ سیاست دان ‘ جرنیل ‘ سپاہی‘ جج‘ کسان اور صنعت کار پیدا کئے ہیں۔ پاکستان آج ایک ایٹمی ملک ہے ۔حالات مشکل ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں تعلیم‘ صحت اور دیگر شعبوں میں بہت کچھ کرنا ہے اور اس کے لئے عزمِ صمیم کی ضرورت ہے۔ ہمارا عزم تھا کہ ایٹمی قوت بنیں گے اور اللہ نے ہماری مدد کی۔ یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ اللہ اُنہی کی مدد کرتا جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔میں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم صرف تقریریں کرتے رہے اور عملی اقدامات نہ اُٹھاسکے تو پھر قیامت تک اس ملک میں کچھ نہیں بدلے گا۔ لیکن اگر ہم کم بولیں اور با مقصد گفت گو کریں تو ہم اپنی مشکلات کو ترقی و خوش حالی اور دُکھوں کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے تاہم نا ممکن ہرگز نہیں ۔ دُنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ چین اور جنوبی کوریا کی مثال دی جا سکتی ہے جو 60 ءکی دہائی تک ہم سے رہ نمائی حاصل کرتے تھے اور ہمارے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔ آج یہ ہر لحاظ سے کام یاب ملک بن چکے ہیں۔ 90ءکی دہائی میں بھارت ہمارے معاشی ماڈل کی پیروی کر رہا تھا‘ ہماری معیشت بھارت سے کہیں زیادہ مضبوط تھی ‘ ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر بھارت سے بہت آگے تھالیکن آج ہم دیکھیں کہ بھارت کہاں کھڑا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ میں ان مثالوں کو اکثر دہراتا رہتا ہوں ‘ آپ بھی اس کا موازنہ کر سکتے ہیں کہ چین ہمارا بہترین اور با اعتماد دوست ہے لیکن چین کے ساتھ ہماری باہمی تجارت فقط 6 بلین ڈالر ہے جبکہ بھارت کے ساتھ چین کی تجارت کا حجم 85بلین ڈالر ہے ۔چین کے لوگ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہماری دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں جو کہنا چاہتا تھا وہ آپ تک پہنچانے میں کام یاب رہا۔

خواتین و حضرات !

میں آپ سب کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے میری باتوں کو غور سے سُنا۔ دوران گفتگو میں قدرے جذباتی ہو گیا تھا لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں جذبات کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ انشاءاللہ ہم تمام مشکلات پر قابو پائیں گے کیوںکہ میرا اس امر پر یقین ہے کہ پاکستان کی عظیم اجتماعی قوت کے سامنے کچھ بھی ناقابلِ تسخیر نہیں۔

آپ کا بے حد شکریہ!       ٭

   

مزید : کالم