یہ ہمارے دینی رہبر!

یہ ہمارے دینی رہبر!
 یہ ہمارے دینی رہبر!

  

                                                            انگریزوں نے1857ءکی جنگ آزادی کے بعد ایک تو دینی مدارس کے ساتھ وقف جائیدادیں ضبط کر لیں، دوسرے جہاد وغیرہ کی تبلیغ کرنے والے علماءکی دارو گیر شروع کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی پالیسی ایسی اختیار کی، جس کی وجہ سے عام آدمی خوشحالی کا مُنہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سکول، کالج تو کھلنے لگے تھے، لیکن مسلمانوں کے پاس فیس اورکتاب کاپی کا خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی تھی۔ عام مسلمان جب بچوں کی سکول کی تعلیم کے اخراجات پورے نہیں کر سکتا تھا، تو وہ ان کو دینی مدارس میں داخل کرا دیتا تھا۔جو بچے دینی علوم سے بہرہ ور ہو جاتے ان کے لئے سوائے مسجدیں، مدرسے سنبھالنے کے کوئی اور راستہ نہ ہوتا تھا۔ آج بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔علمائے کرام اپنی تقریروں اور تحریروں میں مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم اسلامی تعلیمات کو بھول گئے ہو، اس لئے تم پر زوال کا دور آ گیا ہے۔ ساری ذلتوں اور رسوائیوں کا سبب تمہاری دین کی طرف سے غفلت شعاری ہے۔ اگر تم اسلامی علوم میں طاق ہو جاﺅ اور عبادات کا نظام بہتر کر لو تو تم دنیا میں دوبارہ سرفرازی حاصل کر سکتے ہو۔ عام مسلمان اس وقت کا بھی علماءکے اس نقطہ ¿ نظر سے متفق تھا اور آج بھی ہے۔ اسے نہ اس وقت بتایا جاتا تھا اور نہ آج بتایا جا رہا ہے کہ اعتقادات اور عبادات کے ساتھ ساتھ کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہے گرد و پیش کا صحیح شعور۔ مسلمان یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ جو قومیں غالب آ گئی ہیں اور ہمیں گزشتہ صدی، ڈیڑھ صدی سے غلام بنائے ہوئے ہیں، تو اس کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ بدقسمتی سے علماءنے جدید علوم کی اس وقت بھی مخالفت کی اور آج بھی اِسی روش پر گامزن ہیں۔ ویسے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم کب کہتے ہیں کہ مسلمان فزکس، کیمسٹری، میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل نہ کریں، حالانکہ وہ اگر جدید سائنسی اور عمرانی علوم کے حصول کی مخالفت نہیں کرتے، تو محض مخالفت نہ کرنا بھی تو ایک لحاظ سے مخالفت کرنے ہی کے مترادف ہے۔ اگر انہیں جدید تعلیم کی قدر و قیمت معلوم ہوتی تو وہ فروعی جھگڑے چھیڑنے کی بجائے مسلمانوں کو اپنے ہر درس اور خطبے میں تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے۔ خود ان کا اپنا کردار ماضی سے حال تک یہی چلا آیا ہے کہ وہ اپنے مدارس کے نصابات کو بدلنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے۔ وہ اپنے مدارس کے طلبا کو ملکی اور بین الاقوامی مسائل و معاملات سے بالکل بے خبر رکھتے ہیں۔ محض انگریزی کا نہ پڑھانا بھی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ دورِ جدید کے مقامی اور عالمی حالات کے لئے تحقیقی اور تجزیاتی ذہن تیار کرنے کا ہے۔ یہ ذہن نہ ہمارے سکول اور کالج تیار کر رہے ہیں اور نہ ہمارے دینی علماءاور جماعتوں کو اس حقیقت کا شعور حاصل ہے۔ ہماری دینی جماعتیں خالص دینی مسائل پر رسالے اور کتابیں بہت چھاپتی ہیں، لیکن کسی عالم نے آج تک ملک کے معاشی عمرانی، قانونی اور سیاسی نظام پرکبھی کوئی کتاب نہیں لکھی۔انگریزی دور میں سی آئی ڈی والے بدنام تھے کہ وہ رہنماﺅں کی گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کرواتے ہیں۔ لیکن ہر شعبہ زندگی میں ایک بڑی تعداد تو ان لوگوں کی ہوتی تھی اور آج بھی ہے جو سرکار کے باقاعدہ ملازم تو نہیں ہوتے، لیکن اندر سے اجتماعی مسائل و معاملات میں حکومت وقت کی پالیسیوں کے حامی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اثرو رسوخ سے پیشہ ور تنظیموں اور دینی و سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کو حکومت کے حق میں بنوانے کے لئے سرگرم رہتے ہیں۔ انگریزی دور میں جتنے بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے یا تحریکیں چلتی رہیں ان میں ایسے لوگوں کا بہت عمل دخل ہوتا تھا۔ خواہ وہ برطانوی حکومت تھی یا آج کی ہماری اپنی حکومت ہے، وہ اپنے ایسے مخبروں اور دخل اندوزوں کے نام کبھی منظر عام پر نہیں لاتی۔انگریزی دور میں علمائے کرام کا طبقہ معاشرے کا پسا ہوا طبقہ تھا، لیکن ایک تو اس کا تعلق عوام سے ہوتا تھا۔ دوسرے، دینی علوم سے واقف ہوتا تھا اس لئے لوگ علماءسے مسئلے مسائل پوچھتے اور بچوں کو دینی تعلیم دلاتے تھے اس لئے انہیں کچھ نہ کچھ اجتماعی سطح پر مقام حاصل ہوتا تھا۔ ان میں سے کچھ حکومت کے نزدیک ہوتے تھے، چنانچہ فرقہ وارانہ جھگڑے جب زور پکڑتے تھے تو ان کے پیچھے ایسے لوگوں کا ایک کردار ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ابھی تک تاریخ اور سیاست کے شعبوں میں ایسی تحقیق شروع نہیں ہو سکی، جس سے معلوم ہو کہ کون کیا کرتا رہا، حالانکہ ان خفیہ معاملات کے بارے میں اب بھی ریکارڈ بڑی حد تک محفوظ ہے۔قیام پاکستان کے بعد ہمارے علماءنے اپنی بڑھتی ہوئی سماجی حیثیت کے پیش نظر سیاست میں بھی قدم رکھ لیا، اس لئے حکومت ان میں سے بعض کو استعمال کرتی تھی۔ یہ بھی خیال رہے کہ ہماری حکومتیں خواہ، مارشل لائی تھیں یا جمہوری وہ ہمیشہ باہر والوں کی خیر خواہ رہی ہیں۔ خود ان کے اندر ایسے عناصر ہمیشہ موجود رہے ہیں جو پالیسی سازی کے عمل میں عالمی طاقتوں کے مفادات کا ہمیشہ تحفظ کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس گندے اور مکروہ نظام سے قوم کی جان نہیں چھوٹتی۔جنرل محمد ضیاءالحق پہلے ایسے حکمران تھے، جنہوں نے اپنے اور عالمی طاقتوں کے مفاد میں علمائے کرام کی سرپرستی کی۔ ان کے علماءسے روابط افغان جہاد کی وجہ سے مزید بڑھ گئے تھے۔ جب تیسری یا چوتھی صف کا بھی کوئی عالم دین ان سے ملتا تو وہ اسے اتنے احترام کے ساتھ ملتے، حال احوال پوچھتے اور اس کے کسی مسئلے کے حل کے لئے فوراً احکامات جاری فرما دیتے کہ وہ حیران رہ جاتا۔ جنرل صاحب نے صرف صحافیوں اور ادیبوں، شاعروں ہی کو حج عمرے نہیں کروائے، علمائے کرام کو بھی اس حوالے سے بہت نوازا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ایک شیخ الحدیث نے بیان دے دیا: ”سب سے پہلا مارشل لاءحضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نافذ کیا تھا“۔افسوس یہ ہے کہ مقامی حکومتوں سے بات آگے بڑھ کر بیرونی ممالک تک چلی گئی ہے۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہ گیا کہ کن کن جماعتوں کی کون کون سا ملک سرپرستی کر رہا ہے اور کس کس طریقے سے کر رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کے پاس جاسوسی کے بے شمار ادارے ہیں، ان کے علم میں سب کچھ ہوتا ہے، لیکن وہ مصلحتاً نہ ان پر ہاتھ ڈالتی ہے اور نہ ان کی سازشوں کو بے نقاب ہونے دیتیں۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہی لوگوں سے خود حکومتوں نے بھی وقتا فوقتا کام لینا ہوتا ہے۔ہماری عام زندگی کئی سال سے دھماکوں اور حادثوں کے نہ رکنے والے سلسلے سے د وچار ہے۔ اربوں روپے کی املاک تباہ ہو رہی ہیں اور گلی گلی لاشوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں، لیکن کوئی بڑا حل نکلتا نظر نہیں آ رہا۔ شاید اس کی بڑی وجہ ہے کہ ہماری دینی جماعتیں اوپر والے مفاد پرست طبقات کے چُنگل میں اس حد تک گرفتار ہو چکی ہیں کہ نہ اُن کی اپنی کوئی پالیسی ہے اور نہ کوئی جرا¿ت مندانہ اقدام۔ پچھلے دنوں جماعت اسلامی کے امیر نے حکیم اللہ محسود کو شہید کہہ کر اچھی خاصی کھلبلی پیدا کر دی، جب یمین ویسار سے انہیں معاملے کی نزاکت سمجھائی گئی، تو پھر انہوں نے چُپ کی چادر تان لی۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں بھی مفاد پرست طبقات کی آلہ ¿ کار ہیں۔ وہ صرف وقت گزار رہی ہیں، حالانکہ فی الحقیقت پاکستانی حکومتیں ہوں یا علماءحضرات ان سب کو وقت گزار رہا ہے، لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے!   ٭

مزید : کالم