شام میں قیام امن کیلئے کانفرنس آئندہ برس جنیوا میںہوگی‘بان کی مون

شام میں قیام امن کیلئے کانفرنس آئندہ برس جنیوا میںہوگی‘بان کی مون

نیویارک/جنیوا‘ وا شنگٹن(آن لائن)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل با ن کی مو ن نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور وہاں قیام امن کے لیے مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس 22 جنوری 2014ءکو منعقد کرانے کا اعلان کر دیا ۔ ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ملک میں عبوری حکومت بنانے کا ’بہترین موقع‘ ہوگا۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق سیکرٹری جنرل بین کی مون نے اہنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ امن کانفرنس امید کا ایک مشن ہوگی اور ہم اسی مقصد کے لیے جنیوا جائیں گے۔انھوں نے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی کہ اس میں کون کون فریق شرکت کرے گا اور نہ انھوں نے یہ بتایا ہے کہ آیا ایران کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں۔اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے مہم چلانے والے دونوں ممالک امریکا اور روس کے درمیان ایران کو مدعو کرنے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ''شام میں جاری تنازعہ بہت طویل ہو چکا ہے اور اگر اس کے نتیجے میں عوام کے مسائل اور تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو یہ ایک ناقابل معافی امر ہو گا''۔مجوزہ جنیوا دوم امن کانفرنس جون 2012ءمیں منعقدہ کانفرنس کا فالو اپ ہوگی۔ اس سابقہ کانفرنس میں شریک ممالک نے شام میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل پر زور دیا تھا اور اس میں طے شدہ سمجھوتے میں کہا گیا تھا کہ آیندہ جنیوا میں امن مذاکرات سے قبل فریقین قیام امن کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں گے۔بین کی مون نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ جنیوا کانفرنس پ±رامن انتقال اقتدار کی گاڑی ہے۔

یہ شامی عوام کی آزادی اور وقار کے لیے امنگوں کو بھی پورا کرتی ہے اور اس میں شام کے تمام طبقات کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس کا مقصد 30 جون 2012ءکو طے پائے جنیوا اعلامیے پر مکمل عمل درآمد ہے۔ یہ اعلامیہ باہمی رضا مندی پر مبنی تھا۔اس میں مکمل انتظامی اختیارات کی حامل عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا اور اس حکومت کو فوج اور سکیورٹی اداروں پر بھی مکمل اختیار ہوگا۔ ادھرامریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ملک میں عبوری حکومت بنانے کا ’بہترین موقع‘ ہوگا۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا کہ جنیوا مذاکرات کی مدد سے شام کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا: ’ہم بخوبی واقف ہیں کہ شام میں سیاسی حل تک پہنچنے میں کئی رکاوٹیں ہیں اور ہم تمام پہلوو¿ں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جنیوا جائیں گے۔‘جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر معاملات پر کام جاری رکھیں گے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کن ممالک کو شرکت کی دعوت دی جائے اور ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا۔

مزید : عالمی منظر