ایڈنہیں ٹریڈ:ایک پُر فریب خیال

ایڈنہیں ٹریڈ:ایک پُر فریب خیال
ایڈنہیں ٹریڈ:ایک پُر فریب خیال

  

                                                                                            ہماری گزشتہ حکومت کو یہ نعرہ نجانے کس بزرجمہر نے سکھایا تھا۔اب یہی نعرہ ہماری موجودہ حکومت کی زبان پر بھی چڑھا ہوا ہے،حالانکہ یہ ایک گمراہ کن خیال ہے۔ہمارے حکمران عموماً غیر ملکی حکمرانوں سے ملاقات کے دوران یا اس کے تناظر میں اس نعرے کو دہراتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ وہ ”ایڈ“ یا امداد کے طلب گار نہیں بلکہ، تجارت کے راستے کھولنا چاہتے ہیں، لیکن آج کی دنیا میں کیپٹلزم کی جس طرح گلوبلائزیشن کی جارہی ہے، اس میں یہ نعرہ محض ایک بھونڈا مذاق ہے۔اس وقت میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ ہمارے حکمران کیونکر عملاً ہمیشہ سے ”ایڈ“ کو ہی ترجیح دیتے چلے آ رہے ہیں اور آج جب یہ نعرہ کثرت سے لگایا جا رہا ہے ، تب بھی ”ایڈ“ کے حصول کے لئے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔اس سلسلے کی تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ یہ جن سربراہان مملکت یا سربراہان حکومت سے ملاقاتیں کرتے ہیں، وہ ”ایڈ“ ہی دے سکتے ہیں....”ٹریڈ“ ان کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔

کیپٹلزم کے کارپوریٹ نظام نے دولت کو چند بڑی کارپوریشنوں تک محدود کردیا ہے۔یہ کارپوریشنیں اتنی مضبوط ہیں کہ حکومتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتیں۔آج کل حکومتوں کی خارجہ پالیسیاں اور جنگ و امن کے فیصلے یہ کارپوریٹ ادارے کرتے ہیں۔ امریکی صدور اور امریکی کانگریس ان کی خریدی ہوئی غلام ہے۔یہ اسے دیگر فیصلے کرنے میں پریشان نہیں کرتے،لیکن جہاں ان کے کاروباری مفادات کا معاملہ ہو، وہاں کانگریس کو وہی فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو یہ کارپوریٹ ادارے چاہتے ہیں۔ امریکہ میں انتخابات میں ہارجیت کا دارومدار امیدوار کے حق میں یا مخالفت میں ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات پر ہوتا ہے اور اس کے لئے فنڈز چاہیے ہوتے ہیں، جو یہ امیدوار ہر وقت اپنے ووٹروں سے بھی مانگتے رہتے ہیں اور کارپوریٹ ادارے بھی جی بھر کر ان کے لئے فنڈز مہیا کرتے ہیں ، پھر انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔یہ بات اب کوئی زیادہ ڈھکی چھپی نہیں ہے۔یہ کارپوریٹ ادارے بعض اوقات دونوں مقابل امیدواروں کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ایک کو کھلم کھلا تو دوسرے کو کسی دوسرے واسطے سے، اس طرح ہار جیت دونوں صورتوں میں چت بھی ان کی اور پٹ بھی ان کی رہتی ہے۔

گزشتہ صدارتی انتخابات میں معروف سرمایہ داروں کاچ برادران نے جس طرح بے شمار مال ری پبلیکن امیدوار پر لگایا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ڈیموکریٹس کو ان کے سوشلسٹ خیالات کی وجہ سے کارپوریٹ دنیا کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ ڈیموکریٹس نے کوشش کی کہ کانگریس میں ایک قانون پاس کرایا جائے،جس میں کارپوریشنوں کی ڈونیشنز پر کوئی حد لگا دی جائے۔ری پبلیکن نے نمک حلالی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔ڈیمو کریٹس عدالت میں مقدمہ لے کر گئے کہ کارپوریشن پر عطیات (ڈونیشنز) دینے پر پابندی لگائی جائے۔یہ کاروباری ادارے ہیں اور ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔جج نے اصل مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیکنیکل طور پر کارپوریشن کی تعریف کا سہارا لیا اور کہا کہ کارپوریشن کی رجسٹریشن کی تعریف کے مطابق کارپوریشن ایک ”شخصیت“ ہے، اس لئے جس طرح کوئی دوسرا شخص عطیات دینے میں آزاد ہے، اسی طرح کارپوریشن بھی آزاد ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں ، بالخصوص امریکہ اور مغربی دنیا میں صارفین کی ضرورت کی اشیاء پر صرف دس بڑی کارپوریشنوں کی اجارہ داری ہے،ان کے بے شمار چھوٹے بڑے ذیلی ادارے ہیں، جو کپڑے دھونے کے صابن سے لے کر کھانے پینے کی اشیاءتک تیار کرتے ہیں۔یہ ادارے یونی لیور، مارس، کیلوگ، جنرل مل، پیپسیکو، کوکاکولا، مونڈیلیز، نیسلے، پی اینڈ جی(پراکٹر اینڈ گیمبل) اور جانسن اینڈ جانسن ہیں۔گزشتہ دنوں انٹرنیٹ پر ان کارپوریشنوں کے شاخ در شاخ پھیلے ہوئے اداروں کا ”شجرہ“ سامنے آیا تھا۔آئندہ جب آپ کوئی چیز خریدیں تو ذرا اس بات پر غور کریں کہ یہ ان میں سے کسی ایک کی تیار کردہ ہے۔یہ کارپوریٹ ادارے امریکی وال سٹریٹ پر چھائے ہوئے ہیں۔یہی بینکنگ پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو“ یا ننانوے فیصد (99%)کی تحریک انہی کے خلاف تھی جو اب بھی موجود ہے ،اگرچہ اس کا زور شور ختم ہوگیا ہے۔گزشتہ دنوں بینکنگ کی ایک بڑی کمپنی ویل فارگو نے تیرہ بلین جرمانہ خوشی خوشی بھر دیا۔یو ایس اٹارنی جنرل ایرک ہولڈرز کو کسی نے کہا کہ وال سٹریٹ کو ذرا نکیل ڈالیں تو اس کا جواب وہی تھا جو ہمارے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا تھا۔فرمایا: ”یہ لوگ جیلوں سے کہیں زیادہ بُرے ہیں“۔

یہ کارپوریٹ ادارے اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں اور کسی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے۔کوئی حکومت انہیں کسی ملک سے ”ٹریڈ“ کے لئے آمادہ نہیں کر سکتی۔پاکستان میں شریف برادران کی بدعنوانی کی نام نہاد گواہی دینے والی کتاب کے مصنف اور کیپٹلزم کے محافظ ریمنڈ ولیم بیکر نے خود افریقہ کے پسماندہ ترین علاقوں میں فیکٹریاں لگا رکھی ہیں۔جہاں وہ اپنے کام کرنے والوں کو سال بھر میں اتنا معاوضہ دیتا ہے، جتنا اسے امریکہ میں ایک ہفتے میں دینا پڑے۔ان سے متواتر رات دن بھی کام لیا جا سکتا ہے۔انہیں کسی چھٹی کی ضرورت نہیں۔وہ میڈیکل انشورنس نہیں مانگتے۔ان کی دیہاڑی امریکہ کی طرح گھنٹوں کے حساب سے نہیں ناپی جاتی۔ ”ایپل“ جیسے ادارے نے بیرون ملک کاروبار پھیلا رکھا ہے، گزشتہ سال بھی ایپل نے امریکہ میں بہت کم ٹیکس دیا، بس اتنا ہی جتنا مال اس نے امریکہ میں بیچا۔باقی اس نے آسٹریلیا میں تیار کرکے دنیا بھر میں بھیج دیا۔الیکٹرانک سے متعلق تمام سامان چین اور انڈونیشیا میں تیار ہورہا ہے۔آئی فون اور آئی پیڈ چین سے بن کر آتے ہیں۔

سٹیوجاب کے مرنے سے کچھ پہلے صدر اوباما سے اس کی ملاقات ہوئی۔اوباما نے اسے کہا کہ وہ امریکہ میں اپنا مال تیار کرے، تاکہ یہاں لوگوں کو روزگار ملے۔ان دنوں آئی فائیو فون کی آمد آمد تھی۔سٹیو جاب نے کہا جناب صدر مَیں ایک ہفتے میں اپنا فون مارکیٹ میں لانا چاہتا ہوں، لیکن ابھی چند روز پہلے مجھے پتہ چلا ہے کہ جو فون ہم تیار کررہے ہیں ، اس کی سکرین میں بعض خامیاں ہیں تو مَیں نے چین میں اپنے تیار کنندہ کو پیغام بھیجا کہ اگر دو مہینے کی تاخیر کردی جائے تو کیا ہم مارکیٹ میں جا سکیں گے۔مجھے چین سے جواب آیا ہے کہ آپ فکر نہ کریں، آپ کو وقت پر سارا مال سکرین تبدیل کرکے تیار کرکے دے دیا جائے گا، کسی تاخیر کا اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔سٹیو جاب نے صدر اوباما سے کہا :”آپ بتائیں کیا مَیں امریکہ میں یہ کرسکتا تھا“؟

امریکہ بھارت پر اس قدر کیوں مہربان ہے۔پینٹاگان میں ایسے بے وقوف نہیں بیٹھے جو یہ سمجھتے ہوں کہ بھارت کو چین کے مقابلے پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔امریکی کمپنیوں کے لئے بھارت ایک ارب بھوکے ننگوں کا ملک ہے،جو اچھا صارف نہ بھی ثابت ہو تو بہت سستا مزدور ضرور ہے۔جب امریکی بینکوں ،کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دوسرے اداروں کو یہاں ”کسٹمر سروس“ پر خرچہ بھاری معلوم ہوا تو وہ اسے بھارت لے گئے، وہاں جگہ جگہ ”کسٹمر سروس“ کام کرنے لگے۔جگہ کا کرایہ سستا اور امریکی کے ہفتے بھر کی تنخواہ میں وہاں کے کسی لڑکے یا لڑکی کو مہینے بھر میں وہی معاوضہ دے کر کام لیا جانے لگا۔کسٹمرز کو شروع شروع میں بھارتی لڑکے لڑکیوں کے جوابات سے شکایات بھی پیدا ہوئیں، لیکن رفتہ رفتہ معاملات ٹھیک ہو گئے۔ڈیمو کریٹس اور کئی دوسرے حلقے اس پر شور مچاتے رہے، لیکن کسی نے نہ سنا۔

جب امریکی کمپنیوں نے ابھی بنگلہ دیش کا رخ نہیں کیا تھا تو یہی کمپنیاں پاکستان کو کاٹن کا زیادہ سے زیادہ کوٹہ دلانے کے لئے حکومت کو مجبور کرتی تھیں اور جب پاکستان سے کاٹن کا کوٹہ پورا ہو جاتا تھا،تو پھر چور راستے تلاش کئے جاتے تھے۔پاکستان کی جین میکسیکو آتی تھی، وہاں سے سلائی ہو کر امریکہ آ جاتی تھی،حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے راستے بھی پاکستان سے کاٹن کا مال تیار ہو کر امریکہ آتا رہتا تھا۔بنگلہ دیش پاکستان سے بھی مزدوری میں سستا پڑنے لگا تو سارا کاروبار بنگلہ دیش منتقل ہو گیا۔وال مارٹ امریکہ کا وہ بڑا سٹور ہے،جس میں امریکہ کے واحد وفاقی ادارے پوسٹ آفس کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ملازم ہیں، اس سٹور کا سارا سامان بنگلہ دیش سے بن کر آتا ہے۔گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ٹی شرٹس بنانے کی جس فیکٹری میں آگ لگی تھی ، وہ وال مارٹ کے لئے مال تیار کرتی تھی۔یہاں بھی مزدور دوست تنظےموں نے ان متاثرہ لوگوں کے حق میں مظاہرے کئے، لیکن انہیں اگر اتنا کچھ دینا پڑتا ، جتنا یہاں امریکیوں کا مطالبہ ہوتا تو شاید وال مارٹ کا دیوالیہ نکل جاتا۔

پاکستان میں اب گردونواح کے ملکوں کی نسبت مزدور کی مزدوری زیادہ ہے۔اس پر توانائی کا بحران، امن و امان کی مخدوش صورت حال ....اس کے باوجود کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی حکومت اپنے تاجروں کو پاکستان سے تجارت پر مجبور کر دے گی؟جو ادارے اپنے ملک کے مفادات کو نظر انداز کرکے اپنی تجارت یا صنعت دوسرے ممالک میں جا کر لگاتے ہیں، وہ کسی حکومت کے کہنے پر آپ کے ہاں کیوں دوڑے چلے آئیں گے؟اگر آپ کو واقعی ”ٹریڈ“ چاہیے تو اس کے لئے حالات سازگار بنایئے،توانائی کا بحران دور کیجئے،صنعت لگانے کے لئے نوکر شاہی کی ضروری اور غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کیجئے اور صنعت میں معیار کو بڑھانے اور بہتر کرنے کے لئے ادارے قائم کیجئے۔برآمدات کے لئے صنعتیں لگانے والوں کو مشینری کی درآمد میں سہولتیں فراہم کیجئے، برآمدی صنعتوں میں کام آنے والی مشینری کی تیاری کے لئے اندرون ملک انتظام کیجئے۔اوباما، کیمرون، انجیلا مرکل آپ کو ”ٹریڈ“ کا تحفہ نہیں دے سکتے ۔وہ تو ”ایڈ“ ہی دیں گے ، آپ نے ٹریڈ کرنا ہے تو پھر ٹریڈ والے حلقوں سے ملاقاتیں کریں، انہیں قائل کریں کہ آپ انہیں ان کی مطلوبہ اشیاءدوسروں سے کم لاگت پر بہتر معیار اور وعدے پر تیار کرکے دیں گے۔اوباما ،کیمرون اور مرکل سے وہ خودنمٹ لیں گے اور ہر قسم کے اجازت نامے اور کوٹے حاصل کرلیں گے۔آپ ”ٹریڈرز“ ہیں، آپ جانتے نہیں، ٹریڈر وہیں ٹریڈکرنا ہے ،جہاں اسے ”وارا“ کھاتا ہے۔

مَیں نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ آج کی جنگیں بھی کارپوریٹ دنیا کی ضرورت ہیں اور امن بھی کارپوریٹ دنیا کی خواہش ہے۔میڈیا بھی کارپوریٹ ہو چکاہے اور اس کے مفادات حکومتوں سے نہیں، کارپوریٹ دنیا سے وابستہ ہیں۔امریکہ اور مغرب کا میڈیا ،جس کے بارے میں ہم یہ حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ وہ فرشتوں پر مشتمل ہے اور حب وطن اور حق سچ کے لئے ہر وقت سربکف ہے،حالانکہ وہ اب اپنے کارپوریشن مفادات کا وفادار ہے۔حب وطن اور حق سچ وہیں تک چلتا ہے، جہاں تک کارپوریٹ مفادات پر ضرب نہیں پڑتی....

امریکہ میں تشدد پر قابو پانے کے لئے آتشیں اسلحہ کو محدود کرنے یا اس پر پابندی لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔اس کی مخالفت این آر اے(نیشنل رائفلز ایسوسی ایشن) کرتی ہے۔ری پبلیکن بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں،لیکن اس کے پیچھے اصل طاقت نہ این آر اے ہے، نہ ری پبلکن ، بلکہ اسلحہ ساز ادارے ہیں اور کتنے ہی امریکی چینل اور اخبارات بھی اسلحہ پر پابندی کے مخالف ہیں ۔

ڈرون حملوں کی حامی ایک لابی ہے۔اے یو وی ایس آئی ،جس کے ساڑھے سات ہزار ممبرہیں۔یہ طلبہ کو وظیفے دیتے ہیں، تاکہ وہ ڈرون کے لئے نئے نئے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی دریافت کریں۔وہ اسے گلوبل سطح پر روبوٹ کے استعمال کے ذریعے انسانوں کی خدمت قرار دیتے ہیں۔اس صنعت میں ٹاپ کے جہاز ساز ادارے کھربوں کا مال بنا رہے ہیں۔بوئنگ کمپنی، جنرل اٹامکس، لاک ہیڈ مارٹن، نارتھراپ گرمین، ایروپرانمنٹ اور کچھ دوسروں کے علاوہ اسرائیل کی ایروسپیس انڈسٹری ڈرونز تیار کررہی ہے۔سان ڈیاگو امریکہ میں جنرل اٹامکس کی فیکٹری ہے، جس نے 98کروڑ ڈالر کا ٹھیکہ لے رکھا ہے او ریہ کمپنی ڈیمو کریٹس اور ری پبلیکن دونوں کو بھاری ڈونیشنز دیتی ہے۔2008ءمیں جنرل اٹامکس نے ڈیمو کریٹس کو ایک لاکھ تہتر ہزار آٹھ سو ڈالر دیئے تھے اور ری پبلیکن کو دو لاکھ گیارہ ہزار تین سو ڈالر ($2,11,300)کا حقیر سا عطیہ دیا تھا۔امریکی حکومت میں دفاع کے لئے رقوم مختص کرنے والی کمیٹی نے ان ڈرونز کی خریداری کے لئے بھاری رقوم مختص کررکھی ہیں۔گویا ڈرونز پالیسی کے پیچھے بھی ایک حد تک کارپوریٹ مفادات اپنا کام دکھا رہے ہیں،اس لئے اب حکومتیں تجارتی اداروں کے رخ متعین نہیں کرتیں، اب تجارتی ادارے (کارپوریٹ ادارے) حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں اور جنگ و امن کی پالیسیوں کے رخ متعین کرتے ہیں۔   ٭

مزید : کالم