کشتواڑ جیل میں نظربند کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

کشتواڑ جیل میں نظربند کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے ڈسٹرکٹ جیل کشتواڑ میں نظربند کشمیریوں کی حالت زار پرشدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظربندوں کو طویل عدالتی کارروائی کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا ہے اور کئی کے خلاف مقدمات میںعدالتی کارروائی مکمل ہونے کے باجود فیصلے سنائے نہیں جارہے ہیں ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ احکامات کے مطابق بارایسوسی ایشن کی چار رکنی ٹیم نے صدر ایڈووکیٹ میاںعبدالقیوم کی قیادت میں 16نومبر کو ڈسٹرکٹ جیل کشتواڑ کا دورہ کیا تھا۔ ٹیم میں شامل دیگر وکلاءمیںمنظور احمد ڈار ، سجاد بشیر اور مفتی معراج الدینشامل تھے ۔ ٹیم نے دورے کے بعد جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیری نظربندوںکو طویل عدالتی کاروائیوں کی وجہ سے شدیدمشکلات کا سامنا ہے اور کئی نظر بندوں کے بارے میں عدالتی کاررروائی مکمل ہونے کے باوجود فیصلے نہیں سنائے جارہے ہیں ۔12صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق ٹیم نے 126کشمیری نظربندوں سے ملاقات کی جنہوںنے اپنی رو داد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سالوں سے جیل میں نظر بند ہیں تاہم عدالتوں کی طرف سے ان کے خلاف مقدمات میںتاخیر کی جارہی ہے

۔انہوںنے کہاکہ کئی مقدمات میں جج صاحبان نے کئی برس سے فیصلے بھی محفوظ کررکھے ہیں ۔نظر بندوں کا کہنا تھا کہ کشتواڑ جیل 5ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے اور وہاں پر سخت سردی ہے تاہم جیل انتظامیہ نے جیل میں قیدیوں کو سردی سے محفوظ رکھنے کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کر رکھا ہے ۔نظربندوں کا کہنا تھا کہ ا±ن کے بے گناہ ہونے کے باوجود بھی عدالت ا±ن کی ضمانت منظور نہیں کررہی ہے۔ بیشتر قیدیوں نے شکایت کی کہ انہیں مقررہ وقت پر عدالتوں میں پیش نہ کرنے کی وجہ سے ا±ن کے خلاف عدالتی کاروائی کو طول دیا جارہا ہے اور اس کےلئے طرح طرح کے بہانے پیش کئے جاتے ہیں۔ بارکی ٹیم نے جیل میں عید الفطر کے روز 30دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کئے گئے 5کشمیریوںسے بھی ملاقات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام کے تمام بے گناہ ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جیل کے حالات وواقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نظربندوں نے طویل عدالتی کاروائیوں کی شکایت کی ہے ۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے کیونکہ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ رپورٹ مزید کاروائی اور اس سلسلے میں عدالتی مداخلت کیلئے جلد ہی ہائی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

مزید : عالمی منظر