پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک

پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک
پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک

  

                                                                        پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کون سا ہے؟ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مَیں اس سوال کا کیا جواب دوں گا۔ وہ اس لئے کہ آپ کا دھیان پاکستان کے معاشی مسائل، انرجی بحران ،سیکیورٹی اور امن و امان کی طرف جائے گا، جو یقینا پاکستان کے بڑے گھمبیر مسائل ہیں، لیکن ان تمام مسائل کی جڑ میں چھپے بنیادی مسئلے کی طرف نہیں جائے گا، جس کی وجہ سے یہ تمام بڑے مسائل حل نہیں ہو پاتے اور بگاڑ کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ اب مجھ سے یہ توقع نہ کریں کہ مَیں ایک دم یہ آپ کو بتا دوں گا۔ مَیں نے ابھی مجمع جمع کر کے اپنا سودا بیچنا ہے۔ اگر پٹاری پہلے ہی کھول دی تو مجمع تتر بتر ہو جائے گا اور میرا سودا کون خریدے گا، تاہم مَیں آپ کو یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ مَیں روائتی مجمع بازوں کی طرح آپ سے دھوکہ نہیں کروں گا۔ آپ میرا سودا خریدیں یا نہ خریدیں، مَیں اپنی پٹاری کھول کر آپ کو سانپ ضرور دکھاﺅں گا۔ میر ے اس ہلکے پھلکے آغاز سے یہ مت سمجھ لیجئے کہ مَیں غیر سنجیدہ ہوں اور دو چار اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے موضوع فارغ کر دوں گا۔ یہ موضوع انتہائی سنجیدہ ہے اور میرے مطابق بہت ہی زیادہ تشویش ناک بھی، اس کے لئے تھوڑی سوچ بچار ضروری ہے اور معاملے کی صحیح تفہیم کے لئے آپ کو میرے ساتھ سوچ کے اس سفر میں شامل ہونا ہو گا۔

پاکستان میں ایک بار پھر وہ حالات پیدا ہو گئے ہیں، جہاں عمران خان اور دیگر مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو جذباتی ہیجان پیدا کر کے مقبولیت کا سکور حاصل کرنے کا نادر موقع مل رہا ہے۔ ایسے حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں اور یہ کن لوگوں کو کیوں فائدہ پہنچاتے ہیں؟ یہ سمجھنے کے لئے تمام مسائل یا خصوصی طور پر سیکیورٹی اور امن و امان کے مسئلے کو ڈیل کرنے والے تمام کھلاڑیوں، یعنی بڑی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور اُن کے لیڈروں کے سابقہ اور موجودہ رویوں کو دیکھنا ہو گا.... امن و امان اور دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے بارے میں پالیسی کے لحاظ سے ان جماعتوں کو تین بڑے خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے خانے میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام کے سبھی گروپ اور ایک دو معتدل مزاج جماعتوں کو چھوڑ کر تمام مذہبی جماعتیں۔ دوسرے درمیان والے خانے میں مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) اور تیسرے دوسری انتہا والے خانے میں اے این پی، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم قابل ذکر ہیں۔

مَیں نے آسانی کے لئے یہ کھلی ڈھلی تقسیم کی ہے، ورنہ اگر تفصیل میں جائیں، تو ان خانوں میں موجود جماعتوں اور لیڈروں کے انداز میں خاصا فرق ہے۔ پہلے تیسرے خانے کی بات کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم الطاف حسین کی سوچ کا عکس ہے۔ ان کی سیاست پر آپ ہزار اعتراض اٹھائیں، لیکن جب سے مَیں نے ان کا جائزہ لینا شروع کیا ہے، مجھے ان کے جاگیرداری، سرمایہ داری اور دہشت گردی کے خلاف سخت موقف میں کبھی لچک نظر نہیں آئی....اے این پی ترقی پسند معاشی پروگرام کی حامی، مگر ایک معتدل مزاج کی جماعت ہے، جس پر گرم مزاج پختونوں کی اکثریت ہونے کے باوجود باچا خان کے امن و آشتی کے فلسفے کی گہری چھاپ ہے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اسی جماعت نے اٹھایا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ طالبان اور انتہا پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی مخالف نہیں ہے، لیکن مفاہمتی عمل میں ناکامی کے بعد وہ ان کے خلاف آپریشن کے بھی حق میں ہے۔

پیپلزپارٹی اب صحیح معنوں میں بائیں بازو کی جماعت نہیں ہے۔ اس پارٹی اور اس کے لیڈروں پر الزامات بہت ہیں، جن کا ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ابتر حالات کے باوجود اس نے ہمیشہ اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ہی ڈالا ہے۔ اس نے دہشت گرد قوتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اپنی جمہوریت اور دہشت گردی کی مخالف سوچ کے باعث اسے اپنے لیڈروں کی جان کی قربانی بھی دینا پڑی، تاہم دہشت گردی کی شدید مخالفت کرنے کے باوجود انتہا پسندوں کے ساتھ اس کا رویہ حقیقت پسندی پر مبنی رہا، جس نے مفاہمت کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا.... اعتدال کی راہ اختیار کرنے والی مسلم لیگ (ق) کی پالیسیاں دراصل ایک انتہائی مدبر، ذہین اور حقیقت پسند سیاست دان چودھری شجاعت حسین کی متوازن سوچ کی مظہر ہیں۔ وہ اپنے درست موقف سے کبھی نہیں ہٹے، لیکن عملی اظہار میں اس مقام تک کبھی نہیں گئے کہ طالبان کو اپنا مخالف بنا لیں۔

مسلم لیگ(ن) کی سوچ معتدل ضرور ہے، لیکن وہ ایک عوامی اور مقبول جماعت ہے۔ اسے اندازہ ہے کہ پاکستان کے اسلام پسند لوگوں اور کارکنوں کو مطمئن کر کے کیسے چلنا ہے۔ میاں نواز شریف کی سیاست دائیں بازو کی اکثریت کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان کی موجودگی کو برقرار رکھنے کی تھی، جس میں وہ یقینا کامیاب نظر آتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں اقتدار کے حصول کی سب سے بڑی دعویدار ہونے کی بناءپر مسلم لیگ(ن) نے عمومی طور پر ایسی پالیسیاں اپنائیں یا اقدامات کئے، جو اس کے ووٹ بینک کو کم نہ کریں۔ مسلم لیگ(ن) یقینا دہشت گرد قوتوں کی مخالف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے، لیکن اس نے اس مخالفت میں اے این پی، پیپلزپارٹی یا ایم کیو ایم کی طرح انتہائی رویے سے گریز کیا ہے۔ اگرچہ دہشت گرد اسے بھی اپنے مخالفوں میں شمار کرتے ہیں، لیکن وہ ذرا کم ہی اپنی توپوں کا رُخ اس کی طرف کرتے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) اقتدار میں ہوتی ہے یا اقتدار کی سنجیدہ امیدوار ہوتی ہے، اس لئے اسے بھی پیپلزپارٹی کی طرح امریکہ، یورپ، دوسرے ممالک یا بین الاقوامی اداروں سے متعلق معاملات میں جذباتی نعرے بازی کی بجائے توازن پر مبنی رویہ اختیار کرنا ہوتا ہے اور اس نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد صدر پرویز مشرف نے جس حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر کے ملک کو تباہی سے بچا لیا، اگر اُن کی جگہ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو ان کا فیصلہ بھی غالباً یہی ہونا تھا، لیکن ہو سکتا ہے، وہ یہ فیصلے کرنے میں کچھ دیر کر دیتے۔

مجھے ان لوگوں سے اتفاق نہیں ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف میں قوت فیصلہ کی کمی ہے، جس کی مثال وہ نئے آرمی چیف کی نامزدگی میں تاخیر کی دیتے ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق وہ حالات کا تجزیہ کر کے بہت جلد اپنے فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن اپنے فیصلے کے اعلان سے پہلے زیادہ سے زیادہ مختلف آراءسے تقابل کرنے میں وقت لیتے ہیں اور اپنے قابل اعتماد لوگوں کی رائے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں۔ آخری رائے تو یقینا چیف ایگزیکٹو کی ہوتی ہے، لیکن داخلی سیکیورٹی کا اصل انچارج تو وزیر داخلہ ہوتا ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے وزیر داخلہ کو جتنی خود مختاری دے رکھی ہے، اتنی کم ہی کسی کو ملتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سیکیورٹی کے تمام اہم معاملات میں وزیر داخلہ میاں شہباز شریف کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اس ٹرائیکا کے ذریعے مسلم لیگ(ن) کا جو بھی سیکیورٹی فیصلہ سامنے آتا ہے، اُس میں اِسی لئے خاصا توازن اور اعتدال ہوتا ہے۔

رہا معاملہ انتہائی سوچ رکھنے والی تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں کا تو ان کا کوئی سٹیک نہیں ہے۔ ان کے دِلوں میں چھپی محبتیں سب جانتے ہیں۔ عام طور پر اُن کے اظہار کے لئے مناسب موقع نہیں ہوتا۔ امریکہ مخالف جذبات تو پاکستان میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں، جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ امریکہ سے کوئی غلطی ہو تو یہ لوگ ان جذبات کو ایکسپلائٹ کرنے کے لئے پہلے سے ہی لنگر لنگوٹ کس کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایک تیر سے بیک وقت کئی کئی نشانے لگاتے ہیں۔ ان کو بھی پتہ ہے کہ جن لوگوں کے دامن پر ہزاروں معصوم پاکستانیوں اور فوجیوں کے خون کے دھبے ہوں، جن میں سے کچھ بہت تازے بھی ہوں، ان سے سرعام محبت کا اظہار کتنا مشکل ہوتا ہے، لیکن جب امریکہ کوئی غلطی کر کے اپنے مخالف جذبات کو ابھارنے کا موقع دیتا ہے تو اس وقت یہ گروپ اپنے محبوب دہشت گردوں کے دفاع کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اتنے ہوشیار ہیں کہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس وقت لوگ امریکہ کی مخالفت میں طالبان کے جرائم کو بھول جائیں گے۔ اس وقت طالبان اور اُن کی سوچ ایک ہو کر سامنے آ جاتی ہے، یعنی ”ڈرون طیارے گرا دو، نیٹو سپلائی بند کر دو“۔

پاکستان میں ہر کوئی امریکہ کے ڈرون حملوں کا مخالف ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو دیانت داری سے یہ سمجھتا ہے کہ کسی غیر ملک کے طیاروں کو ان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے ملک میں داخل ہو کر میزائل گرانے کا حق نہیں ہے ۔ ان کو نشانہ بننے والے دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ وہ تو بس اصولی طور پر ایسا سمجھتے ہیں۔ طالبان اور دہشت گردوں کا حامی گروپ بھی پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر احتجاج کرتا ہے، لیکن اصل میں انہیں پاکستان کی خود مختاری مجروح ہونے کی بجائے ڈرون حملوں سے دہشت گردوں کے مرنے کی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر انہیں پاکستانی ریاست، اس کے آئین اور اس کی خود مختاری کا واقعی لحاظ ہے ،تو ان کے ممدوح یہ سب کچھ نہیں کرتے، لیکن وہ ان کے خلاف دھرنا دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

 افسوس یہ ہے کہ پاکستان کے عوام پر جب جذباتیت طاری ہو تو وہ ہوش مندی پر مبنی سوال نہیں پوچھتے۔ اصولاً انہیں خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں سے پوچھنا چاہئے کہ یہ دہشت گرد جو پاکستان کا ویزا حاصل کئے بغیر افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں یہ خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ وہ پاکستان کے آئین اور ریاست کو تسلیم نہیںکرتے، پاکستان کی سرزمین پر ڈیرہ ڈال کر بڑے سکون سے پاکستانیوں پر خود کش حملے کر کے بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں۔ اگر اس گروپ کو واقعی پاکستان سے محبت ہے اور اسے پاکستان کی خود مختاری بہت عزیز ہے، تو پھر وہ ان کے خلاف دھرنا کیوں نہیں دیتے۔

یہ سوال کوئی نہیں پوچھے گا اور طالبان کے ان ہمدردوں کی اصل نیت کو کوئی آشکار نہیں کرے گا۔ انہیں جھوٹا ثابت کرنا بالکل مشکل نہیں ہے، لیکن اس سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں کوئی جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہے اور اس سوال کا جواب ناں میں ہے۔ پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک اُس کی تباہ حال معیشت، انرجی کا بحران یا امن و امان نہیں، بلکہ اس کے ایک اچھے خاصے طبقے کی سوچ اور پالیسی ہے، جو انتہا پسند جماعتوں کو قوت فراہم کرتی ہے، جس سے آخر میں دہشت گردوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ مہلک سوچ والا یہ سانپ اس پٹاری میں بند ہے، جسے کھولنے کی مجھے ہمت نہیں ہو رہی تھی۔    ٭

مزید : کالم