تھائی لینڈ میں کشیدگی برقرار، ایمرجنسی نافذ

تھائی لینڈ میں کشیدگی برقرار، ایمرجنسی نافذ

 بنکاک(آن لائن) تھائی لینڈ میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آنے کے بعد ملکی وزیر اعظم یِنگ لک شناواترا نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت بنکاک میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ فرا نسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیرِاعظم کی جانب سے ایمرجنسی کا نفاذ نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ مظاہرین وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے لیے مطالبہ کر رہے ہیں۔اس قبل مظاہرین نے ملکی وزارتِ خزانہ کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران وہاں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی تھیں۔ ان مظاہروں کو تھائی لینڈ میں سن 2010ءکے بعد سے ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے قرار دیا جا رہا ہے۔بینکاک سے موصولہ اطلاعات کے بعد وزیراعظم کی حمایت میں سینکڑوں لوگوں نے سرخ ٹی شرٹس پہن کر مظاہرہ بھی کیا۔یِنگ لک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مظاہروں کے باوجود نہ تو خود استعفیٰ دیں گی اور نہ ہی ملکی پارلیمان تحلیل کریں گی۔

 انہوں نے مظاہرین کی جانب سے وزارتِ خزانہ کی عمارت پر قبضے کی مذمت بھی کی۔مظاہروں کی قیادت کرنے والے حزب اختلاف کے رہنما س±وتِپ ت±وک سوبان نے مزید وزارتوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تھائی لینڈ میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نقصِ امن کے خطرات کے پیشِ نظر نقل و حمل کو محدود بنانے کے علاوہ لوگوں کے ہر طرح کے اجتماعات پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت وزیر اعظم یِنگ لک شناواترا کا کہنا تھا کہ وہ پ±ر امید ہیں کہ ان کے ملک میں جاری اِن مظاہروں میں تشدد کا عنصر ہر گز شامل نہیں ہوگا: ” میں امید کرتی ہوں کہ لوگ ان غیر قانونی مظاہروں میں شریک نہیں ہوں گے۔“

مزید : عالمی منظر