نیا مصری آئین، منظوری کےلئے اگلے سال ریفرنڈم ہو گا

نیا مصری آئین، منظوری کےلئے اگلے سال ریفرنڈم ہو گا

قاہرہ(آن لائن)مصر کی عبوری حکومت نے نئے تیار کردہ آئینی مسودے پر ریفرنڈم کی مانیٹرنگ کے لئے چھ غیر ملکی گروپوں کو اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ریفرنڈم اگلے سال کے آغاز میں کرائے جانے کا امکان ہے۔چھ غیر ملکی مانٹرنگ گروپوں کے علاوہ مصر میں مقامی سطح پر کام کرنے والی 67 این جی اوز بھی دستور کی منظوری کیلیے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی شفافیت کا جائزہ لے سکیں گی۔مصر کے عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی ریفرنڈم کے مرحلے کو مصر کیلیے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا یہ ریفرنڈم امکانی طور پر ماہ جنوری کے دوسرے اور تیسرے عشرے کے درمیان کی تاریخوں میں ہو گا۔واضح رہے رواں سال تین جولائی کو مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مصر میں عبوری حکومت قائم ہے۔ عبوری حکومت نے اگلے سال کے وسط تک پارلیمنٹ کا انتخاب اور صدارتی انتخاب مکمل کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔دوسری طرف مصری ہائی الیکشن کمیشن کے ترجمان ہشام مختار نے ریفرنڈم کی شفافیت یقینی بنانے کیلیے جن چھ غیر ملکی این جی اوز کو اجازت دینے کا ذکر کیا ہے فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔عبوری حکومت کی طرف سے قائم کردہ 50 رکنی کمیٹی کی سفارشات پر بنائے جانے والے نئے مصری دستور کی عوامی منظوری کیلیے ریفرنڈم کا انعقاد مصر کے دوبارہ جمہوریت کی طرف آنے کا پہلا قدم ہو گا۔واضح رہے مصر میں اس سے پہلے نافذالعمل دستور دسمبر 2012 میں منتخب حکومت کے دور میں سامنے آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران شروع ہو گیا۔

مزید : عالمی منظر