پاکستان سٹیل کا مقدمہ (3)

پاکستان سٹیل کا مقدمہ (3)

                            :پاکستان اسٹیل کو پرائیویٹ سیکٹر میں دیئے جانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ج:پاکستان اسٹیل کو نجی شعبے کی تحویل میں دینے کی تیاریاں ایک عرصے سے جاری ہیں۔سیاسی ہوا کا رخ بدلنے پر اس جانب ذہنی جھکاﺅ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا، جب پاکستان اسٹیل کو نامکمل چھوڑتے ہوئے دوسرے مرحلے کو خیرباد کہہ دیا گیا۔نوازشریف کے دوسرے دور اقتدار میں حکمرانوں نے پاکستان اسٹیل کو نجی شعبے کی دلہن بنانے کے لئے بھرپور تیاریاں شروع کردی تھیں اور ادارے کے آٹھ ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، تاکہ پاکستان اسٹیل کو نفع بخش بنا کر نجی شعبے کی گود میں بٹھایا جا سکے۔اس زمانے میں بھی عالمی منڈی میں حالات کچھ اتنے خراب تھے کہ اگر پاکستان اسٹیل کے تمام ملازمین کو بھی فارغ کردیا جاتا، تب بھی یہ ادارہ نقصان میں رہتا،لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ بین الاقوامی سطح پر منظر یکایک تبدیل ہونے لگا اور فولاد کی قیمتوں نے اچانک آسمان کی طرف سفر کردیا (جس کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے)، چنانچہ پاکستان اسٹیل بھی اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر منافع میں آ گئی، جبکہ تاثر کچھ یوں پیدا ہوا کہ شاید ملازمین کی رخصت سے جو بچت ہوئی ہے ، اس سے اسٹیل مل نفع بخش ہوگئی.... جو ایک قطعاً گمراہ کن تاثر تھا،جس سے اس وقت کی انتظامیہ اور اس کے بعد آنے والی انتظامیہ نے بھی پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اس دوران نوازشریف حکومت کی تبدیلی کے سبب پاکستان اسٹیل کی پرائیویٹائزیشن بھی کچھ عرصے کے لئے معطل ہوگئی اور دوبارہ یہ شوشا اس وقت اٹھا جب جنرل (ر) عبدالقیوم کے زمانے میں پاکستان اسٹیل تیس چالیس ارب روپے کا منافع کما چکی تھی،لیکن یہ وہ زمانہ تھا، جب فولاد کی قیمتیں اپنے عروج پر پہنچ کر واپسی کا رخ کررہی تھیں، جبکہ خام مال کی قیمتوں کا بلندی کی طرف سفر جاری تھا، جس کے نتیجے میں آئندہ کے حالات اچھے دکھائی نہیں دے رہے تھے، چنانچہ پرائیویٹ سیکٹر نے پاکستان اسٹیل کو خریدنے میں کچھ زیادہ گہما گہمی کا مظاہرہ نہیں کیا اور مالی امور کے اپنے اپنے ماہرین سے تخمینہ لگوا کر جو سب سے بڑی بولی سامنے آئی، وہ بائیس ارب روپے تھی، جو سعودی ادارے طوارقی اسٹیل کی طرف سے لگائی گئی تھی، جو پاکستان اسٹیل کے روبرو، پاکستان سٹیل سے زیادہ استعداد کاحامل جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی فولاد سازی کارخانہ لگا رہا تھا۔

سعودی ادارے اور اس کارخانے کی تنصیب کا پس منظر یہ تھا کہ طوارقی سٹیل کے سربراہ ڈاکٹر ہلال طوارقی، جو کسی زمانے میں ایک چھوٹے سے بزنس مین تھے،اپنے پاکستانی انجینئر دوست طارق برلاس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی حیثیت کے حامل کھرب پتی صنعتکار بن گئے۔ پاکستان میں فولاد کے شعبے میں تیس ارب روپے کی سرمایہ کاری کے حق میں نہیں تھے، لیکن اپنے دوست طارق برلاس کی لحاظ داری میں انہوں نے حامی بھرلی تھی۔ اگرچہ طارق برلاس نے پاکستان میں موجود خام لوہے کے تمام ذخائر خرید کر انہیں اپنے کارخانے میں استعمال کرنے کی تیاریاں بھی شروع کردی تھیں، لیکن ان کا پاکستان سٹیل خریدنے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا، البتہ انہیں یہ فیصلہ مجبوراً اس لئے کرنا پڑا کہ وہ پورٹ قاسم سے طوارقی سٹیل تک خام مال کی منتقلی کے لئے پاکستان سٹیل سے اس کا کنویئربیلٹ استعمال کرنے کا معاہدہ کرچکے تھے، چنانچہ اگر یہ کارخانہ کسی اور پرائیویٹ پارٹی کی تحویل میں چلا جاتا تو گویا طوارقی اسٹیل کی شہ رگ اس کے قبضے میں آ جاتی جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھا۔

ڈاکٹر ہلال طوارقی کو جب پاکستان سٹیل خریدنے کے ارادے کا علم ہوا تو وہ چراغ پا ہو گئے اور انہوں نے سختی سے اس کی مخالفت کی۔اس پر کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا، جس میں ایک بار پھر کنویئر بیلٹ کے متبادل پر غور کیا گیا، لیکن یہ جان کر کہ اس پر بیش بہا لاگت آئے گی اور کافی عرصہ درکار ہوگا۔بہتر یہی سمجھا گیاکہ موجودہ کنویئر بیلٹ ہی پاکستان سٹیل سمیت خرید لی جائے۔ ڈاکٹر ہلال طوارقی بھی اس فیصلے کے آگے مجبور ہوگئے اور کمپنی نے سٹیل مل خریدنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ طوارقی سٹیل والے کیونکہ بہ امر مجبوری سٹیل مل خرید رہے تھے اور یوں بھی وہ روایتی کاروباری قسم کے لوگ نہیں تھے، اس لئے نہ تو انہوں نے سٹیل مل کے چیئرمین کو ہاتھ میں لیا، نہ ڈائریکٹرز کو اور نہ سی بی اے کے ذریعے ملازمین کو اعتماد میں لیا، چنانچہ یہ سب لوگ اپنے اپنے روزگار کے خوف سے ایک ہوگئے اور قومی ادارے کو کوڑیوں کے مول بیچے جانے کے بارے میں مک مکا کی خبریں چھپوا کر عدالت عظمیٰ کو متحرک کردیا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

مک مکا کے بارے میں شبہات کو پرویز مشرف کے اس بیان سے بھی تقویت ملی ،جو انہوں نے 30مارچ 2006ءکو طوارقی سٹیل کا سنگ بنیاد رکھتے وقت پاکستان سٹیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا تھا کہ طوارقی سٹیل والے جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل پاکستان سٹیل سے زیادہ استعداد رکھنے والا پلانٹ دوسال میں کھڑا کردیں گے.... (طوارقی سٹیل کو 2008ءمیں مکمل ہونا تھا) اور اسے دیکھو چالیس سال سے وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔کیا ہی اچھا ہو اگر طوارقی والے اسے بھی لے لیں۔یہ جملہ ان کے منہ سے نکلنا تھا کہ حاضرین میں سے اکثر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرائے، بلکہ کچھ تو بول بھی پڑے کہ پاکستان سٹیل تو طوارقی کو گیا۔لوگوں کا خیال اس لحاظ سے درست تھا کہ عام طور پر کسی بھی ڈکٹیٹر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ہی قانون کا درجہ رکھتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی کہ ڈاکٹر ہلال طوارقی نے جو پرویز مشرف کے بے حد معترف ہیں،تقریب میں برملا اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ پرویز مشرف کے لئے ان کی قدرومنزلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک موقع پر جب طوارقی اسٹیل کے لئے سی این جی کی فراہمی یقینی نہ ہونے پر ان کی کمپنی بوریا بستر لپیٹ کر واپس جا رہی تھی تو پرویز مشرف نے ذاتی طور پر مداخلت کرکے انہیں روکا تھا۔طوارقی سٹیل کے لئے سی این جی اس لئے بھی اہم تھی کہ پورا کارخانہ ہی سی این جی کی بنیاد پر چلتا ہے اور اس کے بغیر بالکل بیکار ہے۔ پاکستان سٹیل کے حوالے سے مک مکا کی افواہیں کہاں کہاں پہنچیں، کون کون ان کی لپیٹ میں آیا، اسے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں، ہاں البتہ جب ڈاکٹر ہلال طوارقی کو یہ معلوم ہوا کہ پاکستان سٹیل کی خرید کے سلسلے میں ان کے ادارے پر مک مکا کا الزام لگا ہے اور اس وجہ سے اس کی فروخت ملتوی ہوگئی ہے تو انہیں شدید دھچکا لگا اور تب سے وہ اسی غم میں مبتلا ہیں کہ پاکستان کے لئے ان کی نیکی برباد اور گناہ لازم ہوگیا۔پاکستان سٹیل کی فروخت کا معاملہ جب ملتوی ہوا تو عام تاثر یہی تھا (پاکستان اسٹیل میں کرپشن کی طرح)کہ اربوں کھربوں کے ادارے کی بائیس ارب میں فروخت روک کر قوم پر بڑا احسان کیا گیا ہے۔

 حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ یہ احسان قوم پر نہیں، بلکہ ڈاکٹر بلال طوارقی پر ہوا جو کل اگر اپنی بلاوجہ کی بدنامی پر نہ روئے ہوتے تو آج اپنی قسمت کو رو رہے ہوتے، کیونکہ طوارقی سٹیل عالمی بحران کی وجہ سے پہلے ہی ان کو اس لحاظ سے بھاری پڑ رہا ہے کہ اس نے دو سال کے بجائے سات سال بعد پیداوار شروع کی ہے اور پاکستان سٹیل بھی کم پیداوار دے رہا ہے۔اس کی لاگت، قرضوں سمیت تیس ارب سے بڑھ کر کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے اور اسے بھی خود کو نفع بخش بنانے کے لئے مزید سرمائے کی ضرورت ہے، تاکہ فولاد کی بھٹیاں لگا کر قابل فروخت مال تیار کیا جا سکے۔ادھر اسے سی این جی گیس کی قلت کا مسئلہ بھی درپیش ہے، جس کا حل بھی مشکل ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ کارخانہ اگر سرکاری تحویل میں بن رہا ہوتا تو اس کے بارے میں حکومت کی نااہلی، افسروں کی نالائقی اور بدعنوانی، ملازمین کی بھرمار اور لوٹ لیا گیاکے کتنے افسانے شائع ہو چکے ہوتے اور اسے فوری طور پر پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کے لئے کہا جا رہا ہوتا۔ پاکستان سٹیل کو نجی شعبے کی تحویل میں دینے کے بارے میں اس سے بہتر کوئی تبصرہ نہیں ہو سکتا۔

س: یہ حقائق اپنی جگہ ،لیکن فی الوقت پاکستان سٹیل کو درپیش مسئلے کا حل کیا ہے؟

ج: اس وقت عالمی سطح پر صنعت فولاد بحران سے نکل آئی ہے اور مستقبل کے لئے حالات حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کے وہ ادارے جنہیں اب تک خسارے کا سامنا رہا تھا اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے تھے، اب منافع کی طرف چل پڑے ہیں، چنانچہ پاکستان سٹیل کو بھی اگر خام مال کی خریداری اور اس کے کارخانوں کو متحرک کرنے کے لئے درکار رقم کا انتظام ہو جائے تویہ قومی ادارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے گا۔ پاکستان سٹیل کے بہت کم عرصے میں صحت یاب ہونے کی ضمانت اس بنا پر دی جا سکتی ہے کہ اس کی مصنوعات کے لئے ملک کے اندر ہی تیار مارکیٹ موجود ہے اور اس کے خریداروں کا بہت بڑا نیٹ ورک جو درآمد پر انحصار کی وجہ سے پریشان بیٹھا ہے، بے چینی سے اس کے چل پڑنے کا منتظر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لئے درکار اربوں روپے کی رقم کہاں سے آئے گی؟اس کا جواب یہ ہے کہ نجی شعبے کے حوالے کئے جانے کے بعد بھی یہ رقم وہ اپنی جیب سے نہیں لگائے گا، بلکہ بینکوں کے ذریعے ہی حاصل کرے گا۔دوسری بات یہ کہ پرائیویٹ سیکٹر اس وقت تک پاکستان سٹیل پر ہاتھ نہیں ڈالے گا ،جب تک یہ مرغی انڈے دینے کے قابل نہ ہو جائے، چنانچہ سٹیل مل کو رواں تو حکومت ہی کو کرنا پڑے گا۔پھر یہ کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کا مقصد اسے بہتر طریقے سے چلاتا ہے تو جو سیکٹر اس کے سامنے کھڑی نئی سٹیل مل کو نہیں چلا پایا ،وہ اسے کیا چلائے گا؟

اس تمام اگر مگر کے باوجود اگر کسی وجہ سے یہ قومی ادارہ نجی شعبے کی تحویل میں چلا گیا تو وہ بھی اسے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ذریعے اکانومی آف سکیل حاصل کئے بغیر چلانہیں پائے گا اور بالآخر ساری مشینری سکریپ میں بیچ کر اپنی راہ لے گا، چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان جہاں سیر وہاں سوا سیر کے مصداق پاکستان سٹیل انتظامیہ کی بھرپور مدد کرے، تاکہ یہ کارخانہ حرکت میں آکر اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے قابل ہو سکے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سٹیل کے ابتدائی معمار روس کے ساتھ بات چیت کرکے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے لئے انہی خطوط کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، جن خطوط پر پہلے مرحلے میں کیا گیا تھا، جس کے امکانات اس لئے بھی روشن نظر آتے ہیں کہ اب جبکہ روس کا دیرینہ رفیق بھارت امریکہ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے،روس اس سے پہلے کی طرح خوش نظر نہیں آتا یا پھر چین کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ پاکستان سٹیل کے اس توسیعی منصوبے پر نظرثانی کرکے پاکستان کے لئے قابل قبول صورت میں نافذ کرنے پر راضی ہو، جس پر نوازشریف کے گزشتہ دور حکومت میں ان کے دورئہ چین کے دوران صرف دستخط کرنے باقی رہ گئے تھے۔

روس یا چین میں سے کوئی اگر اس سلسلے میں مدد کرنے کے لئے راضی بھی ہوگیا تو آئی ایم ایف کو پاکستان سٹیل کو حکومت کی تحویل میں رکھنے کے لئے کیسے منایا جائے گا؟ بین الاقوامی سیاست کی ان مشکل اور پیچیدہ گھاٹیوں میں سے راستہ بنانے کے لئے حالات بظاہر سازگار دکھائی نہیں دیتے، چنانچہ ان دشوار حالات میں اس کے علاوہ بظاہر کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا کہ پاکستان سٹیل کو بھی نجی شعبے کی ٹوپی پہنا کر مخالفین کی نظروں سے اوجھل کر دیا جائے، لیکن یہ کام اس طریقے سے کیا جائے کہ پاکستان سٹیل کی بحالی کے بعد اس کی پیدوار میں توسیع کی ضمانت حاصل کی جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے نہ صرف پاکستان سٹیل، بلکہ طوارقی سٹیل کو بھی مکمل تعاون فراہم کیا جائے،تاکہ پاکستان کی صنعتی زندگی میں کلیدی کردار کے حامل دونوں کارخانے اپنا بھرپور کردار کر سکیں۔ پاکستان استیل کو نجی شعبے کی تحویل میں دینے کے سلسلے میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ مذکورہ بالا یقین دہانیاں کرانے والی کسی بھی کمزور پارٹی کو اسے بند کرکے مشینری کباڑیوں کو فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو، اور ایسی صورت حال میں حکومت پاکستان اسے واپس اپنی تحویل میں لے سکے۔

آخر میں یہ کہ کرکٹ سے لے کر دفاع تک ہم ہر معاملے میں ہندوستان سے مقابلہ کرنے کو اپنے دین و ایمان کا حصہ بنا کر جیتے ہیں تو ملکی صنعت، معیشت اور دفاع کے لئے سب سے اہم اس معاملے میں ہندوستان کے برابر آنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ جہاں اس وقت زیادہ تر روس کے تعاون سے لگائے گئے چار فولاد ساز کارخانے سٹیل اتھارٹی آف انڈیا کے تحت کام کررہے ہیں، جس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ اپنے اپنے وقتوں میں اربوں روپے کے نقصانات کے باوجود ہندوستان نے نہ تو ان کارخانوں کو بند کیا اور نہ ہی نجی شعبے کے حوالے کیا۔یہ اور بات ہے کہ ہندوستان کے پرائیویٹ سیکتر نے جو تقسیم سے پہلے ہی صنعت فولاد سازی سے وابستہ تھا، اپنے طورپر ترقی کرکے عالمی مقام حاصل کر لیا،جس کے نتیجے میں ہندوستان کا فولاد ساز صنعت کار، متل جو اس وقت برطانیہ میں مقیم ہے،دنیا کا سب سے بڑا فولاد ساز صنعتکار مانا جاتا ہے،جبکہ ٹاٹا سٹیل دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔قیام پاکستان کے وقت ہندوستان کے حصے میں چورانوے فیصد، جبکہ ہمارے حصے میں صرف چھ فیصد صنعتیں آئی تھیں، جن میں فولاد سازی کی صنعت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔پاکستان کے نجی شعبے میں فولاد سازی کی صنعت رفتہ رفتہ زور پکڑ رہی ہے، لیکن اس میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں اسے کچھ وقت لگے گا، چنانچہ اس دوران یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جیسے تیسے اپنے کم از کم ایک فولاد ساز کارخانے کو ڈھنگ سے سنبھالنے کی تدبیر کرے، ورنہ اس میدان میں ہمیں ہندوستان کے مقابلے میں ترقی معکوس کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ہمیں بنیادی طور پر کمزور کر دینے کے مترادف ہو گا۔پاکستان اور ہندوستان میں فی کس فولاد کی شرح میں جو ترقی کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔کچھ زیادہ فرق نہیں۔ ہندوستان میں یہ شرح اگر پچپن کلو گرام فی کس ہے تو پاکستان میں بھی چالیس کلو گرام فی کس ہے، لیکن پندرہ کلوگرام کے اس پاٹ کو عبور کرنے کے لئے ہمیں اپنی منزل کا واضح تعین کرنا ہوگا، جس کے لئے شاید ایک اور پی آئی ڈی سی اور ایک اور غلام فاروق کی ضرورت ہوگی، جس نے ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کو دنیا میں نمبرون تک پہنچانے کے لئے بنیادیں رکھی تھیں۔(ختم شد)    ٭

مزید : کالم