توانائی بحران اور میاں محمد شہباز شریف

توانائی بحران اور میاں محمد شہباز شریف

وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اِن دِنوں توانائی کا بحران حل کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ اِس کے لئے وہ شمسی توانائی کے علاوہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ دِنوں جرمنی کی کمپنیوں سے سولر پارک میں100میگاواٹ کا سولر پلانٹ لگانے کا معاہدہ ہوا اور اِس کمپنی کی طرف سے یہ بھی اظہار کیاگیا کہ وہ پاکستان ہی میں ایک کارخانہ لگانے کے منصوبے پر بھی کام کرے گی تاکہ شمسی توانائی سے متعلق پرزہ جات اور ضرورت کا سامان یہیں تیار ہو سکے۔

اتوار کے روز چھٹی کے باوجود وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کام کرتا رہا اور یہاں چینی کمپنی کے ساتھ مفاہمت کی تین یاد داشتوں پر دستخط ہوئے، جن کے مطابق چائنہ ویسٹرن پاور کمپنی لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے تین بجلی گھر لگائے گی۔ ہر ایک، سو سو میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اس تقریب میں موجود تھے، جس میں دستخط ہوئے انہوں نے چھٹی کے باوجود کام کرنے کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ توانائی بحران کی اہمیت کے احساس کا مظہر ہے۔

 وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کے کام کرنے والے انداز سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ ہر کوئی اُن کی تعریف کرتا اور جانتا ہے کہ وہ جس کام کو بھی ہاتھ میں لے لیں اُسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر چھوڑتے ہیں، ہمارا ملک پچھلے کئی سال سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ لوڈشیڈنگ نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ آٹھ سے بیس گھنٹے تک بجلی بند رہے، تو صنعتیں کیسے چل سکتی ہیں؟ وزیراعظم نے اس کا احساس کیا اور میاں محمد شہباز شریف نے یہ کام ہاتھ میں لے لیا وہ اب تک جرمنی اور چینی کمپنیوں کے علاوہ ترک کمپنیوں سے بھی معاملات طے کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی رفتار کافی تیز ہے اگر وہ اِسی محنت سے کام کرتے چلے گئے ،تو تین سال دُور کی بات ہے اگلے ایک دو سال میں توانائی بحران میں بہت زیادہ کمی آ جائے گی اور اس سے پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی۔

 ٭

مزید : اداریہ