پاکستان میں تیار ہونے والے ڈرون طیارے فوج اور فضائیہ میں شامل

پاکستان میں تیار ہونے والے ڈرون طیارے فوج اور فضائیہ میں شامل

                                    پاکستان میں تیار ہونے والے پائلٹ کے بغیراڑنے والے ڈرون طیاروں کا پہلا فلیٹ پاک فوج اور فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ براق اور شہ پر کے ناموں سے بنائے جانے والے یہ طیارے غیر فوجی اور سول انتظام کے تحت چلنے والے ادارے ”سینکام“ کے انجینئروں اور سائنس دانوں کی مدد سے تیار کئے گئے ہیں، ان جاسوس طیاروں کی فوج اور فضائیہ میں شمولیت سینکام کے ماہرین کی قابلیت کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ طیارے نگرانی کے لئے استعمال ہوں گے، مستقبل میں ان سے ترقیاتی منصوبوں میں بھی مدد لی جا سکے گی اور مسلح افواج کے ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھے گی، اِن طیاروں کی پاک فوج اور فضائیہ میں شمولیت کے سلسلے میں ہونے والی تقریب میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی، ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ سمیت فوج اور فضائیہ کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن (سینکام) کے ماہرین کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، براق اور شہ پر کی پاک فضائیہ اور پاک آرمی میں شمولیت سے مسلح افواج کی قوت اور استعدادِ کار میں اضافہ ہو گا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے پاکستانی دفاع کی مضبوطی اور تینوں افواج کے درمیان مشترکہ و مربوط حکمت ِ عملی کے حصول میں کردار ادا کرنے پر جنرل اشفاق پرویزکیانی کی تعریف کی۔ جنرل کیانی نے ایئر چیف سے گفتگو کے دوران قوم کے فضائی محافظوں کی ذمہ داری اور جذبہ کی تعریف کی۔

جو طیارے فوج اور فضائیہ کے حوالے کئے گئے ہیں وہ اگرچہ ڈرون طیاروں کا ابتدائی ورشن ہیں، لیکن ان طیاروں کی اندرون ملک تیاری سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دن دُور نہیں جب پاکستانی انجینئر اور سائنس دان ان طیاروں کے جدید ترین ایڈیشن بھی تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ یہ دونوں طیارے ہمسایہ ملک میں تیار ہونے والے طیاروں سے بہتر کارکردگی کے حامل ہیں۔ ابھی چند روز پہلے دبئی میں جو ائر شو ختم ہوا ہے اس میں پاکستانی طیارے جے ایف17تھنڈر اور تربیتی طیارے مشاق کی دھوم مچی رہی اور یہ دونوں طیارے بھی شو دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے اس شو میں شرکت کے سو فیصد مقاصد حاصل کر لئے ہیں، اس پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مبارک بادکی مستحق ہے۔ پیر25نومبر کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک یادگار دن رہے گا، جب پاکستان میں تیار ہونے والے ڈرون طیاروں کے دو فلیٹ فوج اور فضائیہ کے حوالے کئے گئے۔

پاکستان اس سے پہلے دفاعی لحاظ سے بہت سے سنگ میل عبور کر چکا ہے۔ ایٹمی صلاحیت کا حصول کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا، ساری دُنیا اِس پروگرام کے پیچھے پڑی ہوئی تھی اور اسے بند کرانے کے در پے تھی، لیکن جنرل ضیاءالحق کے پورے دور میں اس پر توجہ مرکوز رہی۔ اگرچہ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں بُلا لیا گیا تھا اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے، لیکن عملاً ایٹم بم کا ساراعملی کام جنرل ضیاءالحق کے دور میں تکمیل کو پہنچا اور بھارت کے دورے کے دوران انہوں نے اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے کان میں کہہ دیا تھا کہ پاکستان کے پاس ایٹم بم موجود ہے اور یوں ایک جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی، جو بھارت براس ٹیک مشقوں کے پردے میں چھیڑنا چاہتا تھا، پھر میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں ایٹم بم کے چھ دھماکے کر دیئے گئے اور یوں پاکستان باقاعدہ ایٹمی طاقت بن گیا۔ بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورر میں میزائل ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام ہوا اور آج پاکستان ایسے میزائل تیار کر چکا ہے،جو پاکستان کے دفاع میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کو جس طرح کے ہمسائے سے روزِ اول سے واسطہ پڑا ہے، اس کے پیش ِ نظر پاکستان کا مضبوط دفاع بہت ضروری ہے۔ پاکستان کا دفاع مضبوط نہ ہوتا تو بھارت کے دندانِ آز تیز تر ہو گئے ہوتے۔

1965ءاور1971ءکی پاک بھارت جنگوں نے پاکستان کی قیادت کو یہ سبق سکھایا کہ ملکی دفاع میں ہر لحاظ سے خود کفیل ہونا چاہئے، کیونکہ اول الذکر جنگ میں پاکستان کا اتحادی امریکہ اس کی امداد کے لئے عملاً آگے نہیں بڑھا تھا، بلکہ الٹا ہتھیاروں اور فاضل پرزوں کی سپلائی بھی روک دی تھی، یہ جنگ طویل ہو جاتی، تو پاکستان کی مشکلات بڑھ جاتیں، لیکن روس کی مداخلت سے نہ صرف جنگ جلد ختم ہو گئی، بلکہ دونوں ملکوں میں تاشقند کا معاہدہ بھی طے پا گیا۔ پاکستان نہ صرف ایٹمی، بلکہ روایتی دفاعی ہتھیاروں کے ضمن میں بھی تیزی سے خود کفالت کی جانب گامزن ہے،اور جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا ہے، جب پاکستان تھنڈر جیسے طیارے بڑی تعداد میں برآمد کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ مشاق طیارے تو پہلے ہی برآمد کئے جا رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور ان طیاروں کی وسیع پیمانے پر تیاری کا باقاعدہ منصوبہ بنائے اور ایک طے شدہ ہدف کے تحت طیاروں کی تیاری اور برآمد شروع کی جائے۔ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک کی اکانومی کا سارا انحصار سویلین اور فوجی طیاروں کی برآمد پر ہے۔

پاکستان کی زیادہ تر برآمدات ٹیکسٹائل سیکٹر سے تعلق رکھتی ہیں۔ چاول جیسی اجناس بھی ہم برآمد کرتے ہیں، جو جہازوں میں بھر بھر کے باہر بھیجی جاتی ہیں، لیکن یہ ساری برآمدات ایک طرف، جدید ٹیکنالوجی کے حامل چند طیاروں کی برآمد سے ساری برآمدات سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان اِن طیاروں کی تیاری اور برآمد پر خصوصی توجہ دے۔ یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ خام مال برآمد کرنے والے ملک ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر سکتے، پاکستان چین جیسے دوست ملک کا احسان مند ہے کہ جس نے طیاروں کی تیاری کی ٹیکنالوجی میں ہماری مدد کی اور اِس وقت پاکستان اُن چند ممالک کی صف میں کھڑا ہے، جو جدید طیارے بناتے ہیں۔ اگرچہ ابھی بہت سے مراحل طے کرنا باقی ہیں اور طیاروں کی جدید رینج کی تیاری ہمارا ہدف ہے (اور ہونا چاہئے) لیکن اب اگلے مراحل زیادہ تیزی اور زیادہ مہارت سے طے کئے جا سکتے ہیں،جو ماہرین اِن طیاروں کی تیاری میں شریک رہے ہم اُنہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ہمارے جن قابل ِ فخر سپوتوں نے پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کیا ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

مزید : اداریہ