لاہور ہائیکورٹ بارکا پرویز مشرف کے مارشل لاءکو جائز قرار دینے والے ججوں کے ٹرائل کا مطالبہ

لاہور ہائیکورٹ بارکا پرویز مشرف کے مارشل لاءکو جائز قرار دینے والے ججوں کے ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ساتھیوں سمیت12اکتوبر1999سے غداری کا مقدمہ چلانے اور ان کے مارشل لاءکو جائز قرار دینے والے ججوں کے ٹرائل کا بھی مطالبہ کردیا ہے ۔گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد ساقی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اس سلسلہ میں دائر اے این پی کے راہنما احسان وائیں ایڈوکیٹ کی قرار داد اکثریت رائے سے منظور کر لی گئی ۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ دینے ، آمریت اور آمرانہ نظام کی مزاحمت کی قابل فخر روایت رکھتی ہے۔ اس بار نے آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد میں لازوال قربانیوں کی روشن تاریخ رقم کی ہے ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے جنرل (ر)پرویزمشرف کے یک شخصی ٹرائل کے فیصلہ پر وکلاءبرادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ٹرائل آئین اور قانون کے منشاءکے صریحا خلاف ہے۔ آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ صرف فرد واحد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 6(2)کے مطابق ہر وہ شخص جو مدد فراہم کرے اس میں شامل ہو یا شریک جرم ہو، فوجی مداخلت کی کسی طور پر توثیق کرے ۔ آرٹیکل 6(2)کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ ایوان اپنی سابقہ قراردادوں کی روشنی اور آئینی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ 12اکتوبر 1999ءکے شب خون کو آئین شکنی کا نقطہ آغاز سمجھا جائے۔ لہٰذ 3نومبرکی بجائے12اکتوبر 1999ءکے واقع میں ملوث جنرل پرویز مشرف اسکے ساتھی جرنیل اور سپریم کورٹ کے وہ جج جنہوں نے 12اکتوبر 1999ءکے اقدام کو تحفظ فراہم کیا اور آمرانہ دور کو دوام بخشااور فوجی طالع آزما کو آئینی ترامیم کی اجازت دی تھی انکا آرٹیکل (6)کے تحت جنرل مشرف کے ساتھ منصفانہ اور شفاف ٹرائل کیا جائے۔

 مطالبہ

مزید : صفحہ اول