مقصد کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی

مقصد کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی
مقصد کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی

  

دور دور تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، ہر طرف اِس سیاہ رات میں ویرانی کا سا بسیرا لگ رہا تھا ، چراغ نے اپنی پرواز نیچی کر دی تا کہ اندازہ لگا سکے کہ یہاں اداسی اور مایوسی کا ڈیرہ کیوں ہے لیکن اُسے چند سسکیوں اور آہوں کے سواکچھ سُنائی نہ دیا لیکن کچھ ہی دور اُسے ایک گھر کی با لائی منزل پر روشنی کے آثارلگے ، ایک کھلی کھڑکی میں اُسے ایک ٹمٹماتا ہوا دیا نظر آیا ۔اب تیز ہوا چلنے لگی تھی وہ تیزی سے اُڑتا ہوا کھڑکی کے پاس پہنچا ، اِس سے پہلے کہ وہ دیا تیز ہوا کے آگے ٹھہر سکتا چراغ نے جلدی سے کھڑکی بند کی اور خود بھی اندر جا مو جود ہوا ،چراغ ہوا میں معلق جیسے ہی دوسری طرف مڑا ایک نو جوان لڑکا مبہوت انداز میں کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا ، اِس سے پہلے کہ وہ ڈر کر بھاگتا چراغ زمین پر آموجود ہوا نوجوان کے چہرے پر پریشا نی میں اُٹھنے والے سوالات سے پہلے ہی وہ بولا ، میرا نام چراغ ہے میں اِس دُنیا میں علم حاصل کرنے کی غرض سے آیا ہوں مجھے اپنا دوست ہی سمجھو اب دوسری طرف کھڑا لڑکا جس کا نام ایلی تھا پُر سکون ہو چکا تھا چراغ نے بتانا شروع کیا ،دوست مجھے جہاں سے علم کی خوشبو آتی ہے میں وہاں پہنچ جاتا ہوں تمہاری کھلی کھڑکی میں سے بھی جب مجھے دیا اور کتاب میز پر پڑی نظر آئی تو میں ادھر چلا آیا ۔ تھوڑی دیر میں دونوں میں کا فی اپنائیت ہو چکی تھی ۔باتوں باتوں میں ایلی نے چراغ سے پو چھا ،پھر تو تم میری کا لج کے امتحانات میں ضرور مدد کر سکتے ہو گے ، چراغ اپناسر پکڑ کر بو لا، سارے سٹوڈنٹس مجھ سے ایسی ہی مدد کی توقع کرتے ہیں ، میں تمہارے کالج کے امتحانات کی بجائے زندگی میں کامیابی کے بارے تمہاری بھر پور مدد کر سکتا ہوں۔ ایلی نے چراغ کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اچھے جادو کے چراغ بنے پھرتے ہو۔ چراغ کہنے لگا کچھ میں تم سے سیکھوں گا اور کچھ تم مجھے سکھاؤ گے اور ایلی نے ہاں میں سر ہلا دیا اور بولا اچھا اس لوڈشیڈنگ کے اند ھیرے سے نجات دِلا دو ، چراغ مسکرایا اور کہا ضرور اِسے بھی اور زندگی میں پھیلے دوسرے اند ھیروں سے بھی نجات ملے گی اگر تم اپنی زندگی کا کوئی ایک مقصد بنا لو۔

وہ کیسے؟ ایلی بو لا، میں تمہیں سمجھاتا ہوں ،تو سنو اب چراغ بولنے لگا فرانس کے سولہویں با دشاہ لوئس کواس کے محل سے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور اِس کے بیٹے پرنس لوئس کو جیل میں ڈالنے کی بجائے وہ لوگ اپنے ساتھ لے گئے ۔ اِن لوگو ں کا خیال تھا کہ کِنگ لوئس کی با قیات اور اثرات کو لوگوں کے ذہنوں سے مکمل طور پر مٹانے کے لئے کیوں نہ اِس کو اخلاقی طور پر تباہ کیا جائے اِس منصوبے پر عمل کرنے کے لیئے اِن لوگوں نے پرنس لوئس کو مقامی جگہ سے دور ایک بستی میں لے جا نے کا منصوبہ بنایا ۔ وہاں پر اِن لوگوں نے شہزادے پرہر چیز اِس اندازمیں نچھاور کرنی شروع کر دی جو ایک زندگی انسان کو دے سکتی تھی۔ اُنہوں نے تو اُس کو ایسی ایسی شراب اور کھانوں کی طرف راغب کیا جن کے بغیر شہزادہ زندہ رہنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ شہزادے کو ہر وقت حسین وجمیل عورتوں کے جھر مٹ میں رکھا جا تا جو رقص و سرود غرض ہر انداز سے شہزادے کا دِل لبھانے کی بھر پور کو شش کر تیں ، شہزادے کے ارد گرد ایسا با زاری ماحول پیدا کیا گیا جس میں ایسی ناشا ئستہ زبان ہر وقت استعما ل کی جاتی جو انسان کی ذ ہنی پسما ندگی کا سامان بنتی۔ غرض دِن رات کے چوبیس گھنٹے شہزادے کے اطراف عیاشی کا سامان سجا رہتا ۔

اُنہوں نے ہر وہ ممکن کو شش کر کے دیکھ لی جس سے کسی انسان کی روح کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا تھا ۔ اُنہوں نے ایک سال تک شہزا دے کو اس خاص ما حول میں رکھ کر اس کا عادی بنانے کی کو شش کی لیکن کا میاب نہ ہو سکے آخر کار اُنہوں نے شہزادے سے پوچھا کہ اس حد درجہ اخلاقی گراوٹ والے ماحول میں رہنے کے باوجود جس میں عیاشی کا ہر سامان موجود تھا تمہیں کس چیزنے اس طرف راغب ہونے سے روکے رکھا ،اُس وقت شہزادے نے تاریخی جملہ بولا کہ ۔\" میں ان چیزوں کا غلام بننے کے لئے نہں بلکہ عظیم بادشاہ بننے کے لیئے پیدا ہوا ہوں \"اسی طرح تمہاری قوم کے نو جوانوں کے بارے میں جو کچھ میرے علم میں ہے کہ کچھ خاص طاقتیں ایک منظم اوربھر پور انداز میں نوجوان نسل کو اخلاقی اور علمی طورپر تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہیں ۔ یہ نوجوان اپنی مخصوص روایات کو بھول کر عیاشی اور فریب کے سنہرے جال میں غیر محسوس طریقے سے پھنستے جا رہے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ نسلوں تک معدوم ہو سکتا ہے ۔یہ نوجوان دورِ جدید کی سہولیات سے بہتر انداز میں فائدہ اُٹھانے کی بجائے اِنکو تفریح اور وہ بھی بالکل غلط سمت میں استعما ل کر رہے ہیں۔ چوبیس گھنٹے سوشل گیدرنگ، مارکیٹس ،ٹی وی لاؤنج اور انٹرنیٹ پر بیٹھے وقت برباد کرنے میں مگن رہتے ہیں ۔ ایلی خاموشی سے چراغ کی با تیں سُن رہا تھا ۔

بولا، ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے ، جیسے کچھ قوتیں ہماری نوجوان نسل کو ایک لیڈر کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایسے علاقے میں لے آئی ہیں جہاں پر اُن کو تباہی کا آسانی سے مِلنے والا ہر سامان مہیا کر دیا گیا ہو تاکہ اپنی تقدیر کا گلا اپنے ہاتھو ں سے گھونٹ سکیں ۔ چراغ کہنے لگا دراصل کچھ لوگ خواہشات کے غلام بن کر جیتے ہیں اور کچھ لوگ مقصد کے تحت جیتے ہیں۔پرنس لوئس نے بھی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے مقصد کے تحت جینے کو ترجیح دی تھی اس دنیا میں رہنے کا مقصد تلاش کرنا ہی تو اصل مشن ہے۔تمہیں تو پتہ ہے مجھے جہاں سے اچھی بات ملتی ہے میں وہاں سے پلک جھپکتے ہی آ جاتا ہوں تُمہاری دُنیا میں جب فون کے بعد Answering Machine کا تعارف ہوا تو اِس وقت کے ایک کامیاب بزنس مین نے کہا تھا کہ یہ مشین صرف دو سوالات پوچھنے کے لئے بنائی گئی ہے ۔ایک You Who Are اور دوسرا What Do You Want لیکن زیادہ تر لوگ اپنی زند گی ان میں سے ایک بھی سوال کا جواب دئیے بغیر گزار دیتے ہیں ۔

تمہاری ہی دُنیا میں کیاایک Human Development کے مشہور فلا سفر Earl Nightengale نے اس طرح سمجھایا کہ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جن کو (Goal People)کہا جا سکتا ہے جو ا س دُنیا میں واضح مقصد لے کر پیدا ہوتے ہیں بچپن سے ہی وہ جا نتے ہیں کہ ان کی زندگی کا کیا مقصد ہوتا ہے اور اُنہوں نے اس زندگی سے کیا حاصل کرنا ہے اور اسے کیسے گزارنا ہے۔وہ اپنے آپ کو پیدا ہوتے وقت سے ہی مواقع سے بھرپور زندگی کے سمندر کے بالکل عین وسط میں موجود پاتے ہیں اوراس وسیع مواقع کے سمندر میں تیرتے ہوئے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔دوسرے ہم جیسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں (Wish People)کہا جاسکتا ہے جو مواقع اور مقصد اپنے ساتھ لے کر پیدا نہیں ہوتے،وہ اپنے مقصد(Goal)کو حاصل کرنے کی خواہش کر سکتے ہیں،اُنہیں اپنی قسمت کو خود بنانا پڑتا ہے،اپنا مقصد خود واضح کرنا پڑتا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ دوسری قسم کے لوگ اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش کو اہمیت نہیں دیتے کہ اُنہیں اِس سے کیا حاصل کرنا ہے۔بلکہ دوسری غیر ضروری چیزوں کو اہمیت دینے میں مگن ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر اِدھر اُدھر بھٹکتے گزار دیتے ہیں۔

جس دن اُنہوں نے اپنا دنیا میں رہنے کا مقصد تلاش کر لیا اُن کی بے معنی زندگی کو ایک نام مل جائے گا۔اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی زندگی کا مقصد کتنا بڑا یا چھوٹا ہے۔فرق یہ پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی کا کوئی نہ کوئی ایک واضح Goalہو اور یہ واضح کرنا صرف اور صرف آپ کا کام ہے۔اب ایک Magicکی بات ،جس دن آپ نے اپنے دماغ میں کوئی ایک Goalواضح کر لیا اسی لمحے تم دیکھو گے کہ تمہاری زندگی کی ہر چیزاپنی اپنی جگہ پر خود بخود آجائے گی اور اس کے گرد گھومنے لگے گی۔ایلی بولا ہم اپنے Goalکو واضح کیسے کریں؟چراغ مسکرایا اور بولا بالکل آسان ہے۔

تم اِس چیز سے شروع کرو جو تمہیں سب سے زیادہ پسند ہوکوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو گا جسے کچھ ناکچھ پسند نہ ہوجسے وہ اپنی زندگی میں حاصل کرنا چاہتا ہو۔ہوتا یوں ہے کہ جو چیز یا کام ہمیں پسند ہوتا ہے وہ ہمیں بالکل اہم نہیں لگ رہا ہوتا ہم اِدھر اُدھر کی مختلف چیزوں کی طرف دیکھنے اور اُس کو حاصل کرنے کے لالچ میں وقت گزار دیتے ہیں۔حالانکہ وہ چیز ہماری ناک کے بالکل نیچے موجود ہوتی ہے۔جب آپ یہ بات بخوبی جان جاتے ہیں تو کامیابی کے دروازے آپ پر خود بخود کھلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ایلی کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ چراغ کی باتوں سے اُس کے بھی ذہن کے بند دروازے کھلنے شروع ہو گئے تھے اور وہ یہی سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ اُسے چراغ جیسا دوست مِل گیا تھا جِس کے ساتھ مل کر زندگی کی کامیابی کی منزلیں طے کرنے میں بخوبی مدد مِلے گی۔

مزید :

کالم -