چھپ چھپ کر مریضو ں کی ویڈیو بنانے والاڈاکٹر اپنے ہی جال میں پھنس گیا

چھپ چھپ کر مریضو ں کی ویڈیو بنانے والاڈاکٹر اپنے ہی جال میں پھنس گیا
چھپ چھپ کر مریضو ں کی ویڈیو بنانے والاڈاکٹر اپنے ہی جال میں پھنس گیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) جب مسیحا ہی شیطان بن جائے تو اس کے شر سے کوئی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ برطانیہ کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر نے اپنے پیشے کا تقدس پامال کرتے ہوئے نہ صرف اپنے مریضوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ دوستوں اور ساتھی ڈاکٹروں کو بھی معاف نہ کیا اور تقریباً 1000 لوگوں کی برہنہ یا نیم برہنہ ویڈیوز بنالیں۔

خاتون سیاستدان برہنہ تصاویر’لیک‘ہونے پر خوش ، جاننے کے لئے کلک کریں

برطانیہ کے کئی مشہور ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر لیم ہوییو نے گزشتہ تین سال میں 23 خفیہ کیمرے استعمال کرتے ہوئے خواتین، بچوں، ماتحت ملازمین اور ساتھی ڈاکٹروں کی ویڈیوز بنائیں لیکن بالآخر اپنے ہی جال میں پھنس کر جیل پہنچ گیا۔

ڈاکٹر لیم عام طور پر فلمی انداز کے خفیہ کیمرے استعمال کرتا تھا جو پنسل، عینک، یو ایس بی ڈرائیو یا ٹیکے کی شکل کے ہوتے تھے تاکہ کسی کو شک نہ پڑے۔ وہ عام طور پر یہ کیمرے ہسپتال کے بیت الخلاءمیں لگاتا تھا اور اس نے اپنے گھر کے ہر بیت الخلاءمیں بھی کیمرے لگا رکھے تھے جہاں آنے والے مہمانوں کی بھی فلم بناتا تھا۔

جنوبی لندن کے سینٹ اینتھونی ہسپتال کے ایک بیت الخلاءمیں کیمرہ لگاتے وقت غلطی سے کیمرہ وقت سے پہلے آن ہوگیا جس کے باعث اس کی اپنی تصویر بھی اس میں محفوظ ہوگئی۔ اتفاق سے یہ کیمرہ اپنی جگہ سے نیچے گرگیا اور جب اس کا معائنہ کیا گیا تو اس میں دیگر لوگوں کے علاوہ ڈاکٹر لیم کے چہرے کی تصویر بھی تھی۔ پولیس نے جب تفتیش کی تو ڈاکٹر کے گھناﺅنے شوق کی ساری تفصیلات سامنے آگئیں اور اس کے بتانے پر مختلف مقامات سے 23 کیمرے برآمد کئے گئے جن پر ہزاروں گھنٹے کی ویڈیوز اور تصاویر محفوظ تھیں۔ عدالت نے بدکردار ڈاکٹر کو 8 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -