’میں ماں نہیں بننا چاہتی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ قتل کی دھمکیاں مل گئیں، سیکیورٹی طلب

’میں ماں نہیں بننا چاہتی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ قتل کی ...
’میں ماں نہیں بننا چاہتی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ قتل کی دھمکیاں مل گئیں، سیکیورٹی طلب

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ترقی پذیر ممالک میں عدم برداشت کی کئی وجوہات سمجھ آتی ہیں مگر کئی واقعات سے لگتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عدم برداشت میں ان ترقی پذیر ممالک سے بھی آگے ہیں۔ برطانیہ میں ایک خاتون صحافی نے بی بی سی ڈاٹ کام پر شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں صرف اتنا لکھا کہ”میں بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔“ جس پر انہیں ٹوئٹر پر صارفین کی طرف سے بدترین تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اور قتل کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں۔ 29سالہ ہولی براک ویل پر اس قدر تنقید کی گئی کہ وہ اپنا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بند کرنے پر مجبور ہو گئیں اور بی بی سی کو اس کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بھیجنی پڑ گئی ہے۔

مزید جانئے: شامی جنگجو کس اسلام دشمن ملک میں اپنا علاج کروارہے ہیں؟ مغربی میڈیا کا تہلکہ خیز انکشاف

ہولی براک دراصل خواتین کی ایک ویب سائٹ گجیٹ (Gadgette)کی ایڈیٹر ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق کے لیے خدمات کے صلے میں گزشتہ سال ”دی ڈرم“ (The Drum)کی طرف سے ویمن آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ بی بی سی نے گزشتہ دنوں 2015ءکی 100خواتین کے نام سے ایک سیریز شروع کی اور ہولی براک ویل کو بھی اس میں آرٹیکل لکھنے کو کہا۔ ہولی براک ویل نے آرٹیکل میں لکھا کہ ”’حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے ایک انسان کو پیدا کرنے میں کوئی کشش نہیں نظر آتی ہے۔میں اپنا آپریشن کروانا چاہتی ہیں تاکہ میرے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہو سکے۔“اس پر ٹوئٹر صارفین نے انہیں خودغرض قرار دیتے ہوئے سنگین دھمکیاں دینی شروع کر دیں، اور ان کے لئے خطرات اس قدر بڑھ گئے کہ ان کی حفاظت کے لئے سکیورٹی بلوانا پڑ گئی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -