طیب اردگان سینہ تان کر مغربی ممالک کے خلاف کھڑے ہوگئے، وہ اعلان کردیا جس سے پورے یورپ کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے

طیب اردگان سینہ تان کر مغربی ممالک کے خلاف کھڑے ہوگئے، وہ اعلان کردیا جس سے ...
طیب اردگان سینہ تان کر مغربی ممالک کے خلاف کھڑے ہوگئے، وہ اعلان کردیا جس سے پورے یورپ کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ (نیوز ڈیسک) ترکی کو یورپی یونین کا حصہ بنانے کے بارے میں جاری بات چیت کو منجمد کرکے یورپ بالآخر وہ غلطی کربیٹھا ہے کہ جس کے انجام کا تصور کرکے ہی یورپی رہنماﺅں پر کپکپی طاری ہونے لگی ہے۔ یورپ کے ترکی مخالف فیصلے کی خبر سامنے آتے ہی ترک صدر رجب طیب اردگان نے بالآخر یورپ کو وہ دھمکی دے دی ہے جو اس کے رہنماﺅں کے لئے بھیانک خواب کی حیثیت رکھتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر نے استنبول میں خطاب کے دوران کہا ”جب صرف 50 ہزار پناہ گزین کاپیکول (یورپی ملک بلغاریہ کی سرحدی چوکی) پر پہنچے تو تم شور مچانے لگے اور حیرت میں ڈوب گئے کہ اگر سرحدی دروازے کھول دئیے گئے تو کیا ہوگا۔ اگر تم مزید آگے بڑھے تو سرحدی دروازے واقعی کھول دئیے جائیں گے۔ تمہاری کھوکھلی دھمکیوں سے نہ ہی میں اور نہ ہی میری قوم متاثر ہوگی۔ یہ مت بھولو کہ مغرب کو ترکی کی ضرورت ہے۔ “

روسی صدر پیوٹن نے اپنے ایٹمی میزائل ایسی جگہ پر پہنچادئیے کہ امریکہ سمیت پورے مغرب کی نیندیں اُڑگئیں، بڑا خطرہ!

یورپ کے لئے موجودہ حالات میں ترک صدر کے ان الفاظ سے زیادہ خطرناک بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 13 لاکھ سے زائد تارکین وطن یورپی ممالک پہنچے ہیں جن کی وجہ سے ان کی معیشت، سیاست اور معاشرت میں ایک بھونچال آگیا ہے۔ یورپی ملک تارکین وطن کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈالنے کے لئے آپس میں لڑرہے ہیں۔ ہر ملک اپنی سرحدیں بند کئے بیٹھا ہے اور پورے یورپ میں سخت تناﺅ اور کشیدگی کا عالم ہے۔ ایسی صورت میں ترکی ان کا واحد سہارا ہے جس نے لاکھوں تارکین وطن کو یورپ کا رخ کرنے سے روک رکھا ہے۔ا گر ترکی جانب سے اپنی سرحدیں کھول دی گئیں تو مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن کا ایسا ریلا یورپ کا رخ کرے گا کہ جس پر بند باندھنا ان کے لئے کسی طور ممکن نہیں ہوگا ۔

ترکی کے سخت ردعمل کے پیش نظر بڑے یورپین ممالک، جن میں جرمنی اور فرانس بھی شامل ہیں، نے پہلے ہی کہنا شروع کردیا کہ ترکی کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ نے بظاہر ترکی کی شمولیت کے بارے بات چیت منجمد کرنے کا فیصلہ ضرور کیا ہے لیکن درپردہ دونوں اطراف ان مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت ترکی میں تقریباً 27 لاکھ شامی مہاجرین ہیں جبکہ لگ بھگ 3 لاکھ عراقی مہاجرین بھی مقیم ہیں۔ ترکی کے ایک اشارے پر یہ لاکھوں غریب الوطن لوگ یورپ میں داخل ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی