متوازن نصاب کی اہمیت

متوازن نصاب کی اہمیت
 متوازن نصاب کی اہمیت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں تعلیمی نصاب میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔یہاں چار مختلف اقسام کے نصاب اور نظام ہائے تعلیم موجود ہیں جن میں مدرسہ(مسجد مکتب)، نجی تعلیمی ادارے، انگلش میڈیم نجی تعلیمی ادارے اور سرکاری سکول شامل ہیں۔ ان تمام سکول سسٹمز میں علیحدہ علیحدہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ کچھ درسی کتب میں تعصب اور نفرت پھیلانے والا مواد موجود ہے جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 22اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ اس کنونشن کے بھی منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی پرورش تعصب اور مذہبی امتیاز سے پاک معاشرے میں کی جانی چاہیے تاکہ وہ ذمہ دارانہ زندگی گزار سکیں ۔تحقیقی رپورٹس درسی کتب کے اس مواد کی بھی نشاندہی کرتی ہیں جس میں دیگر مذاہب کے اعتقادات کو غیر منطقی اور غیر موزوں قرار دیا گیا ہے جس سے تعصب کا احساس ابھرتا ہے اور طلبا اپنے مذہبی اعتقاد پر عملدرآمد کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں ۔ان رپورٹس میں جامع اصلاحاتی عمل کے لیے کہاگیا ہے جس کے ذریعہ نفرت پھیلانے والے اور امتیازی مواد کو ختم کیا جاسکے ۔دوسری طرف آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعددیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2009ئاور نیشنل کیریکولم 2006 ء پر عمل کیا جارہا ہے ۔پنجاب نے ابھی تک نہ تو کوئی پالیسی بنائی ہے نہ ہی نصاب ۔یہ امرقابل تحسین ہے کہ پنجاب کیریکولم اینڈ ٹیکسٹ بکس بورڈ، ایس ڈی پی آئی کی طرف سے درسی کتب پر نظرثانی کرنے کی سفارشات کا خیرمقدم کررہا ہے۔

16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد جنوری 2015 ء میں کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں سول اور عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا ۔ملک میں اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی اور فوجی قیادت میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر ہر صورت عمل کیا جانا چاہیے اور ان بنیادی خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے جن کے باعث پاکستانی معاشرہ انتہاپسندی اور تعصب ، کرپشن اور عدم برداشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں بیس نکاتی حکمت عملی پر عملدرآمد کرکے انتہاپسندانہ سوچ کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر موثر اقدامات کرنے کا اعادہ کیاگیا ہے ۔صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کا مقصد نفرت ،فرقہ واریت یا مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اہم کردار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین پاکستان کے تحت سب اقلیتیں برابری کا درجہ رکھتی ہیں۔ امتیازی سوچ اور کچھ حد تک نفرت پھیلانے والا مواد درسی کتب میں موجود ہے ، قائد اعظم کی ایک روشن خیال معاشرے کی سوچ کو حقیقی عملی جامعہ پہنانے کے لیے ایسے مواد کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔

بچوں کی کسی تعصب اور مذہبی امتیاز کے بغیر ایک آزاد معاشرے میں ایک ذمہ دار انہ زندگی کے لیے نشوونما ہونی چاہیے۔حکومت کو سرکاری اورنجی تعلیمی اداروں اور مدرسوں کے تعلیمی نظاموں اور نصابوں کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ طالب علموں کو علم کے حصول کے مساوی مواقع ملیں اور مقابلے کا رحجان پیدا ہو ۔امن اور مذہبی ہم آہنگی کے درس سے تعلیمی اداروں اور ملک میں بین المذاہب اتحاد کو فروغ ملے گا اور درسی کتب میں بھی نظرآنی چاہیے ۔تما م اہم تاریخی کردار چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کو درسی کتب میں قومی ہیروز کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے اگرچہ کچھ ہیروز کے نام پہلے ہی درسی کتب میں موجود ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 22اور نیشنل ایکشن پلان 2015ئکے مطابق ہر مذہب کی درسی کتب اور نصاب پر نظرثانی کے لیے تمام مذاہب کے اسکالرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے ۔اس کے علاوہ ماہرین کے ذریعہ درسی کتب اور نصاب کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جانا چاہیے۔ پنجاب ٹیکسٹ بکس بورڈ اور شعبہ تعلیم کے اعلی افسران پر کسی قسم کا سیاسی اثر ورسوخ یا دباؤ نہیں ہونا چاہیے تاکہ وہ درسی کتب اور نصاب میں میرٹ پر تبدیلی کے لیے ماہرین کی آرا کا جائزہ لے سکیں۔ پبلشرز کو بھی رائٹرز اور ایڈیٹر ز پر مشتمل نصاب تیار کرنے والی ٹیم کے احکامات تسلیم کرنے کا پابند کیا جانا چاہیے۔ نصاب کے مسودے کی منظوری کے لیے ایک مناسب نظام ہونا چاہیے ۔درسی کتب اور نصاب میں موجود نفرت پھیلانے والے مواد کو امن اور مذہبی رواداری سے متعلق مواد سے بدل دیا جانا چاہیے جس سے ایک وسعت پذیر اور روشن خیال معاشرے کے قیام کی داغ بیل پڑ ے گی۔ اگر مستقبل میں نصاب اور درسی کتب کے تفصیلی جائزے اور نظرثانی کے بعد اس میں نفرت پھیلانے والا مواد نظر آئے تو پھر حکومت ماہر نصاب کا احتساب کرسکتی ہے ۔b

مزید : کالم