سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے

سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے
 سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے

  

کسی بھی ملک کے نظام کو چلانے کے لئے عوامی نمائندوں کے ذریعے بنائے گئے قانون اور آئین کے مطابق مختلف ادارے اور شعبے قائم کئے جاتے ہیں جن کو مجموعی طور پر حکومت کا نام دیا جاتا ہے۔ قانون پر سختی سے عمل کرنے اور عمل درآمد کروانے میں حکومتی اداروں کی عزت اور تو قیر ہوتی ہے۔ قانون کی شکل میں حکومت کا ایک خوف ہوتا ہے، جس ملک یا صوبے کی حکومت کسی مجبوری، دباؤ، غفلت، کوتاہی، بددیانتی یا لالچ کے تحت کام کرے گی تو رفتہ رفتہ عزت وقار اوردبدبہ کم ہونے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ خود حکومت بھی کسی نہ کسی تنقید کا نشانہ بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اپنی عزت بحال کرنے کے لئے حکمرانوں کو پھر زیادہ محنت اور کوشش کرنا پڑتی ہے۔ جو معاشرے میں رہنے والوں کے لئے نہایت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ سب کی بہتری اسی میں ہے کہ سرکاری فرائض، آئین اور قانون کی روح کے مطابق دیانتداری سے سر انجام دیئے جائیں، جس سے معاشرہ اور حکومت امن و امان سے رہ سکیں۔ دنیا کے ہرملکمیں اچھائی بھی ہے اور برائی بھی۔ کہیں اچھے انسان زیادہ ہیں اور کہیں برے انسانوں کی کمی نہیں۔ ہر محب وطن شخص جانتا ہے کہ ذات برادری کی خاطر بھی لوگ ملک کے خلاف، اداروں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کی ترقی کے اداروں کی بحالی کے خلاف دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ان کی غرض صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے، وہ جس طرح بھی پورے ہوں، ان کے لئے وہی قانونی اور آئینی طریقہ ہے۔۔۔مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اپنے ملک وقوم سے بڑھ کر کسی کو کچھ نہیں سمجھتے، وہ بے ضرر، بے لوث محب وطن ہیں، ان کی اپنے ملک سے لازوال محبت ایک مثال ہے۔ یقیناًان میں کمزور طبقہ زیادہ ہے، ان کے پاس وافر مال وزر نہیں، اس قسم کے لوگ کسی بھی ملک میں ہوں، کہیں مجبوری اور کہیں بے روزگاری ہے جس کی وجہ سے دیگر ممالک میں وقت گزارنا پڑتا ہے، لیکن عقیدت، محبت اپنے ملک سے بہت زیادہ ہے۔

مجھے یورپ، مڈل ایسٹ اور کئی دوسرے ملکوں میں جانے کا موقع ملا، مجھے جتنے بھی پاکستانی ملے سب اپنے ملک کے بارے میں حکومتوں کے رویوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ کماتے کھاتے وہاں ہیں، لیکن قصیدہ اپنے ملککا ہی پڑھتے ہیں، اگرمشاہدہ کریں توغریبوں اور کمزوروں کی قربانیاں زیادہ ہیں،ان کے پاس مزید کچھ نہیں، لیکن اب اقتدار اور پاکستان کی حکمرانی ان کو ملنی چاہیے کہ وہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ کرپشن، فراڈ اور لوٹ مار کرنے والوں کا احتساب کریں۔ سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے ارب پتی بننے اور قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا، ملک کی سلامتی اوربقاء کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے جس کے لئے سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔امید ہے کہ جلد ہی کوئی اللہ کا ایسا بندہ سامنے آئے گا جو پچانوے فیصد عوام کی فلاح و بہبود کا بہترین ضامن ہوگا اور کرپٹ لوگوں کا محاسبہ کرے گا۔ 70سال سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جو ہو رہا ہے ، اسی کی وجہ سے ملک و قوم ترقی نہیں کرسکے، وہ ملک جو ہمارے بعد آزاد ہوئے وہ کہاں پہنچ گئے ہیں، ترقی کرنے والوں کو صحیح قیادت ملی جو کہ پاکستان کو میسر نہ آئی۔ ہمارے ملک میں کرپشن، اقربا پروری، غربت اور دیکھا دیکھی لوٹ مار میں اضافہ ہوا،یہ ہماری بدنصیبی ہے۔ نہ جانے کیوں پاکستانی عوام دن بدن اوپر کی بجائے نیچے جا رہے ہیں۔ شاید 5 فیصد طبقہ اپنی چالاکی، عیاری، مکاری، رشوت، کمیشن خوری، اقربا پروری، اپنے اغراض و مقاصد اپنے اہل و عیال کی بالا دستی میں ہمہ تن گوش رہا۔ جس کی وجہ سے وہ غریب پرور نہ بن سکا، شاید اس کی سوچ یہ ہو گی کہ اگر یہ غریب امیر ہو گیا تو ہمارا مقام گر جائے گا۔ پوری دنیا میں قومی لیڈر اپنے اپنے ملکوں کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے حکمران بیرونی ملکوں سے قرضے لے کر ملک کو گروی رکھ رہے ہیں، قرضے غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کر رہے ہیں، جس سے ملک میں غریب طبقہ غریب تر ہو رہا ہے۔

معذرت کے ساتھ قومیں سڑکوں، شاہراہوں، انڈر پاسوں سے ترقی نہیں کرتیں، قوموں کے لئے تعلیم، روز گار کے مواقع،فیکٹریاں، کارخانے اور تندرستی کے لئے ہسپتالوں، شفاخانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔الیکشن کے زمانے میں بڑے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور اپنی چالاکی، مکاری، عیاری سے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کو یادہی نہیں رہتا کہ ہم نے ووٹ حاصل کرنے کے لئے کس قدر وعدے کئے تھے، بس اپنے اغراضِ و مقاصد کا خیال رہتا ہے، جن کو پورا کرتے ہیں ۔ جو لوگ ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ان کی نیت صاف ہوتی ہے، ان کو آگے آنے سے روکا جاتا ہے۔ بہر حال اس طرح الیکشن جیتنے کے لئے دو نمبر حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ عوام کے ووٹ لینے والے وی آئی پی اور وی وی آئی پی ہو جاتے ہیں، جھوٹ سچ بن جاتا ہے اور سچ جھوٹ۔ عوام میں اتنی سکت نہیں کہ وہ جھوٹے لوگوں کو اپنے ملک میں کوئی سزا دے سکیں،بلکہ وہ خود پریشانیوں کے حالات کا شکار ہو جاتے ہیں، بھوک، افلاس، بے روزگاری، جہالت اور علالت ان کا نصیب بن جاتا ہے، عوام ان دھوکے بازوں، کرپٹ لوگوں کے غلام بن جاتے ہیں اور اپنی زبانیں بند رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 70 سال سے پاکستان میں پسماندگی زیادہ ہوئی ہے۔ملک دشمنوں نے پاکستانی عوام کو ترقی سے محروم رکھا۔ 85 فیصد لوگوں کے پاس وہ وسائل نہیں ہیں، جن کی وجہ سے ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک کی ایلیٹ کلاس میں شامل ہو سکیں۔ عوام کی اکثریت اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دینے سے محروم ہے، چونکہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں یا بیرونی ملکوں میں تعلیم کے لئے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے،جبکہ عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی اور روز مرہ کی اشیاء حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں، وہ ملک اور قوم کس طرح ترقی کرے جس کے حکمران اپنی ذات، اپنے مفادات، اپنے اغراض و مقاصد کو ترجیح دیں ۔

مزید : کالم