داعش کا وجودخطرے کی گھنٹی

داعش کا وجودخطرے کی گھنٹی
 داعش کا وجودخطرے کی گھنٹی

بغداد کے بعد دوسرے بڑے اعراقی شہر موصل کا ایک بڑا حصہ فورسز نے اپنی مہارت استعمال کرتے ہوئے داعش سے خالی کروا لیا ہے مگر پھر دوبارہ سو افراد کو نشانہ بنا کر ان مقامات کا رخ کر رہی ہے آخر یہ تنظیم کیا ہے؟ جو بار بار ریاستوں کی فورسز کی رٹ کو چیلنج کر تی ہے۔ 2003 ء میں وجود میں آنے والی آئی ایس آئی ایس وہ قبیح دہشتگرد گروہ ہے جو 2012 سے 2014کے دوران امارات اسلامیہ العراقیہ کے نام سے خانہ جنگی میں شمولیت کر کے اور مستحکم ہوکر اپنا نام ISIS رکھ لیا۔ جب مشرق وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں تحریک شروع ہوئی، اس نے شام کا رخ کیا اور حکومت کے خلاف طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو وہاں داعش کو اپنے پاؤں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصر فرنٹ نامی تنظیم سے ایک برانچ قائم کی گئی۔داعش کی عسکری فتوحات اورڈرامائی پیشرفت ہوئی، اس نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جمالیاجبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی اس کے قبضے میں آگئے۔جہاں حکومتی مرکز الرقہ پر قبضہ کیا گیا اور اپنی تنظیم کے باقاعدہ قیام اور امارت کا دعویٰ کیا اس کی قیادت ابوبکر بغدادی کر رہا ہے۔ اکیس جولائی 2013 ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابو غریب جیل پرحملہ کردیا اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ پانچ سو خطرناک دہشتگرد موجود تھے، حملے میں صرف پچاس داعش اہلکار شریک ہوئے اور پانچ سودہشتگردوں کو اپنے ہمراہ لے گئے بغیر کوئی بڑی مزاحمت دیکھے ان داعش کے جنگجوؤں نے جیل با آسانی توڑ ڈالی اور اپنا مقصد پورا کر لیا۔

القاعدہ اور داعش نے عراق اور شام کی حد تک ہاتھ ملا لیا ہے لیکن ان میں ایک اچھی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی اس گروہ سے تقریباٌ ہزاروں افراد منسلک ہیں اس گروہ کی بیشتر قیادت نا خواندہ ہے جبکہ اس کے بعض جنگجو تعلیم یافتہ ہیں اس کا سربراہ جھڑپوں میں گھرے علاقوں کے نوجوانوں کو ورغلانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ تیل سے مالا مال علاقوں پر قابض ہوکر اس تنظیم کو بے تحاشہ آمدنی ہونے لگی ہے اس تنظیم نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے لیے بشار الاسد کا تختہ الٹانے کی متمنی کچھ ریاستوں سے مدد لی اور بعد میں اپنے صحیح ٹارگٹ تیل کے ذخائر سے بھرے شام اور عراق کے علاقوں پر قبضہ جمایا۔ مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت کو تسلسل سے اضافہ پہنچا رہی ہے۔ مشرقی شام سے ذخیرہ کردہ تیل بھی اس کے لیے سود مند رہا ہے اور اب تو یہ سستے داموں تیل کی فروخت کے کاروبار سے بھی استحکام حاصل کر رہی ہے اور اپنی جڑوں کو تن آور کرنے کے لئے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ تاریخی آثار پر حملہ کرکے اس کی اہم چیزیں بیچ کر بھی اچھا خاصا زرمبادلہ حاصل کر رہی ہے اور یہ علاقوں کا کنٹرول سنبھال رہی ہے تو اس کے اثاثوں میں بیش قدر اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا بجٹ منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے ضخیم تر ہوچکا ہے اور اب 2ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ خوف و ہراس کی ایسی فضاء قائم ہوئی ہے کہ رہائشی علاقوں میں اکثریت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئی موصل کا علاقہ نمرو کاایک حصہ خالی کروایا جا چکا ہے۔

حلب شہر میں یہ تنظیم بڑ ی تباہ حالی کا باعث بنی ہے اس نے بم دھماکوں میں سیکڑوں جانوں کو لقمہ اجل بنا یا ہے یہ ان گنت ہولناک جرائم کی مرتکب ہوئی ہے ۔اس تنظیم کے سابقہ عناصر نے اپنے اعترافات میں قتل و دہشتگردی کی اسٹریٹیجی اور دیگر واقعات سے پردہ اٹھایا ہے۔ دہشتگردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور یہ تنظیم ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی یہ صرف بنیاد پرست تکفیری جماعت ہی نہیں بلکہ اس کی تباہ کاریوں سے آج کئی ممالک عفریت کا شکار ہو چکے ہیں۔یہ وہ منڈلاتا کالا طوفان ہے جو اتنا پرُخطر ہے کہ آگے چل کر اس کے اثرات ہر ملک پر ہونگے جس سے نبردآزما ہونا ایک بڑا چیلنج ہوگا اس لیے ابھی حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاہم اسے مکمل ختم کرنا ممکن نہیں لگتا کیونکہ ہمیں ماضی میں القاعدہ کی مثال ملتی ہے جو اب بھی مختلف گروہوں کے ساتھ موجود ہے ۔وہ حکمت عملی اپنائی جائے جو امن کے قیام کی ضامن ہو اور اسلام کا لبادہ اوڑھنے والی تنظیموں کو نیست و نابود کرکے مطلوبہ نتائج لائے۔داعش کا اسلام سے قطعاٌ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے یہ تکفیریت کا پرچار کرتے ہوئے بربریت کی مثال ہے جس کی ہمارا مذہب شدید مذمت کرتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ داعش نے مساجد اور مزارات شہید کر کے کچھ مبہم نہیں چھوڑا اوراپنی حقیقت ازخود آشکار کردی ہے، اس کی جابرانہ کاروائیاں اس کے افکار کا عملی جامہ ہیں یہ انسانیت پر دھبہ ہے، جس پر خدا کرے کہ ایسا قہر نازل ہو کہ اس کا وجود ہی مٹ جائے۔

انتہائی تشویش کی بات ہے کہ پاکستان میں بھی اس کا ایک نیٹ ورک موجود ہے اورمطلوب شدت پسند ان کے ساتھ جا کر باقاعدہ ان کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں، چونکہ تحریک طالبان پاکستان انہیں جوائن کر چکی ہے جس وجہ سے اسے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنے میں سہولت مل چکی ہے۔ اس تنظیم کو فروغ پانے سے روکنے کے لیے اقدامات ناکافی ہیں وقت کی نزاکت اور مانگ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی طرح کا ایک مؤثر آپریشن ترتیب دیا جائے جو اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ دنیا کے ممالک جو تیل کی خرید اری اس گروہ سے کر رہے ہیں اور جو قدیمی آثار والی اشیاء ان سے بھاری داموں خرید رہے ہیں ان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ انہوں نے اسے امیر ترین دہشت گرد تنظیم بنا دیا ہے اگر اس کی فنڈنگ عالمی حوالے سے بند کردی جائے تو یہ دم توڑتے زیادہ وقت نہیں لگائے گی اور اس کی صعوبتیں کسی ملک کو نہیں جھیلنی پڑیں گی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...