سی پیک میں روس کی دلچسپی۔۔۔ خوش آئند

سی پیک میں روس کی دلچسپی۔۔۔ خوش آئند

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں کافی ممالک شرکت کے خواہش مند ہیں روس کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہیں اس منصوبے سے دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی فائدہ اٹھائے گی، جنوبی اور وسطی ایشیا کو سڑک اور ریل کے ذریعے آپس میں ملائیں گے جبکہ وسطیٰ ایشیا کو گوادر اور کراچی بندرگاہ تک لے جائیں گے سی پیک سے پاکستان اور پورے خطے میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، سی پیک سے دس سال میں خوشحالی آئے گی۔ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان فضائی روابط میں اضافہ کیا جائے گا تاپی منصوبہ پاکستان میں گیس کی ضرورت پوری کرے گا۔دوسری جانب روس اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد ایسی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں کہ پاکستان نے روس کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں باضابطہ طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس طرح روس کو گوادر پورٹ سے تجارتی سازو سامان بھیجنے اور منگوانے کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ ایران اور ترکمانستان نے بھی گوادر کے راستے اپنی گیس برآمد کرنے کے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے، اس طرح گوادر پورٹ توانائی کی عالمی راہداری میں تبدیل ہو جائے گی، اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستان کو ٹرانزٹ فیس ملے گی بلکہ گیس کو ایل پی جی میں تبدیل کرنے کی سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا یہاں تک کہ پاکستان مزید ایل این جی بھی حاصل کرسکے گا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے نئے روشن پہلو سامنے آ رہے ہیں، روس نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے، ایک زمانے میں دوسری سپرپاور کا مقام و مرتبہ بھی اسے حاصل رہا ہے، اس لئے روس اگر سی پیک منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو اس کی افادیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے، روس زاروں کے دور سے کوشش کرتا رہا ہے کہ اس کی گرم پانیوں تک رسائی ہو جائے، اس مقصد کے لئے روس نے مہم جوئیوں اور کشور کشائیوں کا سہارا بھی لیا لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی اب سی پیک کے ذریعے اگر روس کو اپنا یہ دیرینہ خواب پورا کرنے کا موقع مل رہا ہے تو اسے نہ صرف پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے، بلکہ اس منصوبے پر سرمایہ کاری بھی کرنی چاہیے، جس سے دونوں ملک مستفید ہو سکتے ہیں روس پہلے ہی کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن میں سرمایہ کاری کے لئے بھی تیار ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا بلکہ دوستی کے جس سفر پر دونوں ملک اب گامزن ہیں اس کا راستہ بھی کشادہ ہوگا۔

گزشتہ ماہ روس اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے مقابلے کے لئے خصوصی فوجی مشقیں بھی ہوئیں، جن پر اگر چہ بھارت کو اعتراض تھا کہ بھارتی رہنما اسے اپنی مخصوص عینک سے دیکھ رہے تھے طے شدہ مشقیں ختم کرانے کے لئے بھارتی وفد نے خاص طور پر روس کا دورہ بھی کیا لیکن روس نے واضح کردیا کہ یہ مشقیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے منعقد کی جارہی ہیں اور بھارت کو ان سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، اس پس منظر میں عین ممکن ہے کہ بھارت روس کو اس منصوبے سے بھی بد ظن کرنے کی کوشش کرے کیونکہ وہ سی پیک کی کھل کر مخالفت کررہا ہے اور بھارتی وزیر اعظم نے چین کے صدر شی چن پنگ سے ملاقات کر کے اس منصوبے پر اپنے نام نہاد تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا جو چینی صدر نے مسترد کردئے، بھارت اس سلسلے میں تخریب کاری کے منصوبے بھی بناتا رہا ہے اور بلوچستان سے گرفتار بھارتی جاسوس نے سارابھارتی منصوبہ طشت از بام کردیا تھا اب جب بھارت کو یہ اطلاع ملے گی کہ اس کا دیرینہ دوست روس بھی سی پیک میں عملاً شمولیت کا خواہش مند ہے تو وہ انگاروں پر لوٹ رہا ہوگا لیکن روس نے اگر اس منصوبے میں شامل ہونے پر رضا مندی ظاہر کی ہے تو اس نے اس کی افادیت کا جائزہ ہر پہلو سے لے لیا ہوگا اس لئے روسی قیادت کو چاہئے کہ نریندر مودی کو بھی سمجھائے کہ وہ سی پیک کی بلاوجہ کی مخالفت ترک کر دیں کیونکہ مستقبل قریب میں یہ منصوبہ خطے کے بہت سے ملکوں کے لئے بہت مفید ثابت ہونے والا ہے اور اس علاقے کے ذرائع نقل و حمل کے شعبے میں ایک عظیم انقلاب کا بیش خیمہ ثابت ہوگا اگر وزیر اعظم نواز شریف کے وژن کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں تک سڑک اور ریل کے ذریعے رابطے قائم ہو جاتے ہیں تو ایک عشرے سے بھی کم وقت میں ان سب ریاستوں کو جو خشکی میں گھری ہوئی ہیں گوادر بندرگاہ کی صورت میں ایک نعمتِ غیر مترقبہ حاصل ہو جائے گی۔ اور یہ سب ریاستیں اپنی تجارتی اشیا گوادر کے ذریعے برآمد اور درآمد بھی کرسکیں گی۔ترکمانستان اپنی گیس بھی گوادر کے ذریعے برآمد کرسکتا ہے ۔

ایران اس سے پہلے ہی گوادر میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے ، اگر چہ وہ اپنی بندرگاہ چاہ بہار کو بھی بھارت کے تعاون سے ترقی دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے لیکن چاہ بہار نسبتاً بہت چھوٹی بندرگاہ ہے یہ بندرگاہ بن بھی گئی تو بھی ایران کو گوادر ایسی بڑی بندرگاہ کی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی، ایران اپنی گیس بھی گوادر کے ذریعے برآمد کرسکتا ہے اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ ایران اس میں عملاً شریک ہو، ایران سے گیس کی درآمد کے لئے جو پائپ لائن ایرانی حد سے نواب شاہ تک بچھائی جانی ہے اس سلسلے میں بھی کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے پاکستان اور ایران دونوں کو فائدہ ہوگا۔سی پیک کے سلسلے میں ایران کو بھارتی عزائم سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے بھارت آمادہ شرارت نہ ہوتو چاہ بہار کو گوادر کی معاون بندرگاہ بنایا جاسکتا ہے اور دونوں بندرگاہوں کے درمیان کوئی نہ کوئی لنک بھی قائم ہو سکتا ہے، ریل کے ذریعے بھی دونوں کو ملایا جاسکتا ہے، دونوں کا فاصلہ 90 کلو میٹر ہے۔ بھارت اگرچہ پاکستان کے ساتھ ’’تاپی‘‘ گیس پائپ لائن منصوبے میں بھی شریک ہے اور ترکمانستان کی گیس پاکستان کے راستے ہی بھارت جائے گی تاہم ان دنوں بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر جو اشتعال انگیزیاں شروع کر رکھی ہیں اگر بھارت کی جانب سے ان میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر تاپی جیسے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، بہر حال سی پیک میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، اس سے نہ صرف دونوں ملکوں میں تجارتی روابط بڑھیں گے بلکہ جس دفاعی تعاون کا آغاز حال ہی میں ہوا ہے وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ، سی پیک کے راستے مزید آگے بڑھے گا۔

مزید : اداریہ