چوبیس سال بعد انصاف

چوبیس سال بعد انصاف

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے قتل کے ایک ملزم کو 24سال بعد انصاف مہیا کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔ یہ رہائی ہمارے نظامِ عدل پولیس اور جیل خانہ جات کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ قصور کے نوجوان مظہر حسین کو قتل کے ایک مقدمے میں 1992ء میں ملزم قرار دیا گیا تھا۔ سیشن کورٹ اور پھر لاہور ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد مظہر حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے فاضل جج صاحبان نے مظہر حسین کے خلاف پیش کئے گئے تمام ثبوتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ جس شخص کو مجرم قرار دیا گیا، اس کے خلاف میڈیکل رپورٹس اور گواہوں کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے جبکہ آلہ قتل (پستول) بھی اس کی ملکیت نہیں تھا ،لہٰذا مقدمہ قتل سے بری ہونا اس کا حق ہے۔اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے 24سال بعد انصاف تو مہیا کردیا گیا لیکن اس قدر طویل مدت بعد انصاف مہیا کیا گیا کہ وہ انصاف کی بجائے نا انصافی کا تاثر کیوں لئے ہوئے تھا۔نوجوان مظہر حسین نے اپنی ساری جوانی جیل میں قتل کے مجرم کے طور پر گزار دی اوربڑھاپا شروع ہوا تو اسے قتل کے الزام سے بری کردیا گیا۔ اس فیصلے کے آنے تک جواذ یتیں اور تکالیف مظہر حسین نے برداشت کیں، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ 24سال کا عرصہ کوئی معمولی مدت نہیں، کیا پولیس نے غلط تفتیش کر کے ایک بے گناہ نوجوان کو جیل کی سلاخوں میں 24سال گزارنے پر مجبور کیا یا جیل خانہ جات کے اعلیٰ افسران ذمہ دار ہیں، جنہوں نے قانون کے مطابق ایک خاص مدت بعد اعلیٰ عدلیہ کو اطلاع نہیں دی کہ فیصلے میں تاخیر ہو چکی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے کہ ضمانت پر رہائی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جیل میں موجود ایسے قیدیوں کی بات عموماً سنی نہیں جاتی اور وہ بلاوجہ قانونی رعائت کے حق سے محروم رہتے ہیںیہ ممکن ہے کہ مظہر حسین نے عدلیہ کو اپیل بھجوانے کے لئے جیل کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا ہو لیکن اس کی درخواست کو اہمیت نہ دی گئی ہو۔ سال رواں میں دو مقدمات میں عدلیہ کے انصاف پر مبنی فیصلوں کے باوجود ملزمان سے زیادتی ہوئی۔ ایک مقدمے میں جب ملزم کو 19سال بعد بری قرار دیا گیا تو وہ بد نصیب چند سال قبل انصاف ملنے کا انتظار کرتے ہوئے انتقال کر گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور مقدمے میں دو بھائیوں کو پھانسی دے دی گئی حالانکہ سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا تھا۔ جیل حکام ہی وضاحت کرسکتے ہیں کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی بریت کے فیصلے کے باوجود دو بے گناہ بھائیوں کو پھانسی کیسے دے دی؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ احساسِ ذمہ داری اور نظام میں بہتری کوترجیح دیتے ہوئے ایسا فول پروف سسٹم تیار کیا جائے کہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات پیش نہ آسکیں۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...