’’بلیک فرائیڈے‘‘مقدس یوم کی توہین؟

’’بلیک فرائیڈے‘‘مقدس یوم کی توہین؟
’’بلیک فرائیڈے‘‘مقدس یوم کی توہین؟

واہ ماشاء اللہ ہم بھی کیا قوم ہیں، ذرا لالچ دیا جائے تو آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ اورٹوٹ پڑتے ہیں، کوئی یہ بھی نہیں سوچتا کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے اور یہ جو نوید دی جارہی ہے وہ کس حوالے سے ہے،فیس بک پر ایک دوست نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کیا اور کہاں کی لعنت ہے کہ ہم جو مسلمان کہلاتے ہیں اس گئے گزرے دور میں بھی ہمارے لئے جمعہ کا دن مبارک ہے اس حوالے سے کئی احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے، اور ہم گناہ گار بھی جمعہ کے روز خصوصی اہتمام کے ساتھ مسجد چلے جاتے ہیں، جو حضرات پانچ وقت کی نماز سے گریز پاہیں وہ بھی اہتمام سے نماز جمعہ پڑھ لیتے ہیں اور نمازی حضرات تو اہتمام بھی کرتے، صاف ستھرے کپڑے، خوشبو اور غسل کوبھی معمول بنا لیتے ہیں اس لئے ’’جمعہ‘‘ کو ’’سیاہ جمعہ‘‘ کہنا دل آزاری والی بات ہے، یہ مغرب کی کوئی فتنہ انگیزی ہوگی جس کا علم ہمیں بھی گزشتہ روز ہوا ہے، اس روز ہمارے شہریوں نے بلا سوچے سمجھے جو ہنگام آرائی کی اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔

گزشتہ روز جب دفتری امور سے فارغ ہو کر گھر گئے تو اسی دوران صاحبزادے عاصم نے بتایا کہ آج(جمعہ) شہر میں سیل لگی ہے اور ہمارے قریب علامہ اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں ایک بین الاقوامی چین کی فوڈ شاپ ہے، وہاں بھی سیل ہے، جو ایک خریدو ایک مفت حاصل کرو، والی ہے ، چلتے ہیں چل کر مچھلی کھالیں گے، میں نے معذرت کرلی اور بچوں سے کہا کہ وہ چلیں جائیں اس دوران کچھ پڑھ لوں گا اور پھر سوجاؤں گا دریافت کیا کہ مسئلہ کیا ہے کہ آج موبائل پر کئی تاجر حضرات کی دکانوں اور سٹوروں کی طرف سے پیغام بھی ہیں جن کے مطابق سیل ہے اور ’’بلیک فرائیڈے‘‘ بھی قرار دیا ہے، عاصم چودھری نے بتایا کہ یہ کوئی مغرب کی روائت ہے، یورپ میں یہ دن منایا جارہا ہے اور ہرسال منایا جاتا ہے یہاں پہلی بار تقلید کی جارہی ہے یہ جان کر دکھ بھی ہوا کہ یقیناًمغرب نے یہ رسم جان بوجھ کر رکھی ہوگی کہ جمعہ کو مسلمان تو متبرک خیال کرتے ہیں۔

بچوں کو اجازت دی ، خود ایک آدھ کتاب کا اگلا حصہ(جو پڑھنے سے رہ گیا تھا) پڑھا اور ٹیلیویژن دیکھنے کے بعد سوگیا، آج صبح دفتر آتے ہوئے جب صاحبزادے سے حال احوال دریافت کیا تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا، اس کے مطابق مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن گھر سے قریب ہے وہاں پہنچے تو حیران رہ گئے کہ کھانے پینے والی دکان کے باہر دو طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں، ایک مرد حضرات اور دوسری خواتین پر مشتمل تھی، اور دکان دار پریشان نظر آرہا تھا، بچوں نے یہ دکان قریب ہونے اور اس خیال سے چنی تھی کہ یہاں زیادہ بھیڑ نہیں ہوتی لیکن صورت حال بہت پریشان کرنے والی تھی، چنانچہ یہ دکان چھوڑ کر ایم،ایم، عالم اور وہاں سے فورٹریس سٹیڈیم کا رخ کیا گیا ، بچوں کے بقول یہ تو عید کی چاندرات سے بھی زیادہ جوش و خروش کا مسئلہ تھا، ٹریفک رینگ رینگ کر چل رہی تھی، یہ لوگ پونے گھنٹے میں فورٹریس سٹیڈیم والی چیک پوسٹ سے گزر سکے اور پھر بمشکل فورٹریس سٹیڈیم میں داخل ہوئے یہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا، تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، دکانوں میں سیل تھی اور گاہک ٹوٹے پڑ رہے تھے، سیلز مین پریشان تھے ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گاہکوں کا دھیان کس طرح رکھیں، لوگ خود ہی اشیاء پسند کر کے شاپنگ بیگ میں ڈال رہے اور کیشیئر کو ادائیگی کررہے تھے، بچوں نے فوڈ چین والی دکان یا ریسٹورنٹ کا رخ کیا تووہاں بھی لمبی لمبی قطاریں تھیں ریسٹورنٹ والے کے پاس خام مال بھی ختم ہونے کو تھا حتیٰ کہ آلو ختم ہونے کا اعلان کر کے چپس(آلو) کی فروخت بند کر دی گئی اور گاہکوں کو جلد از جلد بھگتانے کے لئے صرف برگر دیا جانے لگا، قطار میں کھڑے حضرات کی باری ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آرہی تھی اور ان کو بھی غیر معیاری برگر اور پیزا مل رہے تھے اور یہ ٹھنڈے تھے، لوگ لیتے چلے جارہے تھے، اسی طرح فورٹریس سٹیڈیم کے شاپنگ مال کی حالت تھی کہ بندے پر بندہ چڑھا ہوا تھا، انتظامیہ کے مطابق شاپنگ مال میں قریباً 20ہزار افراد موجود تھے اور شاپنگ بھی کر رہے تھے اکثر حضرات پسینے میں بھی شرابور نظر آئے یوں یہ بچے بمشکل کسی اور جگہ سے سینڈویچ کھا کر واپس آگئے اور واپسی میں بھی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بنا رہا،ٹریفک جام ہوتی اور بہت ہی سست رفتاری سے چلتی رہی۔

صورت حال یہ بنی کہ دکان دار مال فروخت کر کے شانت ہوگئے، حتیٰ کہ ایک صاحب نے لنڈے کی جرسیاں اور جیکٹ وغیرہ درآمدی مال کر کے فروخت کردیں،کسی بھی شے پر ٹیگ لگایا جاتاتھا جرسی کی اصل قیمت چھ ہزار اور سیل میں چار ہزار کی بیچ دی گئی جس کی اصل قیمت( ادائیگی) تین سے پانچ سو روپے تک کی تھی، لوگ شناخت کئے بغیر ہنگامی دور میں مبتلا ہو گئے ہوئے ہیں۔اب یہی سوال ہے کہ یہ بلیک فرائیڈے ہے کیا،یہ رسم پہلی مرتبہ سامنے آئی اور سنی گئی ہے لیکن لوگوں نے سوچے سمجھے بغیر شغل بھی بنالیا اور خوب شاپنگ بھی کی، ’’ اللہ سب کو نظر بدسے بچائے‘‘ یہ درخواست کر کے بات ختم کرتا ہوں کہ اپنا مذاق نہ بنوائیں اور وحشت طاری نہ کریں، بلکہ ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کے تو عنوان ہی کو تبدیل کرانے پر زور دینا اور اس پر احتجاج کرنا چاہیے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...