مجھے تو حیران کر گیا وہ

مجھے تو حیران کر گیا وہ
 مجھے تو حیران کر گیا وہ

  

آج اُس کالم کی اشاعت کو چار سال ہو گئے ہیں جو میں نے اپنی بیگم ، ان کے دونوں بھائیوں اور بیوی بچوں ، سب سے چھپ کر لکھا تھا ۔ اسلام آباد والے گھر کے باغیچے میں میرے سسر کے لئے قرآن خوانی ختم ہوئی تو ہم لوگ مہمانوں کے چلے جانے کے بعد افسردگی کے عالم میں خوش رنگ تنبو قناتوں کے سائے میں بیٹھے رہے ۔ پھر ایک نیم مطمئن سی آواز سنائی دی ’چلو ، ابو کی پہلی برسی اچھے طریقے سے ہو گئی‘ ۔ بیچ میں بعض عزیز و اقارب ، مقامی صحافیوں اور نبیلہ کی امی مرحومہ کے ساتھ پڑھانے والی اُن پروفیسروں کے نام بھی لئے گئے جنہوں نے ماحضر تناول کر کے اپنے رشتے کا حق ادا کیا تھا ۔ ویسے دو ایک شرکاء کو چھوڑ کر سیپاروں کو صرف خواتین ، باریش بزرگوں اور چھوٹے گریڈ کے ان لوگوں نے ہاتھ لگایا جو پڑھتے کم اور ہلتے زیادہ ہیں ۔ یہ ساری کارروائی ایک ایسے آدمی کی یاد میں ہوئی جس نے اخباری شور شرابے میں پوری چھ دہائیاں خاموشی سے گزاریں اور پھر یک لخت حدودِ وقت سے آگے نکل کر چپ چپیتے جنت البقیع میں انٹری ڈال دی ۔ وہی ناصر کاظمی والی بات کہ ’عجیب مانوس اجنبی تھا ، مھے تو حیران کر گیا وہ‘

منفرد نظم گو آفتاب اقبال شمیم نے ایک جگہ اپنے لئے ’رفتہ کا آئندہ‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ میں آفتاب شمیم جیسا شعری وژن تو نہیں رکھتا ، لیکن اپنے بچوں کے نانا سے میری آخری تے ’ وڈی‘ ملاقات بھی تیس سال پہلے کے اس سرسری تعارف ہی کی طرح تھی جس میں شیخ اکرام الحق کی ’نانا توپ‘ کا کوئی شائبہ نظر نہ آیا تھا ( ’نانا توپ‘ لفظ ’نانا‘ کا پشتو حاصل مصدر ہے) ۔ اولین ملاقات کے وقت راولپنڈی کے انٹر کانٹیننٹل میں کسی تقریب کے بعد ایک نوعمر لیکچرار سے موقئر اخبار پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر نے ایک طالب علم کے والد کے طور پر ہاتھ ملایا ۔ پر کچھ عجیب سے رپورٹر تھے کہ نہ تو افغانستان میں تازہ چھڑنے والی سوویت مخالف جنگ پہ روشنی ڈالی نہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی سمجھانے کی کوشش کی ۔ ’وہ جی ، ہیں جی ، ہاں جی‘ کو نکال کر ایک ہی بات ہاتھ لگی کہ طاہر اکرام پڑھائی نہیں کرتا ، اس سے کہیں کہ پڑھا کرے ۔

شائستگی کے اظہار کے لئے کسی جملے کے آغاز ، درمیان یا آخر میں ’جی‘ کا استعمال اہل پنجاب میں ہمیشہ سے مقبول ہے ، لیکن پاکستان ٹیلی ویژن کے مرحوم ڈائرکٹر نیوز مصلح الدین نے اپنی زندگی میں یہ لفظ جس تواتر سے برتا اُسی کو ان کے مہذب لب و لہجہ کی پہچان سمجھ لیا گیا تھا ۔ ان کے ہم عصر اور میرے سسر اکرام الحق کے ساتھ یہ تو نہ ہوا ، مگر انہوں نے ’جی ‘ کی طرح ایک اور لفظ ’اچھا‘ کے تخلیقی استعمال کو یوں حد کمال تک پہنچا یا کہ اس سے اثباتیہ ، سوالیہ اور انکاریہ مفہوم حسب ضرورت ادا ہونے لگے ۔ پھر بھی دفتر ، گھر اور دوسرے اخباروں کے ساتھی جانتے ہیں کہ اکرام صاحب کو انکساری کا رویہ اختیار کرنے کے لئے کسی ’ایکسس بیگج‘ سے جان چھڑانے کی کوشش کبھی نہ کرنا پڑی بلکہ طبیعت کی سادگی آپ ہی آپ گھریلو ، پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی کے پیرایوں میں ڈھل گئی تھی ۔

ہمارے معاشرے میں ایسے خوش نیت آدمی کو یا تو ناول اور شارٹ سٹوری کا فلیٹ کردار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے بہت بڑا فراڈ ثابت کیا جائے ۔ اکرام صاحب کی ذات شخصی اور پیشہ ورانہ دلچسپیوں کے کئی پہلو لئے ہوئے تھی ، لیکن فراڈ والی بات چونکہ مزیدار ہے ، سو اس پہ پہلے غور کرلینا چاہئے ۔ آخر اقبال ، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی کو بھی کسی نہ کسی شکل میں جھوٹے انقلاب اور جعلی روحانیت کے طعنے سننا پڑے تھے ۔ مشکل یہ ہے کہ میرا فراڈ والا مفروضہ کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھتا ، اس لئے کہ اگر اکرام صاحب کی چوراسی سالہ زندگی کا گداز محض فنکاری تھی تو اس سیریل کا خاتمہ گھر یا اسپتال کے بستر پہ بھی ہو سکتا تھا جبکہ اللہ میاں نے ، جو ’خیر الماکرین ‘ بھی ہے ، اس کا کلائمیکس روضہ ء رسول کی چوکھٹ پہ کر دکھا یا ۔

’پڑھا لکھا‘ مسلمان ہونے کے ناطے سے مجھے عقیدے کی بنیادیں عقل سلیم میں تلاش کرنے کی عادت ہے ۔ پھر بھی واقعات کی زمانی ترتیب کو دیکھوں تو اس کلائمیکس تک پہنچتے ہوئے ایک نا آشنا سی پری پروگرامنگ کا احساس ہونے لگتا ہے ، جیسے جو کچھ ہوا کسی طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق تھا ۔ بیگم اکرام الحق کی رحلت کے چار برس بعد دل میں حج کی اچانک خواہش ، پھر یہ تجویز کہ اکلوتی بیٹی نبیلہ ، بڑا بیٹا ثاقب اور اس کی اہلیہ بھی ساتھ ہوں ، اور سب سے بڑھ کر دیرینہ درد دل کو طبی مشورے کے بر عکس یہ کہتے ہوئے دائیں بائیں کر دینے کا فیصلہ کہ ’ بس ٹھیک ہے جی ، کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ ۔ 2005 ء کی سردیوں کے آغاز میں ایک ہفتہ کی شام کو جب میں نے چاروں عازمین کو اسلام آباد کے ہوئی اڈے پہ اتارا تو مجھے لگا کہ اکرام صاحب کا کام اب ’آٹو‘ پہ ہے ۔ اتوار کو خانہء خدا میں حاضری ، رات کو روضہء پاک کے لئے روانگی اور چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک نئی اڑان سے پہلے خرابی ء صحت کے بارے میں بیٹی سے یہ راز و نیاز کہ ’نہیں نبیلہ ، یہ اور طرح کی تکلیف ہے‘ ۔

ممتاز شاعر اور کالم نگار خالد احمد نے ہر دم بولتے رہنے والے ایک دوست کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ حضرت منہ میں سونے کا چمچہ نہیں ، سونے کا مائیکروفون لے کر پیدا ہوئے ہیں ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے میرے سسر اکرام الحق کانوں میں سونے کی ’ ہیئرنگ ایڈ‘ لے کر پیدا ہوئے ہوں گے ۔ اسی لئے نوجوانی ہی میں اپنے دل کی مشکوک تال کی تشخیص کے بعد ہر بے سری راگنی کے ماترے اپنی سماعت کے زور پر پورے کرتے رہے ۔ جن شوقیہ گلو کاروں نے اس صوتی آلے کو سُر کرنے کے لئے خوشدلی سے خوب ٹھونکا بجایا ان میں بیگم اکرام اور بیٹی بیٹوں کے علاوہ میں بھی شامل ہوں ۔ افتتاح عین میری شادی کے دن ہوا تھا جب اکرام صاحب نے میرے ابا کے ولائتی سوٹ کو دیکھ کر کہا کہ ملک صاحب کی شان آپ سے زیادہ ہے ، اور میں منہ پھٹ سیالکوٹی لہجے میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا ’لگتا ہے بیاہ ان کا ہو رہا ہے‘ ۔

سچ تو یہ ہے کہ کسی کی کم گوئی یا بلند آہنگی اس کے تصور حیات کا معاملہ بھی ہوا کرتی ہے ، وگرنہ میرے اپنے گھر میں مدتوں صبح کا آغاز بارہا سونے کے مائیکروفون والے دو بزرگوں کے ہیلتھ بلیٹن سے ہوتا رہا ، وہ بھی بی بی سی کی طرح میڈیم کے علاوہ شارٹ ویو پر ۔ ایک دن تو ناشتہ کی میز پر حالات حاضرہ کے پروگرام ’سیربین‘ کی طرز پر اس موضوع پہ تجزیہ بھی سنا کہ آیا بیماریوں کی جڑ نزلہ ہے یا معدے کی خرابی ۔ اکرام صاحب لاہور آئے ہوتے تو ہمارے گھر کی فضا یکسر بدل جاتی ، اتنی زیادہ جیسے کلاسیکی استاد میوزک کی الگ الگ اصناف کا فرق بتاتے ہوئے کہا کرتے ہیں ’ ایہہ مُلک ای ہور ، آب و ہوا ای ہور ، کہنوں کدھے نال ملا دتا جے ۔ ٹھمری ٹھمری اے ، دادرہ دادرہ اے‘ ۔

میرے ممدوح انسانی زندگی کی ٹھمری اور دادرے کے فرق سے خوب آشنا تھے ، مگر انہوں نے یہ نزاکتیں بچوں پر منکشف کرنے کی شعوری کوشش کبھی نہ کی ، شائد اس لئے کہ اس میں بھی خود پسندی کا کوئی پہلو نکل سکتا تھا ۔ والد کی سرکاری ملازمت کے دوران اپنی اور بھائی بہنوں کی دہلی میں پیدائش ، اینگلو عریبک اور سینٹ سٹیفن کالج کے مرحلے ، شفیق استاد ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی کوشش سے آزادی کے وقت کراچی تک کا ہوائی سفر ، جہاں ابا حلیم کے نام سے جانے گئے وائس چانسلر اے بی اے حلیم کی سرپرستی میں تعلیم کا آخری مرحلہ طے ہوا ۔ بی اے آنرز میں انگریزی ادب کا انتخاب کیسے کیا ؟ تاریخ میں ایم اے کے لئے کونسا اضافی مضمون پاس کرنا پڑا ؟ مقابلے کے امتحان میں نہائت اچھی پوزیشن کے باوجود سول سروس سے جان کیسے چھوٹ گئی ؟ یہ اور ان جیسے کئی اور سوال مدتوں نہ کسی نہ پوچھے نہ جواب ملا ۔

بہت سی دل چسپ باتیں تو انتقال سے چار سال پہلے میری بیوی کی ٹیپ پر محفوظ کئے گئے اس انٹرویو میں افشا ہوئیں جس میں سے ’ بس جی ، اتنا ہی کافی ہے‘ اور اسی نوعیت کے کلمات کی تکرار کاٹ دی جائے تو اس غیر بناوٹی گفتگو کا دورانیہ تین گھنٹے نکلے گا ۔ یہ بھی پتا چلا کہ آپ اسکول میں فٹ بال کے اچھے کھلاڑی رہے ، بچپن میں ہندوؤں کی رام لِیلا دیکھنے پر مار بھی پڑی ، ایک مرتبہ دہلی والے گھر میں جوش ملیح آبادی کی میز بانی کی اور ڈان کراچی کی سب ایڈیٹری سے الطاف حسین کے زیر ادارت صحافتی کیرئر شروع کیا ۔ عجیب بات یہ کہ پاکستان ٹائمز لاہور میں فیض احمد فیض جیسے نرم خو چیف ایڈیٹر سے اس منفرد خبر پہ ڈانٹ بھی سنی کہ عید پہ میو اسپتال میں داخل نہ ہو سکنے پر شیخوپورہ کے ایک مریض اور اس کے کنبے نے تین راتیں سڑک پر گزار دیں ۔ ڈانٹ اس لئے پڑی کہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور منفر د سرجن ڈاکٹر امیر علی فیض کے دوست تھے ۔

اس میں شک نہیں کہ فیض کی شاعری کی طرح ان کی دوستیاں بھی بے مثل تھیں ۔ البتہ ، اکرام صاحب نے پہلے ڈان ، پھر پاکستان ٹائمز اور آخر میں بزنس ریکارڈر کے لئے ساٹھ سالہ عملی صحافت میں اپنے اس پہلو کی ’مشہوری‘ بھی نہ ہونے دی ۔ مجھے ایک دو چکرباز بلکہ خانہ ساز اخبار نویسوں کے بارے میں کرید تھی کہ ان کے ساتھ آخر آپ کی دوستی کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے ۔ ہر مرتبہ یہی جواب ملا کہ ’بس جی ، پرانے دوست ہیں‘ اور یہ کہہ کر اکثر گھر کے ڈائیننگ ٹیبل ، پلنگ یا قالین پر کسی نہ کسی پوتی کو گود میں سنبھالتے ہوئے دوبارہ اس خبر کو ٹائپ کرنے میں مصروف ہو جاتے جو اگلے دن صفحہء اول کی شہ سرخی کا عنوان بننے والی ہوتی ۔ صرف ایک مرتبہ ایک صاحب کے بارے میں ، جو بین الاقوامی پھڈے باز تھے ، اتنا سننے کو ملا ’وہ جی دوست ہیں ، انہوں نے کبھی انگریزی میں بھی خبر لکھنی ہوتی ہے ‘ ۔ میں خوشی سے کھِل اٹھا کیونکہ مجھے پہلی بار انسانی عصبیت کی حرارت کا احساس ہوا تھا ۔

میں چار سال پہلے کے کالم میں ہونے اور نہ ہونے کا جو منظر نامہ لکھنے والا تھا اُس کی تکمیل نہیں ہوئی تھی ۔ ابھی تو ایک آدھ پرت ہٹا سکا تھا کہ ’پے منٹ‘ کے عوض عین اس جگہ سے تنبو قناتیں ہٹانے والے آ گئے جہاں اب سے تینتیس سال پہلے میری بارات کے لئے شامیانے نصب ہوئے تھے ، پھر تین برس بعد ثاقب فاروق کی دعوت ولیمہ ہوئی اور آج سے نو سال پیشتر یہیں سے نبیلہ کی امی کا جنازہ اٹھا جن کے لئے ہم ’خوگرِ پیکرِ محسوس ‘ اوپن یونیورسٹی کی طرف ایک چھوٹا سا موڑ کاٹ کر لاہور سے اسلام آباد آتے جاتے قبر پہ فاتحہ بڑھ لیتے ہیں ۔ بندہ اکرام صاحب سے پوچھے کہ سر ، آپ نے تو لوح مزار نصب کرنے کی مہلت بھی نہیں دی ۔ جواب آئے گا ’بس ٹھیک ہے جی ، کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ۔آپ نے سچ کہا سر جی ، خدا کی خدائی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، مگر انسانوں کے اندر کی کائناتیں تو ٹوٹ جاتی ہیں ۔

مزید : کالم