مولانا ظفر علی خاں کی صحافتی خدمات!

مولانا ظفر علی خاں کی صحافتی خدمات!

ڈاکٹر عبدالسلام خورشید

بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے کی سیاسی تحریکوں کی کوئی داستان قلمبند کی جائے تو اس میں مولانا ظفر علی خاں کا نام سرفہرست ہوگا

’’دکن ریویو‘‘ کے نام سے جو علمی مجلہ شائع کیا اس کی فائل آج بھی پڑھنے کے قابل ہیں

مولانا ظفر علی خان اللہ کو پیارے ہوئے تو والد مرحوم مولانا عبدالمجید سالک نے ان کی شخصیت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ’’مبارک ہے راہِ ہستی کا وہ بیدار بخت مسافر جس نے ابتدائے سفر میں فرنگی کے اقتدار کے خلاف عمل کی کمر باندھی۔ وہ دیوانہ وار اپنے راستے پر گامزن رہا۔ اس نے مصیبتیں جھیلیں۔ اس کے تلووں میں چھالے پڑے اور پھوٹے پھر اس نے اس وقت کمر کھولی جب فرنگی جاچکا تھا، وطن آزاد ہوچکا تھا۔ مبارک ہے وہ زبان و قلم کا دھنی جس نے ہمارے ادب کو، ہماری خطابت کو، ہماری صحافت کو پستی اور جمود کی زنجیروں سے آزاد کرکے زندگی کے حقائق سے ہم آہنگ کیا۔ جاندار اور حیات افروز پیغام کا حامل بنایا ۔ جس کی زباں آوری اور قلم کاری نے لاکھوں دلوں میں بیداری، خود داری اور کراری کے شعلے روشن کردیئے۔ مبارک ہے وہ واجب الاحترام بزرگ مولانا ظفر علی خاں، جس نے ہم جیسے ہزاروں کو ادب اور سیاست کی ولولانہ زائیوں اور غلغلہ آرائیوں کا رسیا بنایا۔ جب تک اس برعظیم میں اسلام باقی ہے، پاکستان باقی ہے، اردو زبان باقی ہے، ظفر علی خاں کا نام روشن رہے گا، روز بروز روشن تر ہوتا چلا جائے گا۔

تازِ مے خانہ دمے نام و نشان خواہد بود

سرِ ما خاک رہِ پیر مغاں خواہد بود

برزینے کہ نشانِ کف پائے تو بود

سال ہا سجدہ صاحب نظراں خواہد بود‘‘

مولانا ظفر علی خاں بابائے صحافت تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے اردو کی نرم و نازک اور متعدل مزاج صحافت میں ایک نئی جان ڈال دی اس میں سیاسی گھن گرج پیدا کی۔ اجنبی راج سے ایک ایسی جنگ کا آغازکیا جو تادم تحریر جاری رہی۔ اس جنگ نے دوسرے اخبارات کو بھی اس روش پر لا ڈالا اور آزادی صحافت کی جنگ دو آتشہ ہوگئی۔ فنِ صحافت کے اعتبار سے بھی وہ بابائے صحافت تھے کیونکہ انہی کے عہد میں خبروں پر زیادہ زور دیا جانے لگا۔ ان کی نسبتی اہمیت کو اجاگر کرنے کی خاطر بڑی سرخیوں کا آغاز ہوا۔ صحافتی شاعر ان سے پہلے گھٹنوں کے بل چل رہی تھی انہوں نے اسے ایک باقاعدہ صنف کا درجہ عطا کیا۔ ادارتی صفحے پر مزاحیہ کالم مستقل طور پر دینے کی ریت ڈالی، ان سے پہلے اخبارات کا ادارتی عملہ محدود ہوتا تھا۔ انہوں نے ہندوستان بھر سے اعلیٰ درجے کے ادیب اور صحافی اکٹھے کئے۔ نیاز فتح پوری، عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، چراغ حسن حسرت، مرتضیٰ احمد خان میکش، خدا بخش اظہر، حاجی لق لق اور بے شمار ادیب اور صحافی ان کے اخبار میں کام کرتے رہے۔ اگر مولانا ظفر علی خاں بابائے صحافت تھے تو ’’زمیندار‘‘ ام الصحافت کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ جن لوگوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کام کیا ان میں سے بیشتر افراد نے اپنے اخبار جاری کئے۔ گویا دیئے سے دیا جلا اور اردو صحافت میں ایک عظیم تنوع پیدا ہوا۔ ابتدا میں مولانا تمام اداریے خود لکھتے تھے۔ جب کارزارِ سیاست میں تگ و تاز کا وقت آیا تو اداریہ نویسی زیادہ تر دوسروں کے سپرد ہوگئی، لیکن سیاسی اور صحافتی شاعری کا بازار خوب گرم رہا۔ ممدوحین کی تعریف میں اور مخالفین کی مذمت میں زوردار نظمیں لکھتے رہے۔ حالاتِ حاضرہ پر ان کے شہپارے منظوم اداریوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس صنف میں بہت سے لوگ ان کے مقابلے پر اتر آئے۔ منظوم معرکہ آرائی بھی ہوئی لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس صنف کے بادشاہ وہی تھے۔

برعظیم کے مسلمانوں کی کوئی ایسی تحریک نہیں تھی جس میں وہ پیش پیش نہیں تھے۔ اگر بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے کی سیاسی تحریکوں کی کوئی داستان قلمبند کی جائے تو اس میں مولانا ظفر علی خاں کا نام سرفہرست ہوگا۔ قید و بند کے مصائب جھیلے۔ طلبی و ضبطی ضمانت اور چھاپہ خانوں کی ضبطی سے ان کی صحافتی اور سیاسی زندگی عبارت تھی۔ سامراج کے دشمن تھے۔ آزادی کے داعی تھے۔ کانگریس میں شامل ہوئے تو اس مقصد کے پیش نظر مجلسِ خلافت میں کام کیا تو اس غرض سے۔ مجلس اتحاد ملت اور نیلی پوشوں کی تحریک شروع کی تو اسی سبب سے اور مسلم لیگ میں بھرپور حصہ لیا تو اسی مقصد کی خاطر۔ ان سے سیاسی غلطیاں بھی ہوئیں لیکن ان کی نیک نیتی پر کسی کو شبہ نہیں ہوا۔

عنفوان شباب میں مجھے ان سے قرب حاصل ہوا، جو میری زندگی کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تحریک میں سب سے پہلے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے جو حوصلہ افزائی فرمائی اور جس طرح ہماری ہر درخواست پر لبیک کہا۔ ہمارے جلسوں میں آئے۔ ہمارے مظاہروں میں شریک ہوئے اس کی داستان اپنے خود نوشت سوانح میں قلمبند کرچکا ہوں۔ وہ آئیڈلسٹ تھے ہر چیز مثالی اندازمیں کرنا چاہتے تھے لیکن قوم میں نہ اتنا شعور تھا نہ اتنی بیداری کہ ان کے آئیڈیلزم کے ساتھ چل سکتی۔ اس لئے ان کے بعض منصوبے ناکام بھی رہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود ناکام رہے۔ انہوں نے حق کی آواز بلند کی، تسلسل اور تواتر سے بلند کی، مخالفتیں برداشت کیں، دار و رسن کی آزمائشوں سے گزرے اور اسی تگ و دو میں جان ہار دی۔ اگر وہ کسی موقع پر حوصلہ ہار جاتے تو یہ بات محلِ نظر ہوتی لیکن ان کا حوصلہ ہمیشہ بلند رہا اور یہی ان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان کی سیاسی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے۔ بیشتر مرحلوں میں وہ قوم کے محبوب رہے لیکن ایسے کٹھن مرحلے بھی آئے جب عوام نے ان پر زندگی اجیرن کردی لیکن کیا بات تھی اس مرد مجاہد کی کہ کوئی طاقت اسے اعلائے کلمتہ الحق سے باز نہ رکھ سکی اور انہوں نے جو کچھ کیا ضمیر کی آواز کے مطابق کیا۔

ظفر علی خاں بہت بڑے ادیب اور انشاء پرداز بھی تھے بلکہ زندگی کا آغاز ادب ہی سے کیا۔ ’’دکن ریویو‘‘ کے نام سے جو علمی مجلہ شائع کیا اس کی فائل آج بھی پڑھنے کے قابل ہیں۔ ’’ستارہ صبح‘‘ کے نام سے جو غیر سیاسی ہفت روزہ نکالا وہ بھی علمیت اور ادبیت کا حامل تھا۔ انہیں ز بان پر بے پناہ عبور حاصل تھا۔ بڑے بڑے اہل زبان ان کی زبان دانی کے قائل تھے۔ اگر صرف شعر و شاعری تک محدود رہتے تو اقبال کے بعد سب سے بڑے شاعر ہوتے لیکن وہ سیاسی اور صحافتی شاعری کی طرف زیادہ مائل رہے جو بہرحال عارضی نوعیت کی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے شعری مجموعوں میں ایسا کلام مل جاتا ہے جسے اردو شاعری کی تاریخ میں ایک مستقل مقام حاصل ہے۔

میں انہیں اس لئے بھی پیار کے ساتھ یاد کرتا ہوں کہ انہیں مجھ سے پیار تھا۔ آغا شورش کاشمیری تو ان کے معنوی فرزند تھے، سیاست میں ہم رکاب تھے۔ ان کی صحبت سے بہت فیض یاب ہوتے رہے اور ان سے بہت کچھ حاصل کیا۔ مجھ سے پیار اور نوعیت کا تھا اور وہ تھا ابنِ سالک ہونے کی حیثیت سے اور کچھ مسلم طلبہ کی تحریک میں شرکت کی وجہ سے ان کے فرزند مولانا اختر علی خاں میرے والد کے ہم عصر تھے۔ مجھے ان سے شرف نیاز مندی حاصل تھا۔ ان کے پوتے منصور علی خاں میرے ہم عصر ہیں۔ ان کے ساتھ بھی میرا بہت پیار ہے۔ مولانا کے بھائی چودھری غلام حیدر خاں مسلم ٹاؤن میں رہتے تھے۔ ان کی عمر میرے باپ کی عمر سے بھی کہیں زیادہ تھی لیکن وہ اکثر میرے ہاں آیا کرتے تھے۔ مولانا ظفر علی خاں کے سوتیلے بھائی پروفیسر حمید احمد خاں میرے استاد بھی تھے اور مرشد بھی۔ مولانا حامد علی خاں سے میرے گہرے مراسم ہیں۔ حمید اختر خاں کے فرزند اور حامد علی خاں کے داماد سعید احمد خاں سے بھی مجھے بہت پیار ہے۔ پروفیسر محمود احمد خان سوتیلے بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور مجھ پر بہت شفقت فرماتے ہیں۔ والد مرحوم کہا کرتے تھے کہ اس خاندان کے تمام افراد میں خلوص اور گرم جوشی کے عناصر بے حد نمایاں ہیں اور میرا تجربہ اور مشاہدہ بھی اسی رائے پر صاد کرتا ہے۔

لاریب، ظفر علی خاں نابغہ روزگار تھے۔ ایسے نابغہ روزگار جنہیں دھرتی کبھی کبھی جنم دیتی ہے۔ ایسے میں اگر میں ان سے محدود قرب پر نازاں ہوں تو اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...