سچا عاشق رسولؐ انگریزوں اور ہندوؤں کے سامنے ڈٹ جانے والا مردِ مجاہد

سچا عاشق رسولؐ انگریزوں اور ہندوؤں کے سامنے ڈٹ جانے والا مردِ مجاہد

پروفیسر شفیق کھوکھر

ہندوستان میں انگریزی استعمار کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے اور ان کے اقتدار کی پر شکوہ عمارت کی دیواروں کو زمین بوس کرنے اور کفر و الحاد کی بڑھتی ہوئی تاریکی کے سامنے اسلام کے پیغام کی شمع روشن کرنے کے لئے جن مجاہدوں نے اپنے خون کے نذرانے پیش کئے، اپنے راحت و آرام کو پس پشت ڈال کر قید و بند کی صعوتیں برداشت کر کے تحریک پاکستان کو کامیاب بنایا، ان میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، شاعر اسلام، مفکر اسلام اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ ، مولانا محمد علی جوہرؒ ،مولانا شوکت علی اور قائد ملت لیاقت علی خان کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خاں کا نام بھی نمایاں نظر آیا ہے۔

تحریک آزادی کے یہ نامور مجاہد اور سرکردہ رہنما، قادر الکلام شاعر، زود نویس، نثر نگار، شعلہ نوا خطیب اور عاشقِ رسول مقبولؐ 1874ء بمطابق 1290ہجری وزیر آباد کے ایک گاؤں کوٹ مہر تھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام ’’ خدا داد‘‘ اور تاریخی نام ظفر علی خاں ہے۔ 1892ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور محکمہ ڈاک و تار کشمیر میں ملا زم ہو گئے جہاں ان کے والد ایک اعلی افسر تھے۔ مگر ان کے آزادانہ مزاج نے ملازمت کوقبول نہ کیا اور وہ واپس علی گڑھ چلے گئے اور بی اے میں داخلہ لے لیا اور وہاں نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1895ء میں آپ نے درجہ اول میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی کا نووکیشن میں آپ کو طالب علموں کی طرف سے وائسرائے کی خدمت میں جو مہمان خصوصی تھے، سپاس نامہ پیش کرنے کی ذمہ دای سونپی گئی۔ مگر ظفر علی خاں نے وائسرائے کی تعریف و توصیف کرنے کی بجائے انگریزی سامراج کے خلاف تقریر کرڈالی جس پر ان کی بی اے کی ڈگری ضبط کر لی گئی۔ اس پر مولانا ظفر علی خا ں نے کہا کہ مجھے تمہاری ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ظفر علی خاں نے بی اے کر لیا ہے۔ ویسے بھی مولانا ظفر علی خاں انگریزی حکومت کی ملازمت پر تیار ہی نہ تھے کہ انہیں ڈگری کی ضرورت محسوس ہوتی۔ انہی دنوں بمبئی میں نواب محسن الملک کے پرائیویٹ سیکرٹری خواجہ غلام الثقلین کے مستعفی ہونے پر مولانا شبلی نعمانی کی وساطت سے یہ عہدہ انہیں سونپ دیا گیا۔ اس کے بعد 1896ء میں آپ نے حیدر آباد دکن میں نواب افسر الملک بہادر سپہ سالار افواج کے ہاں فوجی ملازمت کی۔اس کا سبب ایک واقعہ ہوا وہ یہ کہ آپ فوجی تقریب میں شریک تھے۔ جب سپاہیوں نے نیزہ بازی کا مظاہرہ کیا تو مولانا ظفر علی خاں کو بھی جوش آگیا اور انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر نیزہ بازی کا عمدہ مظاہر ہ کیا جس پر انہیں فوجی ملازمت کی پیش کش ہوئی جسے انہوں نے قبول کرلیا مگر جلدہی ایک انگریز افسر سے ان بن ہونے پر یہ ملازمت ترک کردی اور ریاست کے دارالترجمہ میں مترجم کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ یہیں انہوں نے مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق کتاب’’ الفاروق‘‘ کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جو 1939ء میں شیخ اشرف نے لاہور سے شائع کیا۔

حیدر آباد میں لیجسلیٹو کونسل (Legislative Council)کے رجسٹرار اور بعد میں اسسٹنٹ ہوم سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔ یہیں انہوں نے مختلف کتابوں کے تراجم کرنے کے ساتھ ساتھ ’’افسانہ‘‘ کے نام سے ماہنامہ جاری کیا اور ’’دکن ریویو‘‘ کے نام سے بھی ایک علمی پرچہ جاری کیا جو بعد میں بمبئی سے بھی نکلتا رہا۔ مولانا نے اودموسیٰ (حیدر آباد دکن) کی طغیانی کے سلسلہ میں ایک معرکتہ الآ رانظم ’’شورِ محشر‘‘ لکھی اور ’’جنگ روس و جاپان‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ بھی لکھا۔ اکتوبر 1909ء میں مولانا ظفر علی خاں کو مولوی عزیز مرزا، عبدالحلیم شرر اور صفی الدین کے ہمراہ چو بیس گھنٹے میں ریاست چھوڑنے کا حکم ملا جس پر وہ کرم آباد( وزیر آباد ) آگئے جہاں 6دسمبر 1909ء کو ان کے والد کی وفات کے بعد انہوں نے ’’زمیندار‘‘ کی ادارت سنبھالی اور ’’پنجاب ریویو‘‘ کے نام سے ایک ماہوار علمی پر چہ وزیر آباد سے جاری کیا۔

مئی 1911ء میں برکت علی اسلامیہ ہال میں علامہ اقبال کے انگریزی لیکچر کا ترجمہ ’’ ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا اور سر شہاب الدین کے مشورے پر ہفت روزہ زمیندار کو لاہور سے شائع کرنے لگے۔یوں پنجاب ریویو بھی لاہور سے شائع ہونے لگا۔ لاہور میں قیام کے دوران ان کی علامہ اقبال سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

5اکتوبر 1911ء سے آپ نے زمیندار کو روزنامہ بنادیا اور اس خبار کو ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنادیا۔ اس اخبار کے جرأت مندانہ انداز اور بے با کانہ تبصروں نے نہ صرف مسلمانانِ ہندکو اعتماد بخشا اور انہیں انگریزی حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف سینہ سپر ہونا سکھایا بلکہ اسلام کی عظمت اور دورِ جدید میں اس کی اہمیت سے بھی روشناس کرایا اور اپنے نعتیہ کلام سے مسلمانوں کے دلوں کو نورِ ایمانی سے منور بھی کیا۔

مولانا ظفر علی خاں نے بھارتی انتہا پسند تنظیموں شدھی اور سنگٹھن کے اسلام اور مسلمانوں پر کئے گئے رکیک حملوں کا دلیرانہ اور مردانہ وار مقابلہ کیا اور ہر گام پر انہیں منہ توڑ جواب دیا۔ اس کی ایک مثال ہندوؤں کے اخبار میں شائع ہونے والی نظم ’’ رگڑا‘‘ پر مولانا ظفر علی خاں کا فوری ردِ عمل اور اس کا جواب ’’ دھررگڑا‘‘ بھی دیا گیا جس کے الفاظ اگلے دن ہر مسلمان کی زبان پر تھے۔ یعنی

رگڑے پہ رگڑا دھر رگڑا

دم مست قلندر دھر رگڑا

مٹ جائے کفر دا سب جھگڑا

مولانا ظفر علی خاں دنیاوی آلودگیوں مثلاً رقص و سرود اور شراب و شباب سے گریز کرتے تھے یہاں تک کہ علی گڑھ میں قیام کے دوران بھی انہوں نے اپنی تعلیمی مصروفیات میں اس قسم کا کوئی خلل نہیں آنے دیا اور ان کی باقی زندگی بھی ان آلائشوں سے پاک نظر آتی ہے۔ البتہ وہ علی الصباح بیدار ہونے ، صبح کی سیر کرنے اور ورزش کرنے کے عادی تھے۔ مولانا عبدالمجید سالک کے مطابق وہ روزانہ صبح تین بجے کے قریب بیدار ہوتے اور دفتر زمیندار سے نہر کی طرف نکل جاتے۔ یہ چھ سات میل کا سفر طے کرتے ، دوڑلگاتے اور ڈنٹر پیلتے۔ اس دوران مولوی محبوب عالم( پیسہ اخبار) ، سرگنگارام، رائے بہاری، گنج بہاری اور مولوی سید ممتاز علی بھی ان کے ہمراہ ہوتے۔ ایک دن مولانا صبح ساڑھے تین بجے کرتہ پاجامہ پہنے ننگے سر سیر کو نکل گئے۔ایک پولیس والے نے شک کی بنا پر ان کا تعاقب شروع کردیا جس پر مولانا کو شرارت سوجھی اور انہوں نے دوڑ لگادی۔اس پر اس سپاہی نے بھی دوڑ لگائی اور ایک میل دور جا کر انہیں جالیا۔ پھر پہچان کر سلام کیا اور کہا کہ مولوی صاحب خدا کے لئے اس وقت ٹوپی اور کوٹ پہن کر نکلا کریں خوامخواہ ہم کو وہم میں نہ ڈالا کریں۔

مولانا عبدالمجید سالک کے مطابق مولانا کے احباب ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ادبی لطیفوں اور ان کی پھلبھڑیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے اور وہ ان کی خوب خاطر تواضع کرتے تھے۔ مگر عمر کے آخری حصے میں وہ خاموش اور بے حس و حرکت ہو گئے تھے اور چند سال بیمار رہنے کے بعد 27 نومبر 1956ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے۔دراصل قیامِ پاکستان کے بعد ان کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔ اب اس پاکستان کی بقا، ترقی اور کامرانی ہماری ذمہ داری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کریں گے اور قوم کو انگریزوں، ان کی زبان اور ان کی تہذیب کی غلامی سے نکال کر اس پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ اور اسلامی اقدار کا امین بنائیں گے اور اس ملک کے تعلیمی نصاب اور امور سلطنت سے انگریزی زبان کو نکال کر اپنی قومی زبان کو اس کا وارث بنائیں گے۔ اپنی نئی نسل کو انگریزوں کے رہنماؤں سے متعارف کروانے کی بجائے اپنے قومی ہیروز کے کارناموں سے روشناس کروائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے مولانا ظفر علی خاں کی روح عالمِ بالا میں بھی بے قرار رہے گی۔ آئیے ہم مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا عزم کریں جو انہوں نے اپنی نظم مستقبل کی ایک جھلک میں دیکھا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1