سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے تحفظ کا بل خلافاسلام ہے،علماء کرام

سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے تحفظ کا بل خلافاسلام ہے،علماء کرام

لاہور(خبر نگار خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا،مولانا عزیزالرحمن ثانی،قاری جمیل الرحمن اختر،میاں رضوان نفیس،مولانا سید ضیاء الحسن شاہ ،مولانا عبدالنعیم اور دیگرجیدعلماء کرام نے سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے تحفظ کے نام پربل کو خلاف اسلام قرار دیکریکسر مسترد کردیا ہے کہ جسمیں برضا و رغبت اسلام لانے پر پابندی عائد کی گئی ہے یہ پابندی سراسر اسلام و آئین سے انحراف ہے جسمیں کسی غیر مسلم کے 18سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر پابندی اورقابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا۔علماء نے کہا کہ قرآن کریم کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا جائز نہیں ہے اوریہ پابندی حق بجانب ہے مگر برضا ورغبت اسلام لانے پر پابندی اسلام اور ملک پاکستان کے خلاف سازش ہے ۔یہ بل تمام مضمرات پر غورکیے بغیر محض غیر مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے پاس کیا گیا ہے۔علماء کرام نے کہا کہ اسلام لانے پرپابندی کا یہ قانون شریعۃ اسلامیہ اورعدل وانصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔یہ بات درست ہے قرآن مجید کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا ہرگز جائز نہیں اور اس بات پر پابندی حق بجانب ہے لیکن دوسری طرف برضاو رغبت اسلام لانے پرپابندی آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔اس قسم کی زبردستی کا قانون اغیار کوخوش کرنے کے لیے سندھ اسمبلی نے پاس کیا ہے۔علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ وفاقی شرعی عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس بل کو غیر موثر قرار دے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...