سندھ حکومت نے مسلمانوں کے حقوق غضب کرنیکی کوشش کی،طاہر اشرفی

سندھ حکومت نے مسلمانوں کے حقوق غضب کرنیکی کوشش کی،طاہر اشرفی

لاہور(خبر نگار خصوصی)سندھ حکومت نے اقلیتوں کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کو غصب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام جبر کی بناء پر نہیں محبت کی بناء پر پھیلا ہے۔ اسلام قبول کرنے کی عمر 18سال مقرر کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کے حقوق کے معاملہ پر علماء اسلام نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ اندرون سندھ کے بعض علاقوں میں جبری نکاح کو اسلام سے منسوب کرنے والوں کیخلاف بھی پاکستان علماء کونسل اور دیگر جماعتوں نے عملی اقدامات کئے ہیں لیکن اسلام قبول کرنے پر 18سال عمر کی شرط ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبر کی بناء پر مسلمان بنانے کی کوشش کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت قوانین ہونے چاہئیں لیکن اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر دین اسلام قبول کرنے والوں کیلئے مشکلات پیدا نہیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے اس اقدام سے صوبہ میں انتشار پیدا ہوگا اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کی جدوجہد متأثر ہوگی۔ انہوں نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ اسمبلی کے اس اقدام پر فوری نظر ثانی کریں تاکہ ملک کے اندر پائی جانے والی تشویش کو ختم کیا جاسکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1