مغلپورہ کے مرکزی بازار میں وارداتیں عام ، صاف پانی غائب ، تاجر اور خریدار تنگ

مغلپورہ کے مرکزی بازار میں وارداتیں عام ، صاف پانی غائب ، تاجر اور خریدار تنگ

 لاہور(جنرل رپورٹر،وقائع نگار)مغلپورہ کے مرکزی بازار مین بازار گنج مغلپورہ میں پولیس کی جانب سے دن اور رات کے اوقات میں گشت نہ ہونے کی وجہ سے بازار چوری ، راہزنی،جیب تراشی کی وارداتیں ،گاہکوں نے مرکزی بازار کا رخ کرنا بند کر دیا ،ٹیوب ویل کے خراب ہونے کی وجہ سے تاجر اور علاقہ مکین کئی دنوں سے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں ان خیالات کا اظہار مین بازار مغلپورہ کے تاجروں نے " پاکستان"سروے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔مین بازار گنج مغلپورہ فیز ۱ کے صدر حاجی مقصود احمد نے بتایا کہ گنج بازار کا بنیادی مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ بازار کے تین سو سے زائد تاجروں کے لئے پولیس کی جانب سے کوئی سکیورٹی مہیاء نہیں کی گئی ۔گنج بازار جو کہ دو فیزوں پر مشتمل ہے میں دو انجمن تاجران ہیں انجمنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز رکھے ہوئے ہیں، پولیس فوری طور پر بازار میں سکیورٹی تعینات کرے۔ فیز ۱۱ کے جنرل سیکرٹری کلیم احمد نے کہا کہ بازار میں بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں ہے بازار میں موجود چار مسجدوں کے بیت الخلاء تاجر مجبوراً استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے خواتین جو شاپنگ کے لئے آتی ہیں ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے حکومت سے اپیل ہے کہ بازار میں بیت الخلاء کی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔تاجر محمد عامر نے بتایا کہ بازار میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ دہائیوں سے چل رہا ہے۔علاقہ میں پانی صاف کرنے کے دو فلٹر پلانٹ لگے ہیں لیکن وہ بازار سے کافی فاصلے پر ہیں اس کے علاوہ بازار میں چار پانی کے نلکے لگے ہیں مگر ان میں پانی سیوریج کے پانی سے مل کر آتا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا ۔تاجر نوید احمد نے کہا کہ پینے کا پانی اول تو گندا آتا ہے اور کئی دنوں سے علاقہ کا ٹیوب ویل خراب ہو گیا ہے اور اس کو ٹھیک نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔تاجر محمد زاہد نے کہا کہ ٹاؤن انتظامیہ نے بازار سے تھرے توڑ دیئے ہیں جو کہ اچھی بات ہے لیکن شیڈز کے حوالے سے فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم دھوپ میں کا کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر میاں مبشر سلیم نے کہا کہ بازار کی انجمن نے ایم این اے روحیل اصغر کے تعاون سے بازار میں سٹریٹ لائٹس لگوائی تھیں مگر ان میں سے بیشتر لائٹس فیوز ہو چکی ہیں اور ان کی مرمت کے حوالے سے کویہ اقدام نہیں کیا جا رہا ہے۔تاجر رانا نثار علی نے کہا کہ بازار میں صفائی کا نظام درست ہے،صفائی کا عملہ دن میں دو بار آتا ہے اور دکانداروں سے ماہانہ چھ سو روپے صفائی کے لیئے جاتے ہیں اور اس کی رسید بھی دی جاتی ہے۔تاجر حسن رضاء نے کہا کہ بازار میں شیڈ اترنے کے بعد بجلی کی تاروں کے گچھے ہر کونے میں لٹک جاتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1